<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 21:45:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 27 Jun 2026 21:45:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ، ایران کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286033/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیج میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جبکہ متحدہ عرب امارات ایک بار پھر حملوں کی زد میں آ گیا، جس سے ایک ماہ پرانی جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی اور بحران کے سفارتی حل کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لڑائی میں یہ شدت  ایسے وقت میں سامنے آئی جب واشنگٹن تہران کی جانب سے تنازع کے خاتمے کی اس تجویز کے جواب کا انتظار کر رہا تھا جس کا آغاز 28 فروری کو ایران بھر میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں سے ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ جب امریکہ کے تین بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے تو ان پر حملہ کیا گیا۔ یہ آبنائے دنیا بھر میں تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور ایل این جی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، جسے ایران نے تنازع کے آغاز کے بعد سے تقریباً مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ کے تین عالمی معیار کے تباہ کن بحری جہاز فائرنگ کے تبادلے کے باوجود آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے۔ ان میں سے کسی بھی جہاز کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم ایرانی حملہ آوروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور انہوں نے اس جھڑپ کی اہمیت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116535672760322109'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116535672760322109'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج ہمارے ساتھ الجھنے کی کوشش کی، لیکن ہم نے انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی اعلیٰ جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور ایک دوسرے جہاز کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ بھی کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جزیرہ قشم اور قریبی ساحلی علاقوں میں شہری آبادی پر فضائی حملے کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے مشرق اور بندرگاہ چاہ بہار کے جنوب میں امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کر کے جوابی کارروائی کی۔ ایران کے سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں سے امریکی فورسز کو نمایاں نقصان پہنچا  تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ان کے کسی بھی اثاثے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2052502030778843379?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2052502030778843379?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایران کے پریس ٹی وی نے بعد ازاں اطلاع دی کہ کئی گھنٹوں کی گولہ باری کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزائر اور ساحلی شہروں میں صورتحال دوبارہ معمول پر آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا ہے جس کے دوران ایران نے متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات پر ہونے والے تازہ ترین حملے کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہو سکیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے بارہا متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو ایشیا میں ابتدائی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جہاں تازہ جھڑپوں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ دوسری جانب اس ہفتے تنازع کے جلد حل کی امیدوں پر ہونے والے نمایاں اضافے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان غالب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ اسٹریٹ مارکیٹس میں ایکویٹی ریسرچ کی سربراہ ماریہ ویٹ مین نے کہا ہے کہ جاری کشیدگی اور تیل کی اب بھی بلند قیمتوں کے باوجود مارکیٹیں اس صورتحال کو محدود مدت تک جاری رہنے کے امکان کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ کا مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے پر زور&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے جمعرات کو ہونے والی جھڑپوں کے باوجود تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کو درست سمت میں قرار دیتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ حالیہ حملوں سے قبل امریکہ نے ایک ایسی تجویز پیش کی تھی جس کے ذریعے تنازع کو باضابطہ طور پر ختم تو کیا جا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران نے کہا ہے کہ اس نے ابھی تک اس منصوبے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود ٹرمپ نے کہا کہ تہران نے ان کے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممانعت امریکی تجویز میں واضح طور پر درج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروجیکٹ فریڈم  کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کے دوران امریکہ سے ایسا نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار شاندار رہا ہے۔ وہاں کی قیادت بہت ہی زبردست رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم اس (منصوبے) پر واپس جائیں گے۔ انہوں نے ہم سے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایسا نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکن آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق فروری کے آخر سے اب تک امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جو تقریباً 1.20 ڈالر فی گیلن بڑھ کر 4 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں آنے والی رکاوٹیں ہیں جنہوں نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیج میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جبکہ متحدہ عرب امارات ایک بار پھر حملوں کی زد میں آ گیا، جس سے ایک ماہ پرانی جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی اور بحران کے سفارتی حل کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچا۔</strong></p>
<p>لڑائی میں یہ شدت  ایسے وقت میں سامنے آئی جب واشنگٹن تہران کی جانب سے تنازع کے خاتمے کی اس تجویز کے جواب کا انتظار کر رہا تھا جس کا آغاز 28 فروری کو ایران بھر میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں سے ہوا تھا۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ جب امریکہ کے تین بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے تو ان پر حملہ کیا گیا۔ یہ آبنائے دنیا بھر میں تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور ایل این جی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، جسے ایران نے تنازع کے آغاز کے بعد سے تقریباً مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکہ کے تین عالمی معیار کے تباہ کن بحری جہاز فائرنگ کے تبادلے کے باوجود آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے۔ ان میں سے کسی بھی جہاز کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم ایرانی حملہ آوروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور انہوں نے اس جھڑپ کی اہمیت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116535672760322109'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116535672760322109'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ٹرمپ نے واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج ہمارے ساتھ الجھنے کی کوشش کی، لیکن ہم نے انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کی اعلیٰ جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور ایک دوسرے جہاز کو نشانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ بھی کہا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جزیرہ قشم اور قریبی ساحلی علاقوں میں شہری آبادی پر فضائی حملے کیے ہیں۔</p>
<p>فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے مشرق اور بندرگاہ چاہ بہار کے جنوب میں امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کر کے جوابی کارروائی کی۔ ایران کے سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں سے امریکی فورسز کو نمایاں نقصان پہنچا  تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ان کے کسی بھی اثاثے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/CENTCOM/status/2052502030778843379?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/CENTCOM/status/2052502030778843379?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایران کے پریس ٹی وی نے بعد ازاں اطلاع دی کہ کئی گھنٹوں کی گولہ باری کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزائر اور ساحلی شہروں میں صورتحال دوبارہ معمول پر آ گئی ہے۔</p>
<p>7 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا ہے جس کے دوران ایران نے متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات پر ہونے والے تازہ ترین حملے کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہو سکیں۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے بارہا متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔</p>
<p>جمعہ کو ایشیا میں ابتدائی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جہاں تازہ جھڑپوں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ دوسری جانب اس ہفتے تنازع کے جلد حل کی امیدوں پر ہونے والے نمایاں اضافے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان غالب رہا۔</p>
<p>اسٹیٹ اسٹریٹ مارکیٹس میں ایکویٹی ریسرچ کی سربراہ ماریہ ویٹ مین نے کہا ہے کہ جاری کشیدگی اور تیل کی اب بھی بلند قیمتوں کے باوجود مارکیٹیں اس صورتحال کو محدود مدت تک جاری رہنے کے امکان کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔</p>
<p><strong>ٹرمپ کا مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے پر زور</strong></p>
<p>ٹرمپ نے جمعرات کو ہونے والی جھڑپوں کے باوجود تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کو درست سمت میں قرار دیتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ حالیہ حملوں سے قبل امریکہ نے ایک ایسی تجویز پیش کی تھی جس کے ذریعے تنازع کو باضابطہ طور پر ختم تو کیا جا سکتا تھا۔</p>
<p>تہران نے کہا ہے کہ اس نے ابھی تک اس منصوبے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود ٹرمپ نے کہا کہ تہران نے ان کے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممانعت امریکی تجویز میں واضح طور پر درج ہے۔</p>
<p>پروجیکٹ فریڈم  کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کے دوران امریکہ سے ایسا نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار شاندار رہا ہے۔ وہاں کی قیادت بہت ہی زبردست رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم اس (منصوبے) پر واپس جائیں گے۔ انہوں نے ہم سے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایسا نہ کیا جائے۔</p>
<p>امریکن آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق فروری کے آخر سے اب تک امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جو تقریباً 1.20 ڈالر فی گیلن بڑھ کر 4 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں آنے والی رکاوٹیں ہیں جنہوں نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286033</guid>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:40:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/0812261383e0a71.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/0812261383e0a71.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
