<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:34:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:34:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنوں حملہ : پاکستان کا افغان طالبان سے شدید احتجاج، احتجاجی مراسلہ جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286156/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کرکے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر ہونے والے مہلک دہشت گردانہ حملے پر افغان طالبان انتظامیہ سے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ احتجاج 9 مئی کو بنوں کے علاقے ’فتح خیل‘ میں پولیس چوکی پر ہونے والے کار بم حملے کے تناظر میں کیا گیا، جس میں 15 پولیس اہلکار شہید اور ایک شہری سمیت چار افراد زخمی ہوئے تھے۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات اور تکنیکی شواہد سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستانی حدود میں حملوں کے لیے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور افغان طالبان انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور تصدیق شدہ کارروائی کرے۔ بیان میں افغان حکام کو ان کا وہ وعدہ بھی یاد دلایا گیا جس کے تحت وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے پابند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کی نشاندہی کر چکی ہیں۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے واضح کیا کہ سفارتی ذرائع اور دوست ممالک کے تعاون سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ہوئے، لیکن سرحد پار دہشت گردی میں ملوث گروہوں کے خلاف کوئی موثر ایکشن نہیں لیا گیا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور حملے کے ذمہ داروں کو جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بنوں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ ایران نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور ایرانی سفیر رضا امیری نے حکومتِ پاکستان اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کرکے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر ہونے والے مہلک دہشت گردانہ حملے پر افغان طالبان انتظامیہ سے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔</strong></p>
<p>دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ احتجاج 9 مئی کو بنوں کے علاقے ’فتح خیل‘ میں پولیس چوکی پر ہونے والے کار بم حملے کے تناظر میں کیا گیا، جس میں 15 پولیس اہلکار شہید اور ایک شہری سمیت چار افراد زخمی ہوئے تھے۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات اور تکنیکی شواہد سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے کی تھی۔</p>
<p>پاکستان نے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستانی حدود میں حملوں کے لیے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور افغان طالبان انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور تصدیق شدہ کارروائی کرے۔ بیان میں افغان حکام کو ان کا وہ وعدہ بھی یاد دلایا گیا جس کے تحت وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے پابند ہیں۔</p>
<p>دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کی نشاندہی کر چکی ہیں۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔</p>
<p>پاکستان نے واضح کیا کہ سفارتی ذرائع اور دوست ممالک کے تعاون سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ہوئے، لیکن سرحد پار دہشت گردی میں ملوث گروہوں کے خلاف کوئی موثر ایکشن نہیں لیا گیا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور حملے کے ذمہ داروں کو جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بنوں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ ایران نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور ایرانی سفیر رضا امیری نے حکومتِ پاکستان اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286156</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 18:17:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/11181406000435e.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/11181406000435e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
