<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک: مالیاتی نظام کیلنڈر سال 2025 میں مستحکم اور مضبوط برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285931/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کے روز کہا ہے کہ ملک کا مالیاتی نظام کیلنڈر سال 2025 کے دوران مستحکم کارکردگی اور مضبوط لچک کا مظاہرہ کرتا رہا، جس کی وجہ بہتر ہوتی معاشی صورتحال، سرمایہ جاتی ذخائر میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کی سالانہ فنانشل اسٹیبلٹی ریویو 2025 کے مطابق مالیاتی شعبہ سال کے دوران 15.1 فیصد تک وسیع ہوا، جبکہ مالیاتی گہرائی، جس کا اندازہ اثاثہ جات کے جی ڈی پی سے تناسب کے ذریعے لگایا جاتا ہے، بڑھ کر 67.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیرِ نظر سال کے دوران مالیاتی استحکام کو لاحق خطرات میں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق کیلنڈر سال 2025 میں ملکی معاشی حالات میں بہتری دیکھی گئی، مہنگائی مرکزی بینک کے ہدفی دائرہ کار میں آ گئی، معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ یہ بہتری بنیادی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور اسٹیٹ بینک کی انٹربینک مارکیٹ میں اسٹریٹجک خریداریوں کے باعث حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے کہا کہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور لچک و پائیداری سہولت ( آر ایس ایف) کے تحت کیے گئے جائزوں کو سال کے دوران کامیابی سے مکمل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران منی مارکیٹ، زرمبادلہ مارکیٹ اور ایکویٹی مارکیٹ مجموعی طور پر بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے معمول کے مطابق کام کرتی رہیں، تاہم اوسط اتار چڑھاؤ میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ اسٹاک مارکیٹ رہی، جس نے تجارتی ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔ اس کے برعکس زرمبادلہ مارکیٹ نسبتاً مستحکم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری شعبے نے بھی مستحکم کارکردگی برقرار رکھی، جہاں بینکوں کی مجموعی بیلنس شیٹس میں 17.8 فیصد اضافہ ہوا، جس کی قیادت حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 میں ایڈوانسز میں سال بہ سال بنیاد پر کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ پچھلے سال کی اے ڈی آر سے منسلک ٹیکس پالیسی کا بلند بیس ایفیکٹ تھا، تاہم ایڈجسٹڈ ایڈوانسز نے بہتر معاشی و مالی حالات کے مطابق صحت مند اضافہ دکھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق سال کے دوران ڈپازٹس میں بہتری آئی جس سے بینکوں کا انحصار قرضوں پر کم ہوا۔ اثاثہ جات کے معیار میں بھی بہتری آئی اور نان پرفارمنگ لونز ( این پی ایلز) کا مجموعی قرضوں سے تناسب دسمبر 2025 میں 6.1 فیصد رہ گیا، جو ایک سال قبل 6.3 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروویژننگ کوریج بھی بڑھ کر 107.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ کریڈٹ پورٹ فولیو کا بڑا حصہ ایسے ریٹیڈ قرض داروں پر مشتمل رہا جن کی کریڈٹ پروفائل مستحکم تھی۔ بعد از ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوا، تاہم منافع کے اشاریے حجم میں اضافے کے باوجود کچھ حد تک کمزور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکاری شعبے کی مالی مضبوطی برقرار رہی اور کیپیٹل ایڈیکیسی رییشو بڑھ کر دسمبر 2025 کے آخر تک 20.8 فیصد ہو گیا، جو ریگولیٹری تقاضوں سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلامک بینکاری اداروں نے برانچ نیٹ ورک میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی توسیع ریکارڈ کی اور ترقی کی رفتار برقرار رکھی، جبکہ ان کے سرمایہ جاتی ذخائر بھی مضبوط رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروفنانس بینک مجموعی طور پر دباؤ کا شکار رہے، تاہم  کلینڈر سال 2025 میں نقصانات میں نمایاں کمی آئی کیونکہ سرمایہ کاری میں اضافہ اور تنظیمِ نو کے اقدامات اثر دکھانے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نان بینکنگ مالیاتی شعبے میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا، جہاں ڈی ایف آئیز ( ڈی ایف آئیز) میں کمی آئی جبکہ دیگر نان بینکنگ مالیاتی اداروں ( این بی ایف آئیز) نے مناسب رفتار سے ترقی کی، اور انشورنس سیکٹر نے مضبوط کارکردگی برقرار رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر مالیاتی کارپوریٹ سیکٹر کی قرض ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری آئی کیونکہ مالیاتی لاگت میں کمی ہوئی، تاہم آمدنی کے دباؤ اور کمزور منافع بدستور موجود رہے۔ بڑے بینکنگ قرض داروں کی کریڈٹ اہلیت اور ادائیگی کی صلاحیت بھی مستحکم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالیاتی مارکیٹ انفراسٹرکچر پورے سال مستحکم اور آپریشنل طور پر مضبوط رہا، جبکہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز نے مالی سرگرمیوں کے حجم میں اضافہ جاری رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کئی پالیسی اقدامات کیے گئے، جن میں پرزم پلس (PRISM+)، راست (RAAST) کے ذریعے کیو آر کوڈ پر مبنی ادائیگیوں کا نظام، اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (NCCPL) کے تحت ٹی+1 سیٹلمنٹ نظام کی طرف منتقلی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ کے حوالے سے اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال مالیاتی استحکام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے، تاہم مضبوط مالیاتی بفرز اور مؤثر نگرانی و بحران مینجمنٹ فریم ورک بینکاری شعبے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ حالیہ اسٹریس ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق بینکاری شعبہ، بشمول بڑے سسٹمک بینک، تین سالہ افق میں شدید جھٹکوں کا بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے کہا کہ وہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر قیمتوں اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کے روز کہا ہے کہ ملک کا مالیاتی نظام کیلنڈر سال 2025 کے دوران مستحکم کارکردگی اور مضبوط لچک کا مظاہرہ کرتا رہا، جس کی وجہ بہتر ہوتی معاشی صورتحال، سرمایہ جاتی ذخائر میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی ہے۔</strong></p>
<p>مرکزی بینک کی سالانہ فنانشل اسٹیبلٹی ریویو 2025 کے مطابق مالیاتی شعبہ سال کے دوران 15.1 فیصد تک وسیع ہوا، جبکہ مالیاتی گہرائی، جس کا اندازہ اثاثہ جات کے جی ڈی پی سے تناسب کے ذریعے لگایا جاتا ہے، بڑھ کر 67.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیرِ نظر سال کے دوران مالیاتی استحکام کو لاحق خطرات میں کمی آئی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق کیلنڈر سال 2025 میں ملکی معاشی حالات میں بہتری دیکھی گئی، مہنگائی مرکزی بینک کے ہدفی دائرہ کار میں آ گئی، معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ یہ بہتری بنیادی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور اسٹیٹ بینک کی انٹربینک مارکیٹ میں اسٹریٹجک خریداریوں کے باعث حاصل ہوئی۔</p>
<p>اس نے کہا کہ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور لچک و پائیداری سہولت ( آر ایس ایف) کے تحت کیے گئے جائزوں کو سال کے دوران کامیابی سے مکمل کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران منی مارکیٹ، زرمبادلہ مارکیٹ اور ایکویٹی مارکیٹ مجموعی طور پر بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے معمول کے مطابق کام کرتی رہیں، تاہم اوسط اتار چڑھاؤ میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ اسٹاک مارکیٹ رہی، جس نے تجارتی ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔ اس کے برعکس زرمبادلہ مارکیٹ نسبتاً مستحکم رہی۔</p>
<p>بینکاری شعبے نے بھی مستحکم کارکردگی برقرار رکھی، جہاں بینکوں کی مجموعی بیلنس شیٹس میں 17.8 فیصد اضافہ ہوا، جس کی قیادت حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری نے کی۔</p>
<p>دسمبر 2025 میں ایڈوانسز میں سال بہ سال بنیاد پر کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ پچھلے سال کی اے ڈی آر سے منسلک ٹیکس پالیسی کا بلند بیس ایفیکٹ تھا، تاہم ایڈجسٹڈ ایڈوانسز نے بہتر معاشی و مالی حالات کے مطابق صحت مند اضافہ دکھایا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق سال کے دوران ڈپازٹس میں بہتری آئی جس سے بینکوں کا انحصار قرضوں پر کم ہوا۔ اثاثہ جات کے معیار میں بھی بہتری آئی اور نان پرفارمنگ لونز ( این پی ایلز) کا مجموعی قرضوں سے تناسب دسمبر 2025 میں 6.1 فیصد رہ گیا، جو ایک سال قبل 6.3 فیصد تھا۔</p>
<p>پروویژننگ کوریج بھی بڑھ کر 107.7 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ کریڈٹ پورٹ فولیو کا بڑا حصہ ایسے ریٹیڈ قرض داروں پر مشتمل رہا جن کی کریڈٹ پروفائل مستحکم تھی۔ بعد از ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوا، تاہم منافع کے اشاریے حجم میں اضافے کے باوجود کچھ حد تک کمزور ہوئے۔</p>
<p>بینکاری شعبے کی مالی مضبوطی برقرار رہی اور کیپیٹل ایڈیکیسی رییشو بڑھ کر دسمبر 2025 کے آخر تک 20.8 فیصد ہو گیا، جو ریگولیٹری تقاضوں سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>اسلامک بینکاری اداروں نے برانچ نیٹ ورک میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی توسیع ریکارڈ کی اور ترقی کی رفتار برقرار رکھی، جبکہ ان کے سرمایہ جاتی ذخائر بھی مضبوط رہے۔</p>
<p>مائیکروفنانس بینک مجموعی طور پر دباؤ کا شکار رہے، تاہم  کلینڈر سال 2025 میں نقصانات میں نمایاں کمی آئی کیونکہ سرمایہ کاری میں اضافہ اور تنظیمِ نو کے اقدامات اثر دکھانے لگے۔</p>
<p>نان بینکنگ مالیاتی شعبے میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا، جہاں ڈی ایف آئیز ( ڈی ایف آئیز) میں کمی آئی جبکہ دیگر نان بینکنگ مالیاتی اداروں ( این بی ایف آئیز) نے مناسب رفتار سے ترقی کی، اور انشورنس سیکٹر نے مضبوط کارکردگی برقرار رکھی۔</p>
<p>غیر مالیاتی کارپوریٹ سیکٹر کی قرض ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری آئی کیونکہ مالیاتی لاگت میں کمی ہوئی، تاہم آمدنی کے دباؤ اور کمزور منافع بدستور موجود رہے۔ بڑے بینکنگ قرض داروں کی کریڈٹ اہلیت اور ادائیگی کی صلاحیت بھی مستحکم رہی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالیاتی مارکیٹ انفراسٹرکچر پورے سال مستحکم اور آپریشنل طور پر مضبوط رہا، جبکہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز نے مالی سرگرمیوں کے حجم میں اضافہ جاری رکھا۔</p>
<p>نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کئی پالیسی اقدامات کیے گئے، جن میں پرزم پلس (PRISM+)، راست (RAAST) کے ذریعے کیو آر کوڈ پر مبنی ادائیگیوں کا نظام، اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (NCCPL) کے تحت ٹی+1 سیٹلمنٹ نظام کی طرف منتقلی شامل ہے۔</p>
<p>آئندہ کے حوالے سے اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال مالیاتی استحکام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے، تاہم مضبوط مالیاتی بفرز اور مؤثر نگرانی و بحران مینجمنٹ فریم ورک بینکاری شعبے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ حالیہ اسٹریس ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق بینکاری شعبہ، بشمول بڑے سسٹمک بینک، تین سالہ افق میں شدید جھٹکوں کا بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک نے کہا کہ وہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر قیمتوں اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285931</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 20:47:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/05203813e4bd7cf.webp" type="image/webp" medium="image" height="168" width="300">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/05203813e4bd7cf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
