<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 08:08:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Jul 2026 08:08:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ میں 230 ارب کے نئے ٹیکسز کی تیاری، بزنس مین پینل کا سخت ردِعمل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286152/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی صفِ اول کی کاروباری تنظیم نے آئی ایم ایف سے منسلک آئندہ وفاقی بجٹ میں 230 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کرنے کے حکومتی منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین بزنس مین پینل (بی ایم پی) میاں انجم نثار نے کہا ہے کہ کاروباری طبقہ پہلے ہی توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگی فنانسنگ، کرنسی کی غیر یقینی صورتحال اور صارفین کی کمزور طلب جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق مزید ٹیکسوں کا بوجھ عائد کرنے سے یہ بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں انجم نثار نے کہا کہ قومی ریونیو کا تمام بوجھ ہمیشہ انہی پرانے ٹیکس دہندگان اور صنعتوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے اس کے بجائے ایسے ترقیاتی بجٹ کا مطالبہ کیا جو صنعتوں کی بحالی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے پر مرکوز ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی صفِ اول کی کاروباری تنظیم نے آئی ایم ایف سے منسلک آئندہ وفاقی بجٹ میں 230 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کرنے کے حکومتی منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔</strong></p>
<p>چیئرمین بزنس مین پینل (بی ایم پی) میاں انجم نثار نے کہا ہے کہ کاروباری طبقہ پہلے ہی توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگی فنانسنگ، کرنسی کی غیر یقینی صورتحال اور صارفین کی کمزور طلب جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق مزید ٹیکسوں کا بوجھ عائد کرنے سے یہ بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔</p>
<p>میاں انجم نثار نے کہا کہ قومی ریونیو کا تمام بوجھ ہمیشہ انہی پرانے ٹیکس دہندگان اور صنعتوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے اس کے بجائے ایسے ترقیاتی بجٹ کا مطالبہ کیا جو صنعتوں کی بحالی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے پر مرکوز ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286152</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 16:22:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/111617550135643.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/111617550135643.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
