<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 11:38:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 11:38:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کوئی ہمیں آزمانا چاہتا ہے تو اسے خوش آمدید کہتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286003/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے  کہا ہے کہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج  ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ  اگر کوئی ہمیں آزمانا چاہتا ہے تو اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بات ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان اور ایئر وائس مارشل طارق غازی کے ہمراہ  معرکہِ حق کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج ہم اس پر زیادہ بات نہیں کریں گے کہ کیا ہوا تھا، ہم مئی 2025 سے مئی 2026 تک کے عرصے پر زیادہ وقت صرف کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ثبوتوں کے بغیر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان نے بھارت میں دہشت گردی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلگام حملے کو ایک سال بیت چکا لیکن پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معرکہِ حق کے دس اسٹریٹجک نتائج برآمد ہوئے جن میں سب سے پہلا نتیجہ یہ تھا کہ اس نے بھارت کے اس بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا کہ پاکستان دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی حیثیت خطے میں ایک نیٹ سیکیورٹی اسٹیبلائزر کے طور پر مزید مضبوط ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معرکہِ حق نے یہ ثابت کر دیا کہ  تنازعے کے دوران کشیدگی کی صورتحال کو کون مینیج اور کنٹرول کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے غلط مفروضے کی بنیاد پر صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرے اسٹریٹجک نتیجے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس کا تعلق ہمارے مشرقی پڑوسی سے ہے جس کا ذکر انہوں نے بھارتی فوجی قیادت کے سیاست زدہ ہونے اور بھارتی سیاسی قیادت کی جارحیت پسندی کے طور پر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ نے ان کے ائیر چیف مارشل کو چند ماہ بعد یہ کہتے سنا کہ مجھے آج پتا چلا کہ ہم نے بھی کچھ طیارے مار گرائے تھے، یہ فوجی قیادت کی سیاست سے وابستگی ہے۔ آپ اپنے ایڈمرلز، جرنیلز اور مارشلز کو مذاق کا کردار کیوں بنا رہے ہیں؟ ایسا نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت بھارت میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ وہاں کی فوج جسے پہلے پیشہ ورانہ مانا جاتا تھا، اب بدقسمتی سے پولیٹی سائز ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل احمد شریف نے کہا کہ چوتھا نتیجہ ان بھارتی کوششوں کا عالمی سطح پر اعتراف تھا جن کے ذریعے وہ اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی رنگ دینے اور بیرونی معاملات کو اندرونی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے جبکہ مبینہ طور پر دہشت گردی کو بطور ریاستی آلہ کار استعمال کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل حل نہیں کرنا چاہتا، اسی لیے وہ پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر اپنے مسائل کو بیرونی رنگ دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ یہ آپ کا اندرونی مسئلہ نہیں کہ آپ وہاں ڈیموگرافک تبدیلیاں کریں، آپ ایسا نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پانچواں نتیجہ بھارتی میڈیا کے اصل چہرے کا بے نقاب ہونا اور اس کی بدنامِ زمانہ انفارمیشن آپریشنز کی قلعی کھلنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معرکہِ حق کے دوران بھارتی حکام نے پاکستانی میڈیا پر پابندی لگانا شروع کردی تھی، ایک ایسا عمل جو آج بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا ،اس موقع پر انہوں نے بھارت کو سچ بولنے کا مشورہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چھٹا نتیجہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت ہے جس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں ملٹی ڈومین آپریشنز، نان کانٹیکٹ وارفیئر، ہم آہنگی، پراکسیز کا استعمال اور انفارمیشن وارفیئر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جدید جنگ اب صرف فزیکل سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ زمین، سمندر، فضا، سائبر اسپیس اور یہاں تک کہ انسانی شعور (دماغی محاذ) پر بھی لڑی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج معرکہِ حق کے دوران ان تمام محاذوں پر بھارت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار تھیں، انہوں نے واضح کیا کہ ہم اس وقت بھی تیار تھے اور ہم آج بھی تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ساتواں نتیجہ کثیر الجہتی چیلنجز سے نمٹنے میں پاکستان کی ثابت شدہ صلاحیت اور لچک تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آٹھواں نتیجہ دشمن کو روکنے کی صلاحیت(ڈیٹرنس )کا واضح اور مؤثر طور پر قائم ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ دو ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش موجود ہے، وہ غلط فہمی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ دیوانگی ہے۔ صرف ایک دیوانہ ہی اس بارے میں سوچ سکتا ہے۔ اگر آپ یہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمارے عزم اور ارادے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نواں نتیجہ پاکستان کا ایک جغرافیائی و سیاسی طور پر اہم اور ذمہ دار مڈل پاور کے طور پر تسلیم کیا جانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ دسواں اور سب سے اہم نتیجہ عوام، حکومت اور مسلح افواج کے درمیان مضبوط اور غیر متزلزل ہم آہنگی تھی جسے انہوں نے بنیان مرصوص کے اثر سے تشبیر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پش منظر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوگیا، حملے میں 26 افراد مارے گئے جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے اس حملے کا ملبہ سرحد پار ڈالا جس کے جواب میں پاکستان نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ایک آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ہمسایہ ممالک نے 10 مئی کو سیز فائر (جنگ بندی) پر اتفاق کیا جس سے فوجی کشیدگی کا خاتمہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے  کہا ہے کہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج  ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ  اگر کوئی ہمیں آزمانا چاہتا ہے تو اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔</strong></p>
<p>انہوں نے یہ بات ریئر ایڈمرل شفاعت علی خان اور ایئر وائس مارشل طارق غازی کے ہمراہ  معرکہِ حق کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج ہم اس پر زیادہ بات نہیں کریں گے کہ کیا ہوا تھا، ہم مئی 2025 سے مئی 2026 تک کے عرصے پر زیادہ وقت صرف کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ثبوتوں کے بغیر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان نے بھارت میں دہشت گردی کی ہے۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلگام حملے کو ایک سال بیت چکا لیکن پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معرکہِ حق کے دس اسٹریٹجک نتائج برآمد ہوئے جن میں سب سے پہلا نتیجہ یہ تھا کہ اس نے بھارت کے اس بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا کہ پاکستان دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی حیثیت خطے میں ایک نیٹ سیکیورٹی اسٹیبلائزر کے طور پر مزید مضبوط ہوئی۔</p>
<p>معرکہِ حق نے یہ ثابت کر دیا کہ  تنازعے کے دوران کشیدگی کی صورتحال کو کون مینیج اور کنٹرول کر رہا تھا۔</p>
<p>بھارت نے غلط مفروضے کی بنیاد پر صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔</p>
<p>تیسرے اسٹریٹجک نتیجے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس کا تعلق ہمارے مشرقی پڑوسی سے ہے جس کا ذکر انہوں نے بھارتی فوجی قیادت کے سیاست زدہ ہونے اور بھارتی سیاسی قیادت کی جارحیت پسندی کے طور پر کیا۔</p>
<p>آپ نے ان کے ائیر چیف مارشل کو چند ماہ بعد یہ کہتے سنا کہ مجھے آج پتا چلا کہ ہم نے بھی کچھ طیارے مار گرائے تھے، یہ فوجی قیادت کی سیاست سے وابستگی ہے۔ آپ اپنے ایڈمرلز، جرنیلز اور مارشلز کو مذاق کا کردار کیوں بنا رہے ہیں؟ ایسا نہ کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت بھارت میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ وہاں کی فوج جسے پہلے پیشہ ورانہ مانا جاتا تھا، اب بدقسمتی سے پولیٹی سائز ہوچکی ہے۔</p>
<p>جنرل احمد شریف نے کہا کہ چوتھا نتیجہ ان بھارتی کوششوں کا عالمی سطح پر اعتراف تھا جن کے ذریعے وہ اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی رنگ دینے اور بیرونی معاملات کو اندرونی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے جبکہ مبینہ طور پر دہشت گردی کو بطور ریاستی آلہ کار استعمال کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل حل نہیں کرنا چاہتا، اسی لیے وہ پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر اپنے مسائل کو بیرونی رنگ دے رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ یہ آپ کا اندرونی مسئلہ نہیں کہ آپ وہاں ڈیموگرافک تبدیلیاں کریں، آپ ایسا نہیں کرسکتے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پانچواں نتیجہ بھارتی میڈیا کے اصل چہرے کا بے نقاب ہونا اور اس کی بدنامِ زمانہ انفارمیشن آپریشنز کی قلعی کھلنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معرکہِ حق کے دوران بھارتی حکام نے پاکستانی میڈیا پر پابندی لگانا شروع کردی تھی، ایک ایسا عمل جو آج بھی جاری ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا ،اس موقع پر انہوں نے بھارت کو سچ بولنے کا مشورہ دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چھٹا نتیجہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت ہے جس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں ملٹی ڈومین آپریشنز، نان کانٹیکٹ وارفیئر، ہم آہنگی، پراکسیز کا استعمال اور انفارمیشن وارفیئر شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جدید جنگ اب صرف فزیکل سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ زمین، سمندر، فضا، سائبر اسپیس اور یہاں تک کہ انسانی شعور (دماغی محاذ) پر بھی لڑی جاتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج معرکہِ حق کے دوران ان تمام محاذوں پر بھارت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار تھیں، انہوں نے واضح کیا کہ ہم اس وقت بھی تیار تھے اور ہم آج بھی تیار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ساتواں نتیجہ کثیر الجہتی چیلنجز سے نمٹنے میں پاکستان کی ثابت شدہ صلاحیت اور لچک تھی۔</p>
<p>ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آٹھواں نتیجہ دشمن کو روکنے کی صلاحیت(ڈیٹرنس )کا واضح اور مؤثر طور پر قائم ہونا ہے۔</p>
<p>جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ دو ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش موجود ہے، وہ غلط فہمی کا شکار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ دیوانگی ہے۔ صرف ایک دیوانہ ہی اس بارے میں سوچ سکتا ہے۔ اگر آپ یہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمارے عزم اور ارادے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نواں نتیجہ پاکستان کا ایک جغرافیائی و سیاسی طور پر اہم اور ذمہ دار مڈل پاور کے طور پر تسلیم کیا جانا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ دسواں اور سب سے اہم نتیجہ عوام، حکومت اور مسلح افواج کے درمیان مضبوط اور غیر متزلزل ہم آہنگی تھی جسے انہوں نے بنیان مرصوص کے اثر سے تشبیر دی۔</p>
<p><strong>پش منظر</strong></p>
<p>پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوگیا، حملے میں 26 افراد مارے گئے جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی۔</p>
<p>بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے اس حملے کا ملبہ سرحد پار ڈالا جس کے جواب میں پاکستان نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ایک آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>دونوں ہمسایہ ممالک نے 10 مئی کو سیز فائر (جنگ بندی) پر اتفاق کیا جس سے فوجی کشیدگی کا خاتمہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286003</guid>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:30:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/xq05woHGIIg/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/xq05woHGIIg/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=xq05woHGIIg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
