<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:35:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 16:35:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کا رجحان، 100 انڈیکس میں تقریباً 1200 پوائنٹس کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285983/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو بھی خریداری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس تقریباً 1,200 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار آغاز منفی زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے ابتدائی سیشن میں 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 171,541 پوائنٹس پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ مندی عارضی ثابت ہوئی کیونکہ جلد ہی مارکیٹ میں خریداری کا بھرپور رجحان لوٹ آیا جس نے انڈیکس کو تیزی سے بحال ہونے میں مدد دی، مڈ سیشن میں 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 173,274.54 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,189.52 پوائنٹس یا 0.69 فیصد اضافے سے 172,894.27 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتری کیپیٹل کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل برقرار ہے کیونکہ عالمی اور مقامی عوامل مارکیٹ میں تیزی لانے والے سرمایہ کاروں کے حق میں سازگار ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان دیکھا گیا جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جغرافیائی سیاسی تناؤ میں کمی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ کی وجہ سے ہمہ جہت جارحانہ خریداری شروع ہوئی جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھرپور تقویت دی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 6,962.29 پوائنٹس یا 4.23 فیصد اضافے سے 171,704.76 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی آئی اور تیل کی قیمتوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تاجر مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کے امکانات کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں، اگرچہ بحیرہ ہرمزکی اہم گزرگاہ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکئی انڈیکس طویل تعطیلات کے بعد پہلی بار 62,000 کی حد عبور کر گیا جس نے اے آئی کی بدولت آنے والی اس تیزی کا ساتھ دیا جس کے مضبوط منافع جات نے جنوبی کوریا اور تائیوان کے اسٹاکس کو بھی ریکارڈ بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس ایک فیصد اضافے کے ساتھ ایک بار پھر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، یہ انڈیکس اس ہفتے اب تک 7 فیصد بڑھ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کا کہنا ہے کہ وہ امن کی ایک ایسی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کر دے گی، تاہم اس میں امریکہ کے وہ اہم مطالبات تاحال غیر حل شدہ ہیں جن میں ایران سے اپنے ایٹمی پروگرام کو معطل کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا کہا گیا ہے جس کی بندش نے تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے باعث بدھ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد کمی واقع ہوئی۔ جمعرات کو ایشیائی مارکیٹ کے ابتدائی اوقات میں برینٹ کروڈ کی قیمت معمولی اضافے کے ساتھ 102.11 ڈالر فی بیرل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل ریزرو کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنگ  مہنگائی کے مستقل جھٹکے کے خطرے کو بڑھا رہی ہے جس کے ساتھ تیل کی بلند قیمتوں کا تسلسل اور عالمی سپلائی چینز میں درپیش مسائل کے حوالے سے خدشات جنم لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ قدرے مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278.71 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کے معمولی اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں ٹریڈنگ کا حجم کم ہو کر 986.97 ملین شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ بندش پر 1,202.17 ملین تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئرز کی مجموعی مالیت بھی گھٹ کر 52.70 ارب روپے رہ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 63.00 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف پنجاب حجم کے لحاظ سے سب سے زیادہ ٹریڈ ہونے والا اسٹاک رہا، جس کے 86.33 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔ اس کے بعد فرسٹ نیشنل ایکویٹیز کے 65.96 ملین شیئرز اور ہیسکول پیٹرول کے 44.74 ملین شیئرز کا نمبر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو مجموعی طور پر 490 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 290 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 165 میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 35 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/071752086b24900.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/071752086b24900.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو بھی خریداری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس تقریباً 1,200 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار آغاز منفی زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے ابتدائی سیشن میں 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 171,541 پوائنٹس پر آگیا۔</p>
<p>تاہم یہ مندی عارضی ثابت ہوئی کیونکہ جلد ہی مارکیٹ میں خریداری کا بھرپور رجحان لوٹ آیا جس نے انڈیکس کو تیزی سے بحال ہونے میں مدد دی، مڈ سیشن میں 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 173,274.54 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,189.52 پوائنٹس یا 0.69 فیصد اضافے سے 172,894.27 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بہتری کیپیٹل کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل برقرار ہے کیونکہ عالمی اور مقامی عوامل مارکیٹ میں تیزی لانے والے سرمایہ کاروں کے حق میں سازگار ہو رہے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان دیکھا گیا جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جغرافیائی سیاسی تناؤ میں کمی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ کی وجہ سے ہمہ جہت جارحانہ خریداری شروع ہوئی جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھرپور تقویت دی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 6,962.29 پوائنٹس یا 4.23 فیصد اضافے سے 171,704.76 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی آئی اور تیل کی قیمتوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تاجر مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کے امکانات کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں، اگرچہ بحیرہ ہرمزکی اہم گزرگاہ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔</p>
<p>جاپان کا نکئی انڈیکس طویل تعطیلات کے بعد پہلی بار 62,000 کی حد عبور کر گیا جس نے اے آئی کی بدولت آنے والی اس تیزی کا ساتھ دیا جس کے مضبوط منافع جات نے جنوبی کوریا اور تائیوان کے اسٹاکس کو بھی ریکارڈ بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس ایک فیصد اضافے کے ساتھ ایک بار پھر اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، یہ انڈیکس اس ہفتے اب تک 7 فیصد بڑھ چکا ہے۔</p>
<p>ایران کا کہنا ہے کہ وہ امن کی ایک ایسی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کر دے گی، تاہم اس میں امریکہ کے وہ اہم مطالبات تاحال غیر حل شدہ ہیں جن میں ایران سے اپنے ایٹمی پروگرام کو معطل کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا کہا گیا ہے جس کی بندش نے تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ کردیا تھا۔</p>
<p>جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے باعث بدھ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد کمی واقع ہوئی۔ جمعرات کو ایشیائی مارکیٹ کے ابتدائی اوقات میں برینٹ کروڈ کی قیمت معمولی اضافے کے ساتھ 102.11 ڈالر فی بیرل رہی۔</p>
<p>فیڈرل ریزرو کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ جنگ  مہنگائی کے مستقل جھٹکے کے خطرے کو بڑھا رہی ہے جس کے ساتھ تیل کی بلند قیمتوں کا تسلسل اور عالمی سپلائی چینز میں درپیش مسائل کے حوالے سے خدشات جنم لے رہے ہیں۔</p>
<p>اسی دوران، انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ قدرے مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278.71 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کے معمولی اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں ٹریڈنگ کا حجم کم ہو کر 986.97 ملین شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ بندش پر 1,202.17 ملین تھا۔</p>
<p>شیئرز کی مجموعی مالیت بھی گھٹ کر 52.70 ارب روپے رہ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 63.00 ارب روپے تھی۔</p>
<p>بینک آف پنجاب حجم کے لحاظ سے سب سے زیادہ ٹریڈ ہونے والا اسٹاک رہا، جس کے 86.33 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔ اس کے بعد فرسٹ نیشنل ایکویٹیز کے 65.96 ملین شیئرز اور ہیسکول پیٹرول کے 44.74 ملین شیئرز کا نمبر رہا۔</p>
<p>جمعرات کو مجموعی طور پر 490 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 290 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 165 میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 35 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/071752086b24900.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/071752086b24900.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285983</guid>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:56:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/071047509a2dc34.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/071047509a2dc34.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
