<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:34:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:34:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے یو اے ای طرز کے گاڑیوں کی تزئینِ نو اور دوبارہ برآمدی فریم ورک کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286048/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) نے استعمال شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی درآمد، ریفربشمنٹ (مرمت و آرائش) اور دوبارہ برآمد  کے فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس سے 300 ملین ڈالر تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے سے واقف حکام کے مطابق یہ منصوبہ وزارت تجارت، وزارت صنعت و پیداوار، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) جیسے متعدد سرکاری اداروں کے درمیان ریگولیٹری ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث اکتوبر 2023 سے رکا ہوا تھا۔ تاہم اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی ) کی معاونت کے بعد 27 اپریل 2026 کو ای سی سی نے اسے منظور کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ ایس آئی ایف سی  نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بھرپور کوششیں کیں، تاکہ آئی پی او 2022 اور  ای ایف ایس  2021 کے ڈھانچوں کو ہم آہنگ کرکے پاکستان کا پہلا امپورٹ ریفربشمنٹ ایکسپورٹ(آئی آر ای) ماڈل تشکیل دیا جا سکے۔ایس آئی ایف سی ایک اعلیٰ سطح کا ادارہ ہے جسے حکومت نے غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنے کے لیے سنگل ونڈو انٹرفیس کے طور پر قائم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منظور شدہ طریقہ کار کے تحت استعمال شدہ گاڑیاں اور پرزہ جات صرف ای ڈی بی  سے تصدیق شدہ آپریٹرز ہی درآمد کر سکیں گے اور یہ پورا عمل برآمدات پر مبنی ریگولیٹری فریم ورک کے ماتحت ہوگا۔ یہ ماڈل دبئی کے جبل علی ریفربشمنٹ ایکسپورٹ ماڈل سمیت عالمی بہترین طریقوں سے اخذ کیا گیا ہے، جس میں گاڑیوں کو مقررہ وقت کے اندر دوبارہ برآمد کرنا لازمی ہوگا اور ان کی مقامی فروخت پر پابندی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کو ڈرافٹ آٹو پالیسی 2026-31 کا حصہ بھی بنا دیا گیا ہے ،تاکہ پاکستان کو گاڑیوں کی ریفربشمنٹ کی عالمی ویلیو چین میں شامل کیا جا سکے۔ اس منصوبے سے ابتدائی طور پر 20 سے 30 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی امید ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ کر 300 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس سے برآمدی آمدنی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی (ای سی سی) نے استعمال شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی درآمد، ریفربشمنٹ (مرمت و آرائش) اور دوبارہ برآمد  کے فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس سے 300 ملین ڈالر تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔</strong></p>
<p>اس معاملے سے واقف حکام کے مطابق یہ منصوبہ وزارت تجارت، وزارت صنعت و پیداوار، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) جیسے متعدد سرکاری اداروں کے درمیان ریگولیٹری ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث اکتوبر 2023 سے رکا ہوا تھا۔ تاہم اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی ) کی معاونت کے بعد 27 اپریل 2026 کو ای سی سی نے اسے منظور کر لیا۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ ایس آئی ایف سی  نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بھرپور کوششیں کیں، تاکہ آئی پی او 2022 اور  ای ایف ایس  2021 کے ڈھانچوں کو ہم آہنگ کرکے پاکستان کا پہلا امپورٹ ریفربشمنٹ ایکسپورٹ(آئی آر ای) ماڈل تشکیل دیا جا سکے۔ایس آئی ایف سی ایک اعلیٰ سطح کا ادارہ ہے جسے حکومت نے غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنے کے لیے سنگل ونڈو انٹرفیس کے طور پر قائم کیا ہے۔</p>
<p>منظور شدہ طریقہ کار کے تحت استعمال شدہ گاڑیاں اور پرزہ جات صرف ای ڈی بی  سے تصدیق شدہ آپریٹرز ہی درآمد کر سکیں گے اور یہ پورا عمل برآمدات پر مبنی ریگولیٹری فریم ورک کے ماتحت ہوگا۔ یہ ماڈل دبئی کے جبل علی ریفربشمنٹ ایکسپورٹ ماڈل سمیت عالمی بہترین طریقوں سے اخذ کیا گیا ہے، جس میں گاڑیوں کو مقررہ وقت کے اندر دوبارہ برآمد کرنا لازمی ہوگا اور ان کی مقامی فروخت پر پابندی ہوگی۔</p>
<p>اس اقدام کو ڈرافٹ آٹو پالیسی 2026-31 کا حصہ بھی بنا دیا گیا ہے ،تاکہ پاکستان کو گاڑیوں کی ریفربشمنٹ کی عالمی ویلیو چین میں شامل کیا جا سکے۔ اس منصوبے سے ابتدائی طور پر 20 سے 30 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی امید ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ کر 300 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس سے برآمدی آمدنی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286048</guid>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 17:25:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/0817020009ea471.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/0817020009ea471.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
