<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 27 Jun 2026 23:03:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 27 Jun 2026 23:03:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز سے خفیہ آئل ٹینکرز گزار دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286013/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی حملوں سے بچنے کے لیے اپنے لوکیشن ٹریکرز بند کر کے  متحدہ عرب امارات اور خریداروں نے حال ہی میں خام تیل سے لدے کئی ٹینکرز آبنائے ہرمز کے ذریعے روانہ کیے ہیں۔ انڈسٹری کے ذرائع اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ کوشش مشرق وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے خلیج میں پھنسے ہوئے تیل کو نکالنے کے لیے کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی یہ مقدار ایران پر امریکہ اسرائیل جنگ سے پہلے متحدہ عرب امارات کی معمول کی برآمدات کا ایک چھوٹا حصہ ہے لیکن یہ اس خطرے کو ظاہر کرتی ہے جو پروڈیوسر اور خریدار تیل کی فروخت کو بحال کرنے کے لیے مول لینے کو تیار ہیں۔ خلیج کے دیگر پروڈیوسرزعراق، کویت اور قطر نے یا تو فروخت روک دی ہے یا خریداروں کو راغب کرنے کے لیے قیمتوں میں بھاری کمی کی ہے، جبکہ سعودی عرب صرف بحیرہ احمر کے ذریعے ترسیل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین ذرائع کیپلر کے شپ ٹریکنگ ڈیٹا اور  سن میکس کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق اپریل میں متحدہ عرب امارات کی ’ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) خلیج کے اندر موجود ٹرمینلز سے چار ٹینکرز کے ذریعے اپنے  اپر زکوم خام تیل کے کم از کم 40 لاکھ بیرل اور  داس خام تیل کے 20 لاکھ بیرل برآمد کرنے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق یہ کھیپ یا تو  شپ ٹو شپ ٹرانسفر کے ذریعے کسی دوسرے جہاز پر منتقل کی گئی جو بعد میں تیل لے کر جنوب مشرقی ایشیا کی ریفائنری روانہ ہوا یا اسے عمان کے اسٹوریج میں اتارا گیا یا پھر یہ ٹینکرز براہ راست جنوبی کوریا کی ریفائنریوں کو بھیجے گئے۔ رائٹرز پہلی بار برآمدات کے اس نظام کی رپورٹنگ کر رہا ہے، تاہم  ایڈنوک نے ان ترسیلات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران نے 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو اپنی برآمدات کے علاوہ دیگر کے لیے بند کر دیا تھا، جس سے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ رک گیا۔ اس بندش اور حالیہ ہفتوں میں ایرانی برآمدات کو روکنے والے امریکی محاصرے نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پرخطر سفر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈنوک کی ان ترسیلات کو ایران کی جانب سے حملوں کا خطرہ ہے۔ اس خطرے کی نشاندہی متحدہ عرب امارات کے پیر کے اس الزام سے بھی ہوئی جس میں کہا گیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایڈنوک کے ایک خالی ٹینکر  البرکہ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحری جہاز اپنا آٹومیٹک آئیڈنٹی فیکیشن سسٹم بند کر کے سفر کرتے ہیں، تاکہ ایرانی افواج کی نظروں سے بچ سکیں۔ یہ وہی حربہ ہے جو ایران عام طور پر اپنی تیل کی برآمدات پر امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس طریقے کی وجہ سے شپنگ ڈیٹا کے ذریعے ایڈنوک کی برآمدات کی کل مقدار کا پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اپریل میں خلیج سے بھیجی گئی مقدار اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپلر ڈیٹا کے مطابق بہت بڑے خام تیل بردار جہاز  حفیت نے 7 اپریل کو خلیج کے اندر سے 20 لاکھ بیرل اپر زکوم لوڈ کیا اور 15 اپریل کو آبنائے ہرمز سے باہر نکلا۔ آبنائے سے باہر اس کارگو کو یونانی پرچم بردار جہاز  اولمپک لک پر منتقل کیا گیا اور ملائیشیا کی ریفائنری بھیجا گیا۔ حفیت کا انتظام ایڈنوک کا لاجسٹکس یونٹ سنبھالتا ہے، جس نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاز سے جہاز پر تیل منتقل کرنے  کے عمل سے ایڈنوک کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ چھوٹے کارگو فروخت کر سکتا ہے اور بڑے ٹینکرز کو دوبارہ لوڈنگ کے لیے جلدی خلیج کے اندر بھیج سکتا ہے۔ اپر زکوم کا ایسا ہی ایک کارگو ایک شمال مشرقی ایشیائی ریفائنری کو ایڈنوک کی سرکاری قیمت سے 20 ڈالر فی بیرل کے ریکارڈ پریمیئم پر فروخت کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈنوک کا ارادہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے اندر سے تیل کی فروخت جاری رکھے۔ کمپنی نے اپریل کے آخر میں کچھ صارفین کو مطلع کیا تھا کہ وہ مئی سے خلیج کے باہر کی بندرگاہوں بشمول فجیرہ اور عمان کے شہر سوہار میں  شپ ٹو شپ ٹرانسفر کے ذریعے داس اور  اپر زکوم خام تیل حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک بھارتی ریفائننگ ذریعے کے مطابق کمپنی مئی کے کارگو فروخت کرنے کے لیے ایشیائی ریفائنرز کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی حملوں سے بچنے کے لیے اپنے لوکیشن ٹریکرز بند کر کے  متحدہ عرب امارات اور خریداروں نے حال ہی میں خام تیل سے لدے کئی ٹینکرز آبنائے ہرمز کے ذریعے روانہ کیے ہیں۔ انڈسٹری کے ذرائع اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ کوشش مشرق وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے خلیج میں پھنسے ہوئے تیل کو نکالنے کے لیے کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>تیل کی یہ مقدار ایران پر امریکہ اسرائیل جنگ سے پہلے متحدہ عرب امارات کی معمول کی برآمدات کا ایک چھوٹا حصہ ہے لیکن یہ اس خطرے کو ظاہر کرتی ہے جو پروڈیوسر اور خریدار تیل کی فروخت کو بحال کرنے کے لیے مول لینے کو تیار ہیں۔ خلیج کے دیگر پروڈیوسرزعراق، کویت اور قطر نے یا تو فروخت روک دی ہے یا خریداروں کو راغب کرنے کے لیے قیمتوں میں بھاری کمی کی ہے، جبکہ سعودی عرب صرف بحیرہ احمر کے ذریعے ترسیل کر رہا ہے۔</p>
<p>تین ذرائع کیپلر کے شپ ٹریکنگ ڈیٹا اور  سن میکس کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق اپریل میں متحدہ عرب امارات کی ’ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) خلیج کے اندر موجود ٹرمینلز سے چار ٹینکرز کے ذریعے اپنے  اپر زکوم خام تیل کے کم از کم 40 لاکھ بیرل اور  داس خام تیل کے 20 لاکھ بیرل برآمد کرنے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق یہ کھیپ یا تو  شپ ٹو شپ ٹرانسفر کے ذریعے کسی دوسرے جہاز پر منتقل کی گئی جو بعد میں تیل لے کر جنوب مشرقی ایشیا کی ریفائنری روانہ ہوا یا اسے عمان کے اسٹوریج میں اتارا گیا یا پھر یہ ٹینکرز براہ راست جنوبی کوریا کی ریفائنریوں کو بھیجے گئے۔ رائٹرز پہلی بار برآمدات کے اس نظام کی رپورٹنگ کر رہا ہے، تاہم  ایڈنوک نے ان ترسیلات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔</p>
<p>تہران نے 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو اپنی برآمدات کے علاوہ دیگر کے لیے بند کر دیا تھا، جس سے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ رک گیا۔ اس بندش اور حالیہ ہفتوں میں ایرانی برآمدات کو روکنے والے امریکی محاصرے نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دیا ہے۔</p>
<p><strong>پرخطر سفر</strong></p>
<p>ایڈنوک کی ان ترسیلات کو ایران کی جانب سے حملوں کا خطرہ ہے۔ اس خطرے کی نشاندہی متحدہ عرب امارات کے پیر کے اس الزام سے بھی ہوئی جس میں کہا گیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایڈنوک کے ایک خالی ٹینکر  البرکہ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔</p>
<p>یہ بحری جہاز اپنا آٹومیٹک آئیڈنٹی فیکیشن سسٹم بند کر کے سفر کرتے ہیں، تاکہ ایرانی افواج کی نظروں سے بچ سکیں۔ یہ وہی حربہ ہے جو ایران عام طور پر اپنی تیل کی برآمدات پر امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس طریقے کی وجہ سے شپنگ ڈیٹا کے ذریعے ایڈنوک کی برآمدات کی کل مقدار کا پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اپریل میں خلیج سے بھیجی گئی مقدار اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔</p>
<p>کیپلر ڈیٹا کے مطابق بہت بڑے خام تیل بردار جہاز  حفیت نے 7 اپریل کو خلیج کے اندر سے 20 لاکھ بیرل اپر زکوم لوڈ کیا اور 15 اپریل کو آبنائے ہرمز سے باہر نکلا۔ آبنائے سے باہر اس کارگو کو یونانی پرچم بردار جہاز  اولمپک لک پر منتقل کیا گیا اور ملائیشیا کی ریفائنری بھیجا گیا۔ حفیت کا انتظام ایڈنوک کا لاجسٹکس یونٹ سنبھالتا ہے، جس نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>جہاز سے جہاز پر تیل منتقل کرنے  کے عمل سے ایڈنوک کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ چھوٹے کارگو فروخت کر سکتا ہے اور بڑے ٹینکرز کو دوبارہ لوڈنگ کے لیے جلدی خلیج کے اندر بھیج سکتا ہے۔ اپر زکوم کا ایسا ہی ایک کارگو ایک شمال مشرقی ایشیائی ریفائنری کو ایڈنوک کی سرکاری قیمت سے 20 ڈالر فی بیرل کے ریکارڈ پریمیئم پر فروخت کیا گیا۔</p>
<p>ایڈنوک کا ارادہ ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے اندر سے تیل کی فروخت جاری رکھے۔ کمپنی نے اپریل کے آخر میں کچھ صارفین کو مطلع کیا تھا کہ وہ مئی سے خلیج کے باہر کی بندرگاہوں بشمول فجیرہ اور عمان کے شہر سوہار میں  شپ ٹو شپ ٹرانسفر کے ذریعے داس اور  اپر زکوم خام تیل حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک بھارتی ریفائننگ ذریعے کے مطابق کمپنی مئی کے کارگو فروخت کرنے کے لیے ایشیائی ریفائنرز کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286013</guid>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:17:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/07190442820fee5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/07190442820fee5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
