<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 22:48:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 22:48:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کے آر ایس ایف پروگرام کے تحت 200 ملین ڈالر ملنے کا امکان ہے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285973/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 200 ملین ڈالر ملنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کا بورڈ اجلاس جمعہ کو متوقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے یہ بات بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمٹ چینج کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ تین ہفتے قبل وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اجلاسوں میں شرکت کے لیے واشنگٹن گئے تھے، جہاں دنیا بھر کے وزرائے خزانہ کلائمٹ ایکشن کے لیے وزرائے خزانہ کے اتحاد کے تحت جمع ہوئے، اور وہاں سب سے زیادہ زور عملی اقدامات پر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ تمام وزارتیں اور سرکاری ادارے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اب توجہ صرف گفتگو سے ہٹ کر قومی بجٹ اور وسائل کی تقسیم میں عملی اقدامات پر مرکوز ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی کلائمٹ پراسپیریٹی پلان پر کام کر رہی ہے، جس میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) پر مبنی سپلائی چینز کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے گرین ٹیکنالوجی کے فروغ کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ابتدائی وارننگ سسٹمز کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام اب سائنسی بنیادوں پر ڈیٹا فراہم کرتے ہیں، جس سے حکومت ردِعمل پر مبنی اقدامات کے بجائے پیشگی پالیسی منصوبہ بندی کی طرف بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے وضاحت کی کہ معاشی استحکام برقرار رکھنے سے حکومت کو ایسا مالیاتی اسپیس حاصل ہوتا ہے، جس کے ذریعے بیرونی جھٹکوں سے نمٹنا ممکن ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 2022 میں حکومت بین الاقوامی وعدوں کے حصول کے لیے براہِ راست جنیوا گئی تھی، جہاں کثیرالجہتی اور دوطرفہ اداروں کی جانب سے اعلانات کیے گئے، تاہم ان میں سے بہت کم عملی شکل اختیار کر سکے کیونکہ منصوبہ جاتی فنانسنگ کو بھی وعدوں کا حصہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے کہا کہ معاشی اور مالیاتی استحکام کے باعث حکومت نے 2025 کے سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر قابو پایا، اور اس کے لیے مکمل طور پر بین الاقوامی امداد پر انحصار نہیں کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی فنانسنگ کے ذریعے سالانہ 600 سے 700 ملین ڈالر کی مالی معاونت دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت گرین فنانسنگ کے مختلف ذرائع پر فعال انداز میں کام کر رہی ہے، جن میں 250 ملین ڈالر کے مساوی آر ایم بی میں پانڈا بانڈز کا اجرا اور مقامی گرین سکوک شامل ہیں۔ انہوں نے مؤثر انداز میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے بینک ایبل منصوبے تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کی جانب تیز رفتار منتقلی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سبسڈیز اور گارنٹیز کے ذریعے اس تبدیلی کی مکمل حمایت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 200 ملین ڈالر ملنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ایف کا بورڈ اجلاس جمعہ کو متوقع ہے۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ نے یہ بات بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمٹ چینج کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ تین ہفتے قبل وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اجلاسوں میں شرکت کے لیے واشنگٹن گئے تھے، جہاں دنیا بھر کے وزرائے خزانہ کلائمٹ ایکشن کے لیے وزرائے خزانہ کے اتحاد کے تحت جمع ہوئے، اور وہاں سب سے زیادہ زور عملی اقدامات پر دیا گیا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ تمام وزارتیں اور سرکاری ادارے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اب توجہ صرف گفتگو سے ہٹ کر قومی بجٹ اور وسائل کی تقسیم میں عملی اقدامات پر مرکوز ہونی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی کلائمٹ پراسپیریٹی پلان پر کام کر رہی ہے، جس میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) پر مبنی سپلائی چینز کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے گرین ٹیکنالوجی کے فروغ کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ابتدائی وارننگ سسٹمز کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام اب سائنسی بنیادوں پر ڈیٹا فراہم کرتے ہیں، جس سے حکومت ردِعمل پر مبنی اقدامات کے بجائے پیشگی پالیسی منصوبہ بندی کی طرف بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے وضاحت کی کہ معاشی استحکام برقرار رکھنے سے حکومت کو ایسا مالیاتی اسپیس حاصل ہوتا ہے، جس کے ذریعے بیرونی جھٹکوں سے نمٹنا ممکن ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 2022 میں حکومت بین الاقوامی وعدوں کے حصول کے لیے براہِ راست جنیوا گئی تھی، جہاں کثیرالجہتی اور دوطرفہ اداروں کی جانب سے اعلانات کیے گئے، تاہم ان میں سے بہت کم عملی شکل اختیار کر سکے کیونکہ منصوبہ جاتی فنانسنگ کو بھی وعدوں کا حصہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم انہوں نے کہا کہ معاشی اور مالیاتی استحکام کے باعث حکومت نے 2025 کے سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر قابو پایا، اور اس کے لیے مکمل طور پر بین الاقوامی امداد پر انحصار نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی فنانسنگ کے ذریعے سالانہ 600 سے 700 ملین ڈالر کی مالی معاونت دستیاب ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت گرین فنانسنگ کے مختلف ذرائع پر فعال انداز میں کام کر رہی ہے، جن میں 250 ملین ڈالر کے مساوی آر ایم بی میں پانڈا بانڈز کا اجرا اور مقامی گرین سکوک شامل ہیں۔ انہوں نے مؤثر انداز میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے بینک ایبل منصوبے تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی، خصوصاً سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کی جانب تیز رفتار منتقلی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سبسڈیز اور گارنٹیز کے ذریعے اس تبدیلی کی مکمل حمایت کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285973</guid>
      <pubDate>Thu, 07 May 2026 08:54:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفرازحمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/0708512495e3ab6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/0708512495e3ab6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
