<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 07:42:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 20 Jun 2026 07:42:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ورلڈ کپ نشریاتی بحران کا شکار، بھارتی کمپنی کی محض 20 ملین ڈالرز کی پیشکش، چین کے ساتھ بھی کوئی معاہدہ نہ ہو سکا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285914/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے دو گنجان آباد ترین ممالک بھارت اور چین کے کروڑوں فٹ بال شائقین اگلے ماہ شروع ہونے والے ورلڈ کپ سے محروم رہ سکتے ہیں۔ نشریاتی حقوق پر جاری تعطل کے باعث تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مکیش امبانی کی ’ریلائنس ڈزنی‘ جائنٹ وینچر نے 2026 کے ورلڈ کپ کے لیے محض 20 ملین ڈالرز کی پیشکش کی ہے، جو فیفا کے مطالبے سے کہیں کم ہے۔ یاد رہے کہ 2022 کے ورلڈ کپ کے حقوق ریلائنس نے 60 ملین ڈالرز میں حاصل کیے تھے، تاہم اس بار امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے وقت کے فرق (میچوں کا آدھی رات کو ہونا) اور اشتہارات کی مد میں آمدن کی کمی کو جواز بنا کر انتہائی کم بولی لگائی گئی ہے۔ سونی نے بھی معاشی طور پر سود مند نہ ہونے کی بنا پر اس دوڑ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چین، جو عالمی ڈیجیٹل ویورشپ کا تقریباً 50 فیصد حصہ رکھتا ہے وہاں سے بھی اب تک کسی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔ ماضی میں چینی سرکاری میڈیا  سی سی ٹی وی  ہفتوں پہلے تشہیری مہم شروع کر دیتا تھا لیکن اس بار محض پانچ ہفتے باقی رہنے کے باوجود صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق ایرانی جنگ سے جڑے اثرات اور اشتہارات کی مارکیٹ میں مندی نے کمپنیوں کو بڑی سرمایہ کاری سے روک دیا ہے، جس کے باعث فیفا کو اربوں ناظرین کھونے کا خطرہ درپیش ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا کے دو گنجان آباد ترین ممالک بھارت اور چین کے کروڑوں فٹ بال شائقین اگلے ماہ شروع ہونے والے ورلڈ کپ سے محروم رہ سکتے ہیں۔ نشریاتی حقوق پر جاری تعطل کے باعث تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق مکیش امبانی کی ’ریلائنس ڈزنی‘ جائنٹ وینچر نے 2026 کے ورلڈ کپ کے لیے محض 20 ملین ڈالرز کی پیشکش کی ہے، جو فیفا کے مطالبے سے کہیں کم ہے۔ یاد رہے کہ 2022 کے ورلڈ کپ کے حقوق ریلائنس نے 60 ملین ڈالرز میں حاصل کیے تھے، تاہم اس بار امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے وقت کے فرق (میچوں کا آدھی رات کو ہونا) اور اشتہارات کی مد میں آمدن کی کمی کو جواز بنا کر انتہائی کم بولی لگائی گئی ہے۔ سونی نے بھی معاشی طور پر سود مند نہ ہونے کی بنا پر اس دوڑ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب چین، جو عالمی ڈیجیٹل ویورشپ کا تقریباً 50 فیصد حصہ رکھتا ہے وہاں سے بھی اب تک کسی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔ ماضی میں چینی سرکاری میڈیا  سی سی ٹی وی  ہفتوں پہلے تشہیری مہم شروع کر دیتا تھا لیکن اس بار محض پانچ ہفتے باقی رہنے کے باوجود صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق ایرانی جنگ سے جڑے اثرات اور اشتہارات کی مارکیٹ میں مندی نے کمپنیوں کو بڑی سرمایہ کاری سے روک دیا ہے، جس کے باعث فیفا کو اربوں ناظرین کھونے کا خطرہ درپیش ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285914</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 13:00:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/0512484817d8a74.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/0512484817d8a74.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
