<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 23:56:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 23:56:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کی قابل تجدید توانائی کے لیے جامع حکمت عملی بنانے اور بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285926/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ توانائی کی مستقبل کی ضروریات کو قابلِ تجدید ذرائع سے پورا کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی وضع کی جائے، جبکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور بجلی چوری کی روک تھام کی کوششوں کو تیز کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق بجلی کے شعبے میں اصلاحاتی اقدامات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پن بجلی، شمسی توانائی اور بائیو گیس کے ذریعے بجلی کی پیداوار سے لاگت میں مزید کمی آئے گی، جس کے معاشی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجلی چوری میں ملوث افراد کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے ان بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے خلاف محکمانہ کارروائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی جنہوں نے حال ہی میں اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے بجلی چوری کے شکار علاقوں میں ٹرانسفارمرز پر اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے کا حکم دیا اور ملک میں بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کے فروغ کے اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے حکام سے کہا کہ پہلے مرحلے میں ویلنگ سسٹم کے تحت نجی شعبے کو400 میگاواٹ بجلی کی فراہمی پر کام تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مؤثر اقدامات کے باعث بجلی چوری، عدم ادائیگی اور ترسیلی نقصانات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق بجلی کی ترسیل کے نظام میں نقصانات جون 2024 کے 18.3 فیصد سے کم ہو کر مارچ 2026 میں 15.3 فیصد رہ گئے ہیں، جبکہ بجلی کے بلوں کی وصولی جون 2024 کے 90 فیصد سے بہتر ہو کر مارچ 2026 میں 96.46 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شراکت داری پر کام جاری ہے، جس کا ٹینڈر (بڈنگ) کا مرحلہ رواں سال نومبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مزید برآں  2,500 زیادہ نقصان والے فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، سردار اویس لغاری، مشیر نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ توانائی کی مستقبل کی ضروریات کو قابلِ تجدید ذرائع سے پورا کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی وضع کی جائے، جبکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور بجلی چوری کی روک تھام کی کوششوں کو تیز کیا جائے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق بجلی کے شعبے میں اصلاحاتی اقدامات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پن بجلی، شمسی توانائی اور بائیو گیس کے ذریعے بجلی کی پیداوار سے لاگت میں مزید کمی آئے گی، جس کے معاشی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجلی چوری میں ملوث افراد کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔</p>
<p>وزیراعظم نے ان بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے خلاف محکمانہ کارروائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی جنہوں نے حال ہی میں اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے بجلی چوری کے شکار علاقوں میں ٹرانسفارمرز پر اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کے منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے کا حکم دیا اور ملک میں بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کے فروغ کے اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔</p>
<p>وزیراعظم نے حکام سے کہا کہ پہلے مرحلے میں ویلنگ سسٹم کے تحت نجی شعبے کو400 میگاواٹ بجلی کی فراہمی پر کام تیز کیا جائے۔</p>
<p>اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مؤثر اقدامات کے باعث بجلی چوری، عدم ادائیگی اور ترسیلی نقصانات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق بجلی کی ترسیل کے نظام میں نقصانات جون 2024 کے 18.3 فیصد سے کم ہو کر مارچ 2026 میں 15.3 فیصد رہ گئے ہیں، جبکہ بجلی کے بلوں کی وصولی جون 2024 کے 90 فیصد سے بہتر ہو کر مارچ 2026 میں 96.46 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شراکت داری پر کام جاری ہے، جس کا ٹینڈر (بڈنگ) کا مرحلہ رواں سال نومبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مزید برآں  2,500 زیادہ نقصان والے فیڈرز پر اسمارٹ میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، سردار اویس لغاری، مشیر نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285926</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 19:22:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/05190857cf13e5d.webp" type="image/webp" medium="image" height="854" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/05190857cf13e5d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
