<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:30:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 14:30:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں نمایاں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285954/</link>
      <description>&lt;p&gt;آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اپریل کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جاری مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں تعطل کے باعث فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 7 فیصد اور مارچ 2026 کے مقابلے میں 6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل قیمتوں میں اضافے کے اثرات یقیناً مقامی صارفین پر پڑے ہیں، جو فروخت میں کمی کی ایک بڑی وجہ بنے ہیں، تاہم یہ امر نہ صرف حکام بلکہ آئی ایم ایف کیلئے بھی سنجیدہ تشویش کا باعث ہونا چاہیے جو مسلسل ان سخت ابتدائی شرائط کو مرحلہ وار ختم کرنے سے انکار کرتا رہا ہے جو عام آدمی پر بوجھ کم کر سکتی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف حکومتوں کی جانب سے پیٹرولیم لیوی پر بڑھتے ہوئے انحصار پر بھی تشویش ہے، کیونکہ یہ نہ صرف آسانی سے وصول کی جاتی ہے بلکہ صوبوں کے ساتھ بھی اس کی تقسیم نہیں ہوتی حالانکہ یہ ایک سیلز ٹیکس ہے جو قابلِ تقسیم محاصل کے حصے میں شامل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ بڑے پیمانے پر سمجھی جاتی ہے کہ حکومت نے اپریل 2026 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے 1961 کے پیٹرولیم مصنوعات (پیٹرولیم لیوی) آرڈیننس کے پانچویں شیڈول کو ختم کر دیا، جس کے تحت لیوی کی حد مقرر تھی۔ آج پیٹرولیم لیوی میں اضافے کی واحد رکاوٹ عوامی سطح پر واضح ناپسندیدگی ہے جس کے باعث وزیراعظم شہباز شریف نے 2 اپریل کو ایک روز قبل اعلان کردہ لیوی کو نصف کرتے ہوئے 80 روپے فی لٹر کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ سال میں لیوی سے مجموعی وصولی کا بجٹ ہدف 1468.3 ارب روپے کی بلند سطح پر رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال کی نظرثانی شدہ وصولیوں سے 26 فیصد زیادہ ہے۔ سپلائی میں تعطل کے باعث حکومتِ پاکستان سمیت دیگر حکومتوں کی جانب سے قیمتیں بڑھانے کی مجبوری کے باوجود، وفاقی حکومت اپریل کے وسط تک 1.234 ٹریلین سے 1.33 ٹریلین روپے یعنی بجٹ ہدف کا 90 فیصد سے زائد جمع کر چکی تھی۔ مالی سال کے اختتام میں اب بھی ڈھائی ماہ سے زیادہ کا وقت باقی ہے لہٰذا اس مد میں وصولیاں بجٹ ہدف سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت نے اپریل کے آغاز میں پیٹرولیم لیوی کو 80 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر تقریباً 160 روپے فی لیٹر کرنا کیوں مناسب سمجھا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 14  ٹریلین روپے کی وصولی کا بجٹ مقرر کیا تھا، تاہم جولائی تا اپریل 2026 کے دوران 683 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے، اور توقع ہے کہ یہ خسارہ موجودہ مالی سال کے باقی دو ماہ میں مزید بڑھ جائے گا، جس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث درآمدات اور فروخت میں کمی بتائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک اس وقت آئی ایم ایف کے ایک انتہائی سخت اور کڑی شرائط والے پروگرام پر عمل پیرا ہے اور حکام پر اس شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے موجودہ اقدامات یا فنڈ کے ساتھ اتفاق کردہ ہنگامی اقدامات پر عمل درآمد شروع کرنے کا شدید دباؤ ہوگا۔ یہ فرض کرنا قبل از وقت نہ ہوگا کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں ہونے والی بھرپور وصولیوں کو دیکھ کر حکام نے براہِ راست ٹیکسوں کو بڑھانے یا ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے جیسے مشکل کام پر توجہ دینے کے بجائے، لیوی میں اضافے کو ایک آسان ہدف کے طور پر چنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے 4 مئی کو ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ شارٹ فال پر قابو پانے کے لیے محصولات جمع کرنے کے نئے اقدامات پر غور کیا جاسکے۔ بزنس ریکارڈر مسلسل پے درپے آنے والی حکومتوں کو یہ تجویز دیتا رہا ہے کہ آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ جاری اخراجات میں کٹوتی ہے (نہ کہ ترقیاتی فنڈز میں، جنہیں سال کے دوران آئی ایم ایف کے اہداف پورا کرنے کے لیے کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ کٹوتی بجٹ کے اعلان کے وقت ہی مدِ نظر رکھی جاتی ہے)۔ اس اقدام سے نہ صرف قرض لینے کی ضرورت (اندرونی اور بیرونی) کم ہوگی، بلکہ ایف بی آر کو بامعنی ٹیکس اصلاحات نافذ کرنے کا وقت بھی ملے گا تاکہ نظام کو منصفانہ، مساوی اور تضادات سے پاک بنایا جا سکے اور حکومت کو موجودہ پروگرام کے مقابلے میں آئی ایم ایف کے ساتھ کم سخت شرائط پر مذاکرات کرنے کا موقع مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اپریل کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جاری مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں تعطل کے باعث فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 7 فیصد اور مارچ 2026 کے مقابلے میں 6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>تیل قیمتوں میں اضافے کے اثرات یقیناً مقامی صارفین پر پڑے ہیں، جو فروخت میں کمی کی ایک بڑی وجہ بنے ہیں، تاہم یہ امر نہ صرف حکام بلکہ آئی ایم ایف کیلئے بھی سنجیدہ تشویش کا باعث ہونا چاہیے جو مسلسل ان سخت ابتدائی شرائط کو مرحلہ وار ختم کرنے سے انکار کرتا رہا ہے جو عام آدمی پر بوجھ کم کر سکتی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف حکومتوں کی جانب سے پیٹرولیم لیوی پر بڑھتے ہوئے انحصار پر بھی تشویش ہے، کیونکہ یہ نہ صرف آسانی سے وصول کی جاتی ہے بلکہ صوبوں کے ساتھ بھی اس کی تقسیم نہیں ہوتی حالانکہ یہ ایک سیلز ٹیکس ہے جو قابلِ تقسیم محاصل کے حصے میں شامل ہوتا ہے۔</p>
<p>یہی وجہ بڑے پیمانے پر سمجھی جاتی ہے کہ حکومت نے اپریل 2026 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے 1961 کے پیٹرولیم مصنوعات (پیٹرولیم لیوی) آرڈیننس کے پانچویں شیڈول کو ختم کر دیا، جس کے تحت لیوی کی حد مقرر تھی۔ آج پیٹرولیم لیوی میں اضافے کی واحد رکاوٹ عوامی سطح پر واضح ناپسندیدگی ہے جس کے باعث وزیراعظم شہباز شریف نے 2 اپریل کو ایک روز قبل اعلان کردہ لیوی کو نصف کرتے ہوئے 80 روپے فی لٹر کردیا۔</p>
<p>موجودہ سال میں لیوی سے مجموعی وصولی کا بجٹ ہدف 1468.3 ارب روپے کی بلند سطح پر رکھا گیا ہے جو گزشتہ سال کی نظرثانی شدہ وصولیوں سے 26 فیصد زیادہ ہے۔ سپلائی میں تعطل کے باعث حکومتِ پاکستان سمیت دیگر حکومتوں کی جانب سے قیمتیں بڑھانے کی مجبوری کے باوجود، وفاقی حکومت اپریل کے وسط تک 1.234 ٹریلین سے 1.33 ٹریلین روپے یعنی بجٹ ہدف کا 90 فیصد سے زائد جمع کر چکی تھی۔ مالی سال کے اختتام میں اب بھی ڈھائی ماہ سے زیادہ کا وقت باقی ہے لہٰذا اس مد میں وصولیاں بجٹ ہدف سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت نے اپریل کے آغاز میں پیٹرولیم لیوی کو 80 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر تقریباً 160 روپے فی لیٹر کرنا کیوں مناسب سمجھا؟</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 14  ٹریلین روپے کی وصولی کا بجٹ مقرر کیا تھا، تاہم جولائی تا اپریل 2026 کے دوران 683 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے، اور توقع ہے کہ یہ خسارہ موجودہ مالی سال کے باقی دو ماہ میں مزید بڑھ جائے گا، جس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث درآمدات اور فروخت میں کمی بتائی جا رہی ہے۔</p>
<p>ملک اس وقت آئی ایم ایف کے ایک انتہائی سخت اور کڑی شرائط والے پروگرام پر عمل پیرا ہے اور حکام پر اس شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے موجودہ اقدامات یا فنڈ کے ساتھ اتفاق کردہ ہنگامی اقدامات پر عمل درآمد شروع کرنے کا شدید دباؤ ہوگا۔ یہ فرض کرنا قبل از وقت نہ ہوگا کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں ہونے والی بھرپور وصولیوں کو دیکھ کر حکام نے براہِ راست ٹیکسوں کو بڑھانے یا ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے جیسے مشکل کام پر توجہ دینے کے بجائے، لیوی میں اضافے کو ایک آسان ہدف کے طور پر چنا۔</p>
<p>اس تناظر میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے 4 مئی کو ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ شارٹ فال پر قابو پانے کے لیے محصولات جمع کرنے کے نئے اقدامات پر غور کیا جاسکے۔ بزنس ریکارڈر مسلسل پے درپے آنے والی حکومتوں کو یہ تجویز دیتا رہا ہے کہ آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ جاری اخراجات میں کٹوتی ہے (نہ کہ ترقیاتی فنڈز میں، جنہیں سال کے دوران آئی ایم ایف کے اہداف پورا کرنے کے لیے کاٹ دیا جاتا ہے اور یہ کٹوتی بجٹ کے اعلان کے وقت ہی مدِ نظر رکھی جاتی ہے)۔ اس اقدام سے نہ صرف قرض لینے کی ضرورت (اندرونی اور بیرونی) کم ہوگی، بلکہ ایف بی آر کو بامعنی ٹیکس اصلاحات نافذ کرنے کا وقت بھی ملے گا تاکہ نظام کو منصفانہ، مساوی اور تضادات سے پاک بنایا جا سکے اور حکومت کو موجودہ پروگرام کے مقابلے میں آئی ایم ایف کے ساتھ کم سخت شرائط پر مذاکرات کرنے کا موقع مل سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285954</guid>
      <pubDate>Wed, 06 May 2026 15:45:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/06134727a39726c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/06134727a39726c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
