<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 30 Jun 2026 20:42:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 30 Jun 2026 20:42:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کی آبی جارحیت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286027/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ سال انڈس واٹرز ٹریٹی  کی معطلی کے بعد سے اس کے پاکستان پر دور رس اور نقصان دہ اثرات بدستور جاری ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں دریائے چناب کے مرالہ ہیڈ ورکس پر 2 مئی کو پانی کے بہاؤ میں واضح کمی کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے بھارت کی بالائی سطح پر پانی کے کنٹرول سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانی کا بہاؤ نمایاں طور پر کم ہو کر 9,037 کیوسک رہ گیا، جو پہلے تقریباً 20,930 کیوسک تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ بھارت نے بگلیہار ڈیم پر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اخراج کو محدود کیا ہے، جو انڈس واٹرز ٹریٹی کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ تاریخی طور پر مئی کے آغاز میں مرالہ کے مقام پر چناب کا بہاؤ 30,000 سے 35,000 کیوسک کے درمیان رہتا ہے۔ تاہم اس سال اوسط بہاؤ گر کر 14,214 کیوسک رہ گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت کی بالائی مداخلتیں زیریں علاقوں میں پانی کی دستیابی کو کس حد تک متاثر کر رہی ہیں اور پاکستان کے پہلے سے دباؤ کا شکار آبی نظام پر مزید دباؤ بڑھا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی معطلی کے بعد اس طرح کی پہلی کارروائی نہیں ہے۔ دسمبر میں بھی چناب اور جہلم کے پانی کے بہاؤ میں غیر متوقع اور بے قاعدہ اتار چڑھاؤ نے پنجاب میں زرعی منصوبہ بندی کو متاثر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح گزشتہ موسم گرما میں بھی خدشات سامنے آئے تھے جب بالائی سطح پر پانی کے اخراج پر کنٹرول نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ مشترکہ دریا بڑھتی ہوئی صوابدید کے ساتھ استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے وہ پیشگوئی ختم ہو رہی ہے جس کے لیے یہ معاہدہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران بھارت کی جانب سے ان مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبے بڑھانے کی کوششیں، جو انڈس واٹرز ٹریٹی کے تحت پاکستان کو مختص ہیں، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خدشات کو جنم دیتی ہیں۔ ایسے منصوبے پانی کے بہاؤ کے وقت اور مقدار کو طویل المدتی طور پر متاثر کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، جو وقفے وقفے سے پانی چھوڑنے کے وقتی اثرات سے کہیں زیادہ مؤثر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں ضروری ہے کہ پاکستان فوری طور پر ایک جامع اور کثیرالجہتی آبی تحفظ کی حکمت عملی تیار کرے اور اسے نافذ کرے تاکہ بیرونی مداخلت کے ذریعے دریا کے بہاؤ میں تبدیلیوں کے خطرات سے بچا جا سکے، جن کے زرعی پیداوار، غذائی تحفظ، زرعی صنعتوں اور برآمدی کارکردگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور مجموعی معیشت پر بھی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ صرف بھارت کی طرف سے دباؤ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو پاکستان کا اپنا آبی انتظام بھی غیر تسلی بخش رہا ہے، جہاں غیر مؤثر آبپاشی کے طریقے، کمزور تحفظاتی اقدامات اور ذخیرہ سازی میں مسلسل کم سرمایہ کاری نے اس کی صلاحیت کو بتدریج کمزور کیا ہے کہ وہ بیرونی جھٹکوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کی حالیہ اپیل کہ ایک مربوط آبی تحفظ پالیسی بنائی جائے، مزید اہمیت اور فوری ضرورت اختیار کر لیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے پاکستان کو اپنی آبی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو موجودہ 90 دنوں کی سطح سے کہیں زیادہ بڑھانا ہوگا، جو عالمی اور علاقائی معیار کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جو اپنی تاریخ کے زیادہ تر حصے میں زرعی معیشت رہا ہے، یہ صورتحال قابل قبول نہیں، خاص طور پر جب  دریائے سندھ کا نظام اب بھی قومی پانی کی 96 فیصد فراہمی کا ذریعہ ہے، جس میں سے 78 فیصد پانی ملک سے باہر سے آتا ہے، جو ایک بڑی کمزوری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں فوری توسیع، بشمول سیلابی پانی کے لیے علیحدہ ذخائر، لازمی ہے، ساتھ ہی پہاڑی نالوں کے مؤثر انتظام، شہری بارش کے پانی کے ذخیرہ نظام اور گندے پانی کی ری سائیکلنگ میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانا بھی نہایت اہم ہے، خاص طور پر زراعت میں جہاں سیلابی آبپاشی اب بھی غالب ہے، حالانکہ ماہرین طویل عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ یہ طریقہ پانی کی بڑی مقدار ضائع کرتا ہے، پانی جمع ہونے اور زمین کی نمکیات کا باعث بنتا ہے اور بالآخر فصلوں کی پیداوار اور معیار کو متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی جیسے جدید طریقے واضح طور پر پانی کی بچت اور زمین کے تحفظ کے فوائد فراہم کرتے ہیں، مگر ان کا نفاذ ان مفادات کی وجہ سے سست رہا ہے جو پرانے نظام کے تسلسل سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر پاکستان بڑھتے ہوئے آبی بحران پر قابو پانا چاہتا ہے تو اس رکاوٹ کو فیصلہ کن طور پر ختم کرنا ہوگا، کیونکہ صرف سیلابی آبپاشی سے ہٹنے سے مجموعی پانی کی طلب میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کے ساتھ غیر محدود زیر زمین پانی کے استعمال کو بھی روکا جانا ضروری ہے کیونکہ اس نے پانی کی سطح میں مسلسل کمی، زمین کے دھنسنے ، انفرااسٹرکچر کو نقصان اور مٹی و قدرتی ماحولیاتی نظام کو متاثر کیا ہے۔ اب ایک وسیع تر قومی آبی پالیسی کی ضرورت ہے جو ذخیرہ، تحفظ اور ریگولیشن کو ایک مربوط فریم ورک میں یکجا کرے، اس سے پہلے کہ موجودہ کمزوریاں مزید گہری ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ سال انڈس واٹرز ٹریٹی  کی معطلی کے بعد سے اس کے پاکستان پر دور رس اور نقصان دہ اثرات بدستور جاری ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں دریائے چناب کے مرالہ ہیڈ ورکس پر 2 مئی کو پانی کے بہاؤ میں واضح کمی کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے بھارت کی بالائی سطح پر پانی کے کنٹرول سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔</strong></p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانی کا بہاؤ نمایاں طور پر کم ہو کر 9,037 کیوسک رہ گیا، جو پہلے تقریباً 20,930 کیوسک تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ بھارت نے بگلیہار ڈیم پر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اخراج کو محدود کیا ہے، جو انڈس واٹرز ٹریٹی کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ تاریخی طور پر مئی کے آغاز میں مرالہ کے مقام پر چناب کا بہاؤ 30,000 سے 35,000 کیوسک کے درمیان رہتا ہے۔ تاہم اس سال اوسط بہاؤ گر کر 14,214 کیوسک رہ گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت کی بالائی مداخلتیں زیریں علاقوں میں پانی کی دستیابی کو کس حد تک متاثر کر رہی ہیں اور پاکستان کے پہلے سے دباؤ کا شکار آبی نظام پر مزید دباؤ بڑھا رہی ہیں۔</p>
<p>یہ بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی معطلی کے بعد اس طرح کی پہلی کارروائی نہیں ہے۔ دسمبر میں بھی چناب اور جہلم کے پانی کے بہاؤ میں غیر متوقع اور بے قاعدہ اتار چڑھاؤ نے پنجاب میں زرعی منصوبہ بندی کو متاثر کیا تھا۔</p>
<p>اسی طرح گزشتہ موسم گرما میں بھی خدشات سامنے آئے تھے جب بالائی سطح پر پانی کے اخراج پر کنٹرول نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ مشترکہ دریا بڑھتی ہوئی صوابدید کے ساتھ استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے وہ پیشگوئی ختم ہو رہی ہے جس کے لیے یہ معاہدہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>اسی دوران بھارت کی جانب سے ان مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبے بڑھانے کی کوششیں، جو انڈس واٹرز ٹریٹی کے تحت پاکستان کو مختص ہیں، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خدشات کو جنم دیتی ہیں۔ ایسے منصوبے پانی کے بہاؤ کے وقت اور مقدار کو طویل المدتی طور پر متاثر کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، جو وقفے وقفے سے پانی چھوڑنے کے وقتی اثرات سے کہیں زیادہ مؤثر ہیں۔</p>
<p>اس پس منظر میں ضروری ہے کہ پاکستان فوری طور پر ایک جامع اور کثیرالجہتی آبی تحفظ کی حکمت عملی تیار کرے اور اسے نافذ کرے تاکہ بیرونی مداخلت کے ذریعے دریا کے بہاؤ میں تبدیلیوں کے خطرات سے بچا جا سکے، جن کے زرعی پیداوار، غذائی تحفظ، زرعی صنعتوں اور برآمدی کارکردگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور مجموعی معیشت پر بھی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ صرف بھارت کی طرف سے دباؤ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو پاکستان کا اپنا آبی انتظام بھی غیر تسلی بخش رہا ہے، جہاں غیر مؤثر آبپاشی کے طریقے، کمزور تحفظاتی اقدامات اور ذخیرہ سازی میں مسلسل کم سرمایہ کاری نے اس کی صلاحیت کو بتدریج کمزور کیا ہے کہ وہ بیرونی جھٹکوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کر سکے۔</p>
<p>اس تناظر میں منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کی حالیہ اپیل کہ ایک مربوط آبی تحفظ پالیسی بنائی جائے، مزید اہمیت اور فوری ضرورت اختیار کر لیتی ہے۔</p>
<p>سب سے پہلے پاکستان کو اپنی آبی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو موجودہ 90 دنوں کی سطح سے کہیں زیادہ بڑھانا ہوگا، جو عالمی اور علاقائی معیار کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جو اپنی تاریخ کے زیادہ تر حصے میں زرعی معیشت رہا ہے، یہ صورتحال قابل قبول نہیں، خاص طور پر جب  دریائے سندھ کا نظام اب بھی قومی پانی کی 96 فیصد فراہمی کا ذریعہ ہے، جس میں سے 78 فیصد پانی ملک سے باہر سے آتا ہے، جو ایک بڑی کمزوری ہے۔</p>
<p>پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں فوری توسیع، بشمول سیلابی پانی کے لیے علیحدہ ذخائر، لازمی ہے، ساتھ ہی پہاڑی نالوں کے مؤثر انتظام، شہری بارش کے پانی کے ذخیرہ نظام اور گندے پانی کی ری سائیکلنگ میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔</p>
<p>اسی طرح پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانا بھی نہایت اہم ہے، خاص طور پر زراعت میں جہاں سیلابی آبپاشی اب بھی غالب ہے، حالانکہ ماہرین طویل عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ یہ طریقہ پانی کی بڑی مقدار ضائع کرتا ہے، پانی جمع ہونے اور زمین کی نمکیات کا باعث بنتا ہے اور بالآخر فصلوں کی پیداوار اور معیار کو متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی جیسے جدید طریقے واضح طور پر پانی کی بچت اور زمین کے تحفظ کے فوائد فراہم کرتے ہیں، مگر ان کا نفاذ ان مفادات کی وجہ سے سست رہا ہے جو پرانے نظام کے تسلسل سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر پاکستان بڑھتے ہوئے آبی بحران پر قابو پانا چاہتا ہے تو اس رکاوٹ کو فیصلہ کن طور پر ختم کرنا ہوگا، کیونکہ صرف سیلابی آبپاشی سے ہٹنے سے مجموعی پانی کی طلب میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔</p>
<p>اسی کے ساتھ غیر محدود زیر زمین پانی کے استعمال کو بھی روکا جانا ضروری ہے کیونکہ اس نے پانی کی سطح میں مسلسل کمی، زمین کے دھنسنے ، انفرااسٹرکچر کو نقصان اور مٹی و قدرتی ماحولیاتی نظام کو متاثر کیا ہے۔ اب ایک وسیع تر قومی آبی پالیسی کی ضرورت ہے جو ذخیرہ، تحفظ اور ریگولیشن کو ایک مربوط فریم ورک میں یکجا کرے، اس سے پہلے کہ موجودہ کمزوریاں مزید گہری ہو جائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286027</guid>
      <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:10:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/08110848a705416.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/08110848a705416.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
