<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 00:37:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 00:37:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>این ایس سی ایل نے وفاقی وزیر تجارت کو دہرے ٹیکسوں پر تحفظات سے آگاہ کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286136/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل اسٹیل کمپلیکس لمیٹڈ (این ایس سی ایل) کے وفد اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں صنعتی مسابقت، ٹیرف کی معقول سازی، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ اور اسٹیل و انجینئرنگ کے شعبوں کو درپیش آپریشنل چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو جاری اعلامیے کے مطابق وفد نے وفاقی وزیر کو خام مال  انٹرمیڈیٹ گڈز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کے ذریعے تیار کردہ مصنوعات پر لاگو موجودہ ڈیوٹی اسٹرکچر سے پیدا ہونے والے تحفظات پر بریفنگ دی۔ واضح رہے کہ  این ایس سی ایل اسٹیل مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا کمپلیکس ہے جو کراچی کے علاقے بن قاسم میں 220 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ایس سی ایل کے وفد نے وضاحت کی کہ ٹیرف ایریا میں خام مال درآمد کرنے والی صنعتوں کو درآمدی مرحلے پر کسٹم ڈیوٹی ادا کرنی پڑتی ہے، جبکہ جب پروسیس شدہ یا ویلیو ایڈڈ مصنوعات ای پی زیز سے واپس ٹیرف ایریا میں آتی ہیں تو ان پر دوبارہ اضافی ڈیوٹیز عائد کر دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے وزیر کو آگاہ کیا کہ موجودہ طریقہ کار کے نتیجے میں صنعتی مصنوعات پر ڈبل ٹیکسیشن(دہرا ٹیکس) ہو رہا ہے جس سے مینوفیکچرنگ لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، خاص طور پر ان صنعتوں کے لیے جو مشیننگ، لائننگ، کوٹنگ، فیبریکیشن اور دیگر ویلیو ایڈڈ صنعتی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ڈیوٹی صرف اس اضافی قدر پر لاگو ہونی چاہیے جو ای پی زیڈ کے اندر پیدا کی گئی ہو، نہ کہ تیار شدہ مصنوعات کی کل مالیت پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے دوران یہ واضح کیا گیا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی ) بنیادی طور پر ٹیرف سے متعلق معاملات پر ایک تکنیکی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے جو ٹیرف اسٹرکچر اور تجارتی تلافی کے اقدامات کے حوالے سے تجزیاتی اور مشاورتی تعاون فراہم کرتا ہے۔ کمیشن مقامی مینوفیکچررز کے تحفظ کے لیے غیر ملکی برآمد کنندگان کے غیر منصفانہ تجارتی ہتھکنڈوں کے خلاف حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ کسٹم ویلیویشن، صنعتی لاگت، ریگولیٹری نفاذ اور شعبہ جاتی تعمیل جیسے معاملات ایف بی آر، وزارتِ صنعت اور دیگر متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر کو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بدلتے ہوئے ٹیرف ڈھانچے اور بدلتے ہوئے معاشی حالات کی وجہ سے طویل مدتی صنعتی منصوبوں کو درپیش چیلنجز سے بھی آگاہ کیا گیا۔ شرکاء نے مشاہدہ کیا کہ کئی منصوبے اس وقت شروع کیے گئے تھے جب معاشی اور صنعتی حالات بالکل مختلف تھے، جبکہ موجودہ آپریشنل حقائق نے مینوفیکچررز پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے وفد کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کو تسلیم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان میں صنعتی ترقی، برآمدی مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیشن کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی کو عملی اور صنعتی آپریشنز کے حقائق کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس شعبے کے لیے قابلِ عمل اور قانونی طور پر پائیدار حل تلاش کرنے میں صنعتی اسٹیک ہولڈرز کی تکنیکی مہارت اور عملی تجربے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ای پی زیڈ اے، کسٹم حکام، ٹیرف ماہرین اور صنعت کے نمائندوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری رکھیں، تاکہ اس معاملے کا جامع جائزہ لیا جا سکے اور ایسے طریقہ کار تلاش کیے جائیں جو شفافیت اور ریگولیٹری تعمیل کو برقرار رکھتے ہوئے صنعتی ترقی میں سہولت فراہم کریں۔ ملاقات میں صنعتی تیاریوں، مشینری کی خریداری، ٹھیکیداروں کے درمیان ہم آہنگی اور ملک میں صنعتی منصوبوں کے ہموار نفاذ اور توسیع کے لیے درکار ادارہ جاتی سہولیات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل اسٹیل کمپلیکس لمیٹڈ (این ایس سی ایل) کے وفد اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں صنعتی مسابقت، ٹیرف کی معقول سازی، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ اور اسٹیل و انجینئرنگ کے شعبوں کو درپیش آپریشنل چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</strong></p>
<p>پیر کو جاری اعلامیے کے مطابق وفد نے وفاقی وزیر کو خام مال  انٹرمیڈیٹ گڈز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کے ذریعے تیار کردہ مصنوعات پر لاگو موجودہ ڈیوٹی اسٹرکچر سے پیدا ہونے والے تحفظات پر بریفنگ دی۔ واضح رہے کہ  این ایس سی ایل اسٹیل مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا کمپلیکس ہے جو کراچی کے علاقے بن قاسم میں 220 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔</p>
<p>این ایس سی ایل کے وفد نے وضاحت کی کہ ٹیرف ایریا میں خام مال درآمد کرنے والی صنعتوں کو درآمدی مرحلے پر کسٹم ڈیوٹی ادا کرنی پڑتی ہے، جبکہ جب پروسیس شدہ یا ویلیو ایڈڈ مصنوعات ای پی زیز سے واپس ٹیرف ایریا میں آتی ہیں تو ان پر دوبارہ اضافی ڈیوٹیز عائد کر دی جاتی ہیں۔</p>
<p>وفد نے وزیر کو آگاہ کیا کہ موجودہ طریقہ کار کے نتیجے میں صنعتی مصنوعات پر ڈبل ٹیکسیشن(دہرا ٹیکس) ہو رہا ہے جس سے مینوفیکچرنگ لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، خاص طور پر ان صنعتوں کے لیے جو مشیننگ، لائننگ، کوٹنگ، فیبریکیشن اور دیگر ویلیو ایڈڈ صنعتی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ڈیوٹی صرف اس اضافی قدر پر لاگو ہونی چاہیے جو ای پی زیڈ کے اندر پیدا کی گئی ہو، نہ کہ تیار شدہ مصنوعات کی کل مالیت پر۔</p>
<p>گفتگو کے دوران یہ واضح کیا گیا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی ) بنیادی طور پر ٹیرف سے متعلق معاملات پر ایک تکنیکی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے جو ٹیرف اسٹرکچر اور تجارتی تلافی کے اقدامات کے حوالے سے تجزیاتی اور مشاورتی تعاون فراہم کرتا ہے۔ کمیشن مقامی مینوفیکچررز کے تحفظ کے لیے غیر ملکی برآمد کنندگان کے غیر منصفانہ تجارتی ہتھکنڈوں کے خلاف حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کا ذمہ دار ہے۔ کسٹم ویلیویشن، صنعتی لاگت، ریگولیٹری نفاذ اور شعبہ جاتی تعمیل جیسے معاملات ایف بی آر، وزارتِ صنعت اور دیگر متعلقہ ریگولیٹری اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر کو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بدلتے ہوئے ٹیرف ڈھانچے اور بدلتے ہوئے معاشی حالات کی وجہ سے طویل مدتی صنعتی منصوبوں کو درپیش چیلنجز سے بھی آگاہ کیا گیا۔ شرکاء نے مشاہدہ کیا کہ کئی منصوبے اس وقت شروع کیے گئے تھے جب معاشی اور صنعتی حالات بالکل مختلف تھے، جبکہ موجودہ آپریشنل حقائق نے مینوفیکچررز پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>جام کمال خان نے وفد کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کو تسلیم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان میں صنعتی ترقی، برآمدی مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیشن کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی کو عملی اور صنعتی آپریشنز کے حقائق کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس شعبے کے لیے قابلِ عمل اور قانونی طور پر پائیدار حل تلاش کرنے میں صنعتی اسٹیک ہولڈرز کی تکنیکی مہارت اور عملی تجربے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔</p>
<p>جام کمال خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ای پی زیڈ اے، کسٹم حکام، ٹیرف ماہرین اور صنعت کے نمائندوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری رکھیں، تاکہ اس معاملے کا جامع جائزہ لیا جا سکے اور ایسے طریقہ کار تلاش کیے جائیں جو شفافیت اور ریگولیٹری تعمیل کو برقرار رکھتے ہوئے صنعتی ترقی میں سہولت فراہم کریں۔ ملاقات میں صنعتی تیاریوں، مشینری کی خریداری، ٹھیکیداروں کے درمیان ہم آہنگی اور ملک میں صنعتی منصوبوں کے ہموار نفاذ اور توسیع کے لیے درکار ادارہ جاتی سہولیات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286136</guid>
      <pubDate>Mon, 11 May 2026 13:12:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/111303006ac6d35.webp" type="image/webp" medium="image" height="899" width="1599">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/111303006ac6d35.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
