<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 09:49:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 09:49:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ 2026-27: نئے ٹیکس کے بجائے 780 ارب روپے کے نفاذی اقدامات پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286164/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس متعارف کرانے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ اگلے مالی سال کے ریونیو ہدف کو نفاذ کے اقدامات اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جن سے 778 سے 780 ارب روپے تک آمدن متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی بجٹ برائے آئندہ مالی سال میں ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ حکومت ممکنہ ریونیو خسارے کو متبادل آمدنی کے ذرائع سے پورا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت تنخواہ دار طبقے، کارپوریٹ سیکٹر اور سپر ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس دہندگان کو ریلیف دیتی ہے تو اس سے ہونے والے ریونیو نقصان کو متبادل اقدامات کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔ تاہم، مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ ریلیف اقدامات کے باعث ہونے والے ریونیو خسارے کو پورا کرنے کے لیے ہی محصولات بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں گے، لیکن مجموعی طور پر ٹیکس اقدامات کا خالص اثر صفر رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اس سال نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر ٹیکس دہندگان کو کچھ ریلیف دیا جاتا ہے تو حکومت کو ممکنہ ریونیو کمی کو متوازن کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے مالی سال کا ریونیو ہدف صرف سخت نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جائے گا، جبکہ کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مالی سال 2026-27 اُن افراد کے لیے سخت ثابت ہوگا جو اپنی آمدن اور اثاثے کم ظاہر کرتے ہیں، چھپاتے ہیں یا ٹیکس نیٹ سے باہر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نفاذی اقدامات کے ذریعے اپنی وصولیاں مالی سال 2025-26 کے 389 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 778 ارب روپے تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے رواں مالی سال کے دوران نفاذی اقدامات کے ذریعے 389 ارب روپے وصول کیے ہیں۔ اس رقم میں تمباکو کے شعبے سے 50 ارب روپے سے زائد کی وصولیاں بھی شامل ہیں، جو غیر قانونی اور اسمگل شدہ سگریٹس کے خلاف جاری کارروائیوں کے نتیجے میں حاصل ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافی ریونیو حاصل کرنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے آئندہ مالی سال کے لیے نفاذی اقدامات کی مد میں 778 ارب روپے کا بلند ہدف مقرر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر نے مالی سال 2024-25 کے دوران نفاذی اقدامات کے ذریعے 874 ارب روپے وصول کیے تھے۔ مالی سال 2025-26 میں ادارے نے اس مد میں 389 ارب روپے کا ہدف حاصل کیا۔ جبکہ 2023-24 میں یہ وصولیاں صرف 105 ارب روپے تھیں۔ اس آٹھ گنا اضافے کی وجہ مخصوص مداخلتیں، ساختی اصلاحات اور گورننس میں تبدیلیاں قرار دی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق حکومت ٹیکس وصولی کی لاگت کم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے، جو اسی صورت ممکن ہے جب معاشرے کے تمام طبقات اپنی واجب الادا ٹیکس ادائیگی یقینی بنائیں۔ ایف بی آر اپنے آئی ٹی سسٹمز کو اس انداز میں بہتر بنا رہا ہے کہ وہ اُن افراد کو بھی ٹیکس ادائیگی کی طرف راغب کرے جو اپنی مکمل ٹیکس ذمہ داری ادا نہیں کر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس متعارف کرانے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ اگلے مالی سال کے ریونیو ہدف کو نفاذ کے اقدامات اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جن سے 778 سے 780 ارب روپے تک آمدن متوقع ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وفاقی بجٹ برائے آئندہ مالی سال میں ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ حکومت ممکنہ ریونیو خسارے کو متبادل آمدنی کے ذرائع سے پورا کرے گی۔</p>
<p>اگر حکومت تنخواہ دار طبقے، کارپوریٹ سیکٹر اور سپر ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس دہندگان کو ریلیف دیتی ہے تو اس سے ہونے والے ریونیو نقصان کو متبادل اقدامات کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔ تاہم، مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ ریلیف اقدامات کے باعث ہونے والے ریونیو خسارے کو پورا کرنے کے لیے ہی محصولات بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں گے، لیکن مجموعی طور پر ٹیکس اقدامات کا خالص اثر صفر رہے گا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اس سال نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر ٹیکس دہندگان کو کچھ ریلیف دیا جاتا ہے تو حکومت کو ممکنہ ریونیو کمی کو متوازن کرنا ہوگا۔</p>
<p>اگلے مالی سال کا ریونیو ہدف صرف سخت نفاذی اقدامات کے ذریعے حاصل کیا جائے گا، جبکہ کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مالی سال 2026-27 اُن افراد کے لیے سخت ثابت ہوگا جو اپنی آمدن اور اثاثے کم ظاہر کرتے ہیں، چھپاتے ہیں یا ٹیکس نیٹ سے باہر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نفاذی اقدامات کے ذریعے اپنی وصولیاں مالی سال 2025-26 کے 389 ارب روپے سے بڑھا کر 2026-27 میں 778 ارب روپے تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے رواں مالی سال کے دوران نفاذی اقدامات کے ذریعے 389 ارب روپے وصول کیے ہیں۔ اس رقم میں تمباکو کے شعبے سے 50 ارب روپے سے زائد کی وصولیاں بھی شامل ہیں، جو غیر قانونی اور اسمگل شدہ سگریٹس کے خلاف جاری کارروائیوں کے نتیجے میں حاصل ہوئیں۔</p>
<p>اضافی ریونیو حاصل کرنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم نے آئندہ مالی سال کے لیے نفاذی اقدامات کی مد میں 778 ارب روپے کا بلند ہدف مقرر کیا ہے۔</p>
<p>ایف بی آر نے مالی سال 2024-25 کے دوران نفاذی اقدامات کے ذریعے 874 ارب روپے وصول کیے تھے۔ مالی سال 2025-26 میں ادارے نے اس مد میں 389 ارب روپے کا ہدف حاصل کیا۔ جبکہ 2023-24 میں یہ وصولیاں صرف 105 ارب روپے تھیں۔ اس آٹھ گنا اضافے کی وجہ مخصوص مداخلتیں، ساختی اصلاحات اور گورننس میں تبدیلیاں قرار دی جا رہی ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق حکومت ٹیکس وصولی کی لاگت کم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے، جو اسی صورت ممکن ہے جب معاشرے کے تمام طبقات اپنی واجب الادا ٹیکس ادائیگی یقینی بنائیں۔ ایف بی آر اپنے آئی ٹی سسٹمز کو اس انداز میں بہتر بنا رہا ہے کہ وہ اُن افراد کو بھی ٹیکس ادائیگی کی طرف راغب کرے جو اپنی مکمل ٹیکس ذمہ داری ادا نہیں کر رہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286164</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 08:55:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1208532144ba614.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1208532144ba614.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
