<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:35:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 16:35:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، کے ایس ای-100 انڈیکس میں تقریباً 800 پوائنٹس کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285908/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز اتار چڑھاؤ کا رجحان رہا، جبکہ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 800 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ نے دن کا آغاز مضبوط انداز میں کیا اور ابتدائی لمحات میں تیز خریداری کے باعث نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم یہ ابتدائی تیزی برقرار نہ رہ سکی اور انڈیکس میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کی وجہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تجارتی خسارے میں اضافہ بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر کے قریب انڈیکس میں واضح کمی دیکھی گئی اور یہ 162,532.98 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں دن کے دوسرے حصے میں دوبارہ خریداری کا رجحان غالب آیا اور انڈیکس بتدریج بہتری کے ساتھ بلند سطحیں بناتا ہوا دن کی بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 164,742.47 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 793.53 پوائنٹس یا 0.48 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیہتری کیپٹل نے منگل کے روز کہا ہے کہ سرمایہ کار ایک طرف بڑے مقامی تجارتی خسارے اور دوسری طرف عالمی توانائی بحران کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، جو موجودہ مالی سال کی سمت تبدیل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی جلد کم نہ ہوئی تو درآمدی بل ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا تجارتی خسارہ اپریل 2026 میں 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر مستحکم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکہ اور ایران نے پیر کے روز خلیج میں نئے حملے شروع کیے، جب وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے بحری ناکہ بندیوں کے ذریعے برسرپیکار تھے، اور یہ سب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کی نئی کوشش کے بعد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز اسٹاک ایکسچینج مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوا، تاہم ابتدائی مضبوط رفتار جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث کمزور پڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 954.77 پوائنٹس یا 0.59 فیصد اضافے کے ساتھ 163,948.94 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاکس منگل کے روز کمی کا شکار ہوگئی، جبکہ تیل کی قیمتیں کم تو ہوئیں مگر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین ایشیا پیسیفک انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 0.3 فیصد نیچے رہا۔ آسٹریلیا کے حصص 0.4 فیصد گرے، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا کی مارکیٹس تعطیل کے باعث بند رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیس ڈیک فیوچرز اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں تقریباً 0.1 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جبکہ یورواسٹاکس ایکس 50 فیوچرز 0.2 فیصد اور یف ٹی ایس ای فیوچر 0.75 فیصد گر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران منگل کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278.75 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسہ کے اضافے (0.01 روپے کی بہتری) کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں حصص کے حجم میں کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ بندش پر 696.70 ملین کے مقابلے میں کم ہو کر 453.22 ملین رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی مجموعی مالیت بھی گھٹ کر 34.91 ارب روپے سے کم ہو کر 22.78 ارب روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف پنجاب حجم کے لحاظ سے سب سے زیادہ سرگرم کمپنی رہی، جس کے 45.25 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔ اس کے بعد سوئی سدرن گیس کے 30.89 ملین حصص اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 30.17 ملین حصص کا لین دین ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز مجموعی طور پر 484 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 221 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا، 210 میں کمی دیکھی گئی جبکہ 53 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/05180930c592c01.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/05180930c592c01.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز اتار چڑھاؤ کا رجحان رہا، جبکہ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 800 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ نے دن کا آغاز مضبوط انداز میں کیا اور ابتدائی لمحات میں تیز خریداری کے باعث نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم یہ ابتدائی تیزی برقرار نہ رہ سکی اور انڈیکس میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کی وجہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تجارتی خسارے میں اضافہ بتایا گیا ہے۔</p>
<p>دوپہر کے قریب انڈیکس میں واضح کمی دیکھی گئی اور یہ 162,532.98 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔</p>
<p>بعد ازاں دن کے دوسرے حصے میں دوبارہ خریداری کا رجحان غالب آیا اور انڈیکس بتدریج بہتری کے ساتھ بلند سطحیں بناتا ہوا دن کی بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 164,742.47 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 793.53 پوائنٹس یا 0.48 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>بیہتری کیپٹل نے منگل کے روز کہا ہے کہ سرمایہ کار ایک طرف بڑے مقامی تجارتی خسارے اور دوسری طرف عالمی توانائی بحران کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، جو موجودہ مالی سال کی سمت تبدیل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی جلد کم نہ ہوئی تو درآمدی بل ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کا تجارتی خسارہ اپریل 2026 میں 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، جبکہ اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر مستحکم ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکہ اور ایران نے پیر کے روز خلیج میں نئے حملے شروع کیے، جب وہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے بحری ناکہ بندیوں کے ذریعے برسرپیکار تھے، اور یہ سب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کی نئی کوشش کے بعد ہوا۔</p>
<p>پیر کے روز اسٹاک ایکسچینج مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوا، تاہم ابتدائی مضبوط رفتار جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث کمزور پڑ گئی۔</p>
<p>بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 954.77 پوائنٹس یا 0.59 فیصد اضافے کے ساتھ 163,948.94 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاکس منگل کے روز کمی کا شکار ہوگئی، جبکہ تیل کی قیمتیں کم تو ہوئیں مگر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین ایشیا پیسیفک انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 0.3 فیصد نیچے رہا۔ آسٹریلیا کے حصص 0.4 فیصد گرے، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا کی مارکیٹس تعطیل کے باعث بند رہیں۔</p>
<p>نیس ڈیک فیوچرز اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں تقریباً 0.1 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جبکہ یورواسٹاکس ایکس 50 فیوچرز 0.2 فیصد اور یف ٹی ایس ای فیوچر 0.75 فیصد گر گئے۔</p>
<p>اسی دوران منگل کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے مضبوط ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278.75 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسہ کے اضافے (0.01 روپے کی بہتری) کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں حصص کے حجم میں کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ بندش پر 696.70 ملین کے مقابلے میں کم ہو کر 453.22 ملین رہ گیا۔</p>
<p>حصص کی مجموعی مالیت بھی گھٹ کر 34.91 ارب روپے سے کم ہو کر 22.78 ارب روپے رہ گئی۔</p>
<p>بینک آف پنجاب حجم کے لحاظ سے سب سے زیادہ سرگرم کمپنی رہی، جس کے 45.25 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔ اس کے بعد سوئی سدرن گیس کے 30.89 ملین حصص اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 30.17 ملین حصص کا لین دین ہوا۔</p>
<p>منگل کے روز مجموعی طور پر 484 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 221 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا، 210 میں کمی دیکھی گئی جبکہ 53 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/05180930c592c01.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/05180930c592c01.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285908</guid>
      <pubDate>Tue, 05 May 2026 18:34:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/05111519c137bb6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/05111519c137bb6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
