<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 19:25:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 27 Jun 2026 19:25:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جرمنی نے امریکا سے ٹوماہاک میزائل خریدنے کی کوششیں دوبارہ شروع کردیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286103/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمنی ایک بار پھر امریکا سے ٹوماہاک کروز میزائل خریدنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے اتوار کے روز برلن کی حکمتِ عملی سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جرمنی امید کر رہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو ٹوماہاک میزائلوں کے ساتھ ان کے ٹائفون گراؤنڈ لانچرز کی فروخت پر آمادہ کر لے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع اور جرمن وزارتِ دفاع نے اس حوالے سے فوری طور پر رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمن وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس واشنگٹن کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسلحہ نظام کی خریداری کی تجویز کو دوبارہ فعال کیا جا سکے، جو پہلی بار گزشتہ سال جولائی میں پیش کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کی جانب سے تاحال اس تجویز پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ دورہ اس بات سے مشروط ہے کہ آیا بورس پسٹوریئس اپنے امریکی ہم منصب پیٹ ہیگستھ سے ملاقات یقینی بنا پاتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوماہاک لینڈ اٹیک میزائل ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا کروز میزائل ہے، جو عموماً سمندر سے فائر کیا جاتا ہے اور گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری میں پینٹاگون نے کہا تھا کہ اس نے ریتھیون کمپنی کے ساتھ سات سالہ معاہدہ کیا ہے تاکہ ٹوماہاک میزائلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے، کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکی ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جرمنی ایک بار پھر امریکا سے ٹوماہاک کروز میزائل خریدنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے اتوار کے روز برلن کی حکمتِ عملی سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق جرمنی امید کر رہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو ٹوماہاک میزائلوں کے ساتھ ان کے ٹائفون گراؤنڈ لانچرز کی فروخت پر آمادہ کر لے گا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس، امریکی محکمہ دفاع اور جرمن وزارتِ دفاع نے اس حوالے سے فوری طور پر رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمن وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس واشنگٹن کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسلحہ نظام کی خریداری کی تجویز کو دوبارہ فعال کیا جا سکے، جو پہلی بار گزشتہ سال جولائی میں پیش کی گئی تھی۔</p>
<p>امریکا کی جانب سے تاحال اس تجویز پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ دورہ اس بات سے مشروط ہے کہ آیا بورس پسٹوریئس اپنے امریکی ہم منصب پیٹ ہیگستھ سے ملاقات یقینی بنا پاتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>ٹوماہاک لینڈ اٹیک میزائل ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا کروز میزائل ہے، جو عموماً سمندر سے فائر کیا جاتا ہے اور گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>فروری میں پینٹاگون نے کہا تھا کہ اس نے ریتھیون کمپنی کے ساتھ سات سالہ معاہدہ کیا ہے تاکہ ٹوماہاک میزائلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے، کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکی ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286103</guid>
      <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:53:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/101452323292319.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/101452323292319.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
