<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 13:22:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 13:22:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی منڈی کی ضرورت کے مطابق بغیر پابندی تیل پیدا کرنا سرمایہ کاروں کا حق ہے، متحدہ عرب امارات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285891/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات  کے وزیر توانائی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے سرمایہ کار شراکت داروں کا مقروض ہے کہ وہ عالمی منڈی کی ضرورت کے مطابق بغیر کسی پابندی کے تیل پیدا کرے، جبکہ دیگر خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ تعاون بھی جاری رکھا جائے۔ یہ بیان خلیجی ریاست کے اوپیک سے علیحدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات، جو اوپیک کے بڑے پیدا کنندگان میں سے ایک تھا، یکم مئی کو اس گروپ سے باہر نکل گیا تھا۔ اس اقدام نے اس کے پڑوسی ملک سعودی عرب کے ساتھ اختلافات کو مزید واضح کر دیا ہے، جو کہ عملی طور پر اوپیک اور وسیع تر اوپیک پلس  گروپ کا سربراہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی سہیل المزروعی نے دبئی میں سالانہ یو اے ای انڈسٹریل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاری کرنے والے شراکت داروں کے مرہونِ منت ہیں کہ دنیا کی ضرورت کے مطابق بغیر کسی پابندی کے پیداوار کریں اور تمام دیگر پیدا کنندگان کے ساتھ تعاون کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی زمانے میں قریبی اتحادی رہنے والے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان اب ایک ابھرتی ہوئی دشمنی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تیل کی پالیسی، علاقائی جغرافیائی سیاست سے لے کر غیر ملکی ہنرمندوں اور سرمائے کے حصول تک کے معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المزروعی اور سرکاری توانائی گروپ ادنوک کے سی ای او نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس کو خوشگوار تعلقات کے ساتھ چھوڑا ہے اور یہ فیصلہ کسی کے خلاف نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میک اٹ ان دی ایمریٹس کانفرنس میں المزروعی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم اوپیک اور اوپیک پلس کے اراکین سمیت بہت سی اقوام کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ ہم نے خوشگوار ماحول میں علیحدگی اختیار کی ہے۔جب ان سے سعودی عرب اور اوپیک کے عوامی ردعمل کی کمی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ گروپ اس فیصلے پر خاموش رہا ہے۔ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ ایک خودمختار فیصلہ ہے اور یہ بھی کہ متحدہ عرب امارات ایک ذمہ دار پیدا کنندہ رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="طویل-مدتی-اسٹریٹجک-مقاصد" href="#طویل-مدتی-اسٹریٹجک-مقاصد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;طویل مدتی اسٹریٹجک مقاصد&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے ماہرین متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کو تیل کی منڈیوں پر اوپیک کی گرفت کمزور ہونے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس سے پیداوار بڑھانے کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المزروعی نے مزید کہا کہ ہم اپنی سرگرمیوں کا تعین مارکیٹ کی ضروریات اور اپنی مقامی صنعتوں کی ضرورت کی بنیاد پر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادنوک کے سی ای او سلطان الجابر نے کہا کہ اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ متحدہ عرب امارات کے طویل مدتی اسٹریٹجک مقاصد کے عین مطابق ہے۔ اس سے ملک کو سرمایہ کاری تیز کرنے، کاروبار پھیلانے اور اپنی اہمیت بڑھانے کی زیادہ صلاحیت ملے گی، جبکہ وہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک قابل اعتماد اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کانفرنس کے دوران بتایا کہ عالمی توانائی کے منظر نامے میں اپنی پوزیشن تبدیل کرنے اور اوپیک و اوپیک پلس سے باہر نکلنے کا متحدہ عرب امارات کا خودمختار فیصلہ کسی کے خلاف نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات  کے وزیر توانائی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے سرمایہ کار شراکت داروں کا مقروض ہے کہ وہ عالمی منڈی کی ضرورت کے مطابق بغیر کسی پابندی کے تیل پیدا کرے، جبکہ دیگر خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ تعاون بھی جاری رکھا جائے۔ یہ بیان خلیجی ریاست کے اوپیک سے علیحدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>متحدہ عرب امارات، جو اوپیک کے بڑے پیدا کنندگان میں سے ایک تھا، یکم مئی کو اس گروپ سے باہر نکل گیا تھا۔ اس اقدام نے اس کے پڑوسی ملک سعودی عرب کے ساتھ اختلافات کو مزید واضح کر دیا ہے، جو کہ عملی طور پر اوپیک اور وسیع تر اوپیک پلس  گروپ کا سربراہ ہے۔</p>
<p>وزیر توانائی سہیل المزروعی نے دبئی میں سالانہ یو اے ای انڈسٹریل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاری کرنے والے شراکت داروں کے مرہونِ منت ہیں کہ دنیا کی ضرورت کے مطابق بغیر کسی پابندی کے پیداوار کریں اور تمام دیگر پیدا کنندگان کے ساتھ تعاون کریں۔</p>
<p>کسی زمانے میں قریبی اتحادی رہنے والے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان اب ایک ابھرتی ہوئی دشمنی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تیل کی پالیسی، علاقائی جغرافیائی سیاست سے لے کر غیر ملکی ہنرمندوں اور سرمائے کے حصول تک کے معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>المزروعی اور سرکاری توانائی گروپ ادنوک کے سی ای او نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس کو خوشگوار تعلقات کے ساتھ چھوڑا ہے اور یہ فیصلہ کسی کے خلاف نہیں تھا۔</p>
<p>میک اٹ ان دی ایمریٹس کانفرنس میں المزروعی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم اوپیک اور اوپیک پلس کے اراکین سمیت بہت سی اقوام کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ ہم نے خوشگوار ماحول میں علیحدگی اختیار کی ہے۔جب ان سے سعودی عرب اور اوپیک کے عوامی ردعمل کی کمی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ گروپ اس فیصلے پر خاموش رہا ہے۔ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ ایک خودمختار فیصلہ ہے اور یہ بھی کہ متحدہ عرب امارات ایک ذمہ دار پیدا کنندہ رہے گا۔</p>
<h3><a id="طویل-مدتی-اسٹریٹجک-مقاصد" href="#طویل-مدتی-اسٹریٹجک-مقاصد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>طویل مدتی اسٹریٹجک مقاصد</strong></h3>
<p>توانائی کے ماہرین متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کو تیل کی منڈیوں پر اوپیک کی گرفت کمزور ہونے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس سے پیداوار بڑھانے کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آ سکتی ہے۔</p>
<p>المزروعی نے مزید کہا کہ ہم اپنی سرگرمیوں کا تعین مارکیٹ کی ضروریات اور اپنی مقامی صنعتوں کی ضرورت کی بنیاد پر کریں گے۔</p>
<p>ادنوک کے سی ای او سلطان الجابر نے کہا کہ اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ متحدہ عرب امارات کے طویل مدتی اسٹریٹجک مقاصد کے عین مطابق ہے۔ اس سے ملک کو سرمایہ کاری تیز کرنے، کاروبار پھیلانے اور اپنی اہمیت بڑھانے کی زیادہ صلاحیت ملے گی، جبکہ وہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک قابل اعتماد اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر برقرار رہے گا۔</p>
<p>انہوں نے کانفرنس کے دوران بتایا کہ عالمی توانائی کے منظر نامے میں اپنی پوزیشن تبدیل کرنے اور اوپیک و اوپیک پلس سے باہر نکلنے کا متحدہ عرب امارات کا خودمختار فیصلہ کسی کے خلاف نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285891</guid>
      <pubDate>Mon, 04 May 2026 20:02:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/04193501b61f126.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/04193501b61f126.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
