<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 22:24:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 22:24:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کی شرح میں 0.79 فیصد اضافہ، 22 اشیا کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286059/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حالیہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کی شرح  میں 0.79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق 7 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) پر مبنی مہنگائی کے رجحان میں اضافہ برقرار رہا اور اس میں 0.79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ چکن کی قیمتوں میں 12.82 فیصد، ڈیزل میں 5.10 فیصد اور گندم کے آٹے کی قیمت میں 3.42 فیصد اضافہ ہے، پٹرول کی قیمت میں بھی 1.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہی کی قیمتوں میں 1.63 فیصد، تازہ دودھ میں 1.33 فیصد، بڑے گوشت (بیف) میں 0.65 فیصد، تیار چائے میں 0.53 فیصد، چھوٹے گوشت (مٹن) میں 0.50 فیصد، آلو میں 0.48 فیصد، کپڑے دھونے کے صابن میں 0.12 فیصد اور سگریٹ کی قیمت میں 0.08 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سالانہ بنیادوں پر  زیرِ جائزہ ہفتے کے دوران حساس قیمت انڈیکس میں 1.18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ایک ہفتہ قبل ریکارڈ کیے گئے 13.98 فیصد سے بڑھ کر 15.16 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیاد پر بڑی حد تک قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں پیٹرول 58.32 فیصد، ڈیزل 55.76 فیصد، بجلی کے چارجز (Q1) 52.58 فیصد، گندم کا آٹا 50.65 فیصد، ایل پی جی 48.82 فیصد، پیاز 41.97 فیصد، بکرے کا گوشت 16.10 فیصد، لال مرچ پاؤڈر 15.20 فیصد، لہسن 12.90 فیصد، گائے کا گوشت 12.65 فیصد، خشک دودھ 10.53 فیصد اور کیلے 9.64 فیصد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر ٹماٹر کی قیمت میں 7.08 فیصد، لہسن میں 1.19 فیصد، انڈوں میں 1.22 فیصد، ایل پی جی  میں 1.08 فیصد، مسور کی دال میں 0.43 فیصد، پیاز میں 0.38 فیصد، چنے کی دال میں 0.36 فیصد، ایری 6/9 چاول میں 0.30 فیصد اور گڑ کی قیمت میں 0.19 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سالانہ بنیادوں پر آلو کی قیمت میں 44.58 فیصد، چنے کی دال میں 20.29 فیصد، چینی میں 13.76 فیصد، نمک پاؤڈر میں 13.26 فیصد، مسور کی دال میں 11.74 فیصد، انڈوں میں 7.88 فیصد، چکن میں 1.80 فیصد اور مونگ کی دال کی قیمت میں 1.60 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں، 14 اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 15 اشیا کی قیمتوں میں استحکام ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 17,732 روپے تک ماہانہ آمدنی والے گھرانوں کے لیے مہنگائی میں 12.14 فیصد اضافہ ہوا اور ایس پی آئی انڈیکس 298.24 سے بڑھ کر 334.45 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اسی طرح 17,733 سے 22,888 روپے تک کمانے والوں کے لئے 15.02 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا جو 295.19 سے بڑھ کر 339.53 پوائنٹس ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;22,889 سے 29,517 روپے تک کمانے والے گھرانوں کے لیے ایس پی آئی میں 13.37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 319.46 سے بڑھ کر 362.18 پوائنٹس تک پہنچ گیا جبکہ 29,518 سے 44,175 روپے والے بریکٹ میں 13.34 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ 310.22 سے بڑھ کر 351.60 پوائنٹس ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ آمدنی والے گروپ (44,175 روپے اور اس سے اوپر) کے لیے ایس پی آئی میں 14.42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 313.08 سے چھلانگ لگا کر 359.47 پوائنٹس تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حالیہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کی شرح  میں 0.79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق 7 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت انڈیکس (ایس پی آئی) پر مبنی مہنگائی کے رجحان میں اضافہ برقرار رہا اور اس میں 0.79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ چکن کی قیمتوں میں 12.82 فیصد، ڈیزل میں 5.10 فیصد اور گندم کے آٹے کی قیمت میں 3.42 فیصد اضافہ ہے، پٹرول کی قیمت میں بھی 1.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>دہی کی قیمتوں میں 1.63 فیصد، تازہ دودھ میں 1.33 فیصد، بڑے گوشت (بیف) میں 0.65 فیصد، تیار چائے میں 0.53 فیصد، چھوٹے گوشت (مٹن) میں 0.50 فیصد، آلو میں 0.48 فیصد، کپڑے دھونے کے صابن میں 0.12 فیصد اور سگریٹ کی قیمت میں 0.08 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>دوسری جانب سالانہ بنیادوں پر  زیرِ جائزہ ہفتے کے دوران حساس قیمت انڈیکس میں 1.18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ایک ہفتہ قبل ریکارڈ کیے گئے 13.98 فیصد سے بڑھ کر 15.16 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>سالانہ بنیاد پر بڑی حد تک قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں پیٹرول 58.32 فیصد، ڈیزل 55.76 فیصد، بجلی کے چارجز (Q1) 52.58 فیصد، گندم کا آٹا 50.65 فیصد، ایل پی جی 48.82 فیصد، پیاز 41.97 فیصد، بکرے کا گوشت 16.10 فیصد، لال مرچ پاؤڈر 15.20 فیصد، لہسن 12.90 فیصد، گائے کا گوشت 12.65 فیصد، خشک دودھ 10.53 فیصد اور کیلے 9.64 فیصد شامل ہیں۔</p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر ٹماٹر کی قیمت میں 7.08 فیصد، لہسن میں 1.19 فیصد، انڈوں میں 1.22 فیصد، ایل پی جی  میں 1.08 فیصد، مسور کی دال میں 0.43 فیصد، پیاز میں 0.38 فیصد، چنے کی دال میں 0.36 فیصد، ایری 6/9 چاول میں 0.30 فیصد اور گڑ کی قیمت میں 0.19 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب سالانہ بنیادوں پر آلو کی قیمت میں 44.58 فیصد، چنے کی دال میں 20.29 فیصد، چینی میں 13.76 فیصد، نمک پاؤڈر میں 13.26 فیصد، مسور کی دال میں 11.74 فیصد، انڈوں میں 7.88 فیصد، چکن میں 1.80 فیصد اور مونگ کی دال کی قیمت میں 1.60 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں، 14 اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 15 اشیا کی قیمتوں میں استحکام ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 17,732 روپے تک ماہانہ آمدنی والے گھرانوں کے لیے مہنگائی میں 12.14 فیصد اضافہ ہوا اور ایس پی آئی انڈیکس 298.24 سے بڑھ کر 334.45 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اسی طرح 17,733 سے 22,888 روپے تک کمانے والوں کے لئے 15.02 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا جو 295.19 سے بڑھ کر 339.53 پوائنٹس ہوگیا۔</p>
<p>22,889 سے 29,517 روپے تک کمانے والے گھرانوں کے لیے ایس پی آئی میں 13.37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 319.46 سے بڑھ کر 362.18 پوائنٹس تک پہنچ گیا جبکہ 29,518 سے 44,175 روپے والے بریکٹ میں 13.34 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ 310.22 سے بڑھ کر 351.60 پوائنٹس ہو گیا۔</p>
<p>سب سے زیادہ آمدنی والے گروپ (44,175 روپے اور اس سے اوپر) کے لیے ایس پی آئی میں 14.42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 313.08 سے چھلانگ لگا کر 359.47 پوائنٹس تک جا پہنچا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286059</guid>
      <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:22:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/09125626cc99322.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/09125626cc99322.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
