<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:35:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 14:35:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متحدہ عرب امارات کی تیل کی بڑی کمپنی ایڈنوک کا 2028 تک نئے منصوبوں کے لیے 55 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عہد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285847/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ابوظہبی نیشنل اویل کمپنی ایڈنوک نے اگلے دو برس میں نئے منصوبوں پر 55 ارب ڈالر خرچ کرنے کا عہد کیا ہے، یہ اعلان متحدہ عرب امارات کے باقاعدہ طور پر اوپیک  نامی تیل کے کارٹل (اتحاد) سے علیحدگی کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک اور وسیع تر اوپیک پلس گروپ کو چھوڑنے کے اس اقدام سے متحدہ عرب امارات کو دہائیوں سے جاری کوٹہ سسٹم کے بجائے اپنی مرضی کے مطابق خام تیل پیدا کرنے کی اجازت ملے گی، جس سے ملک کو بڑے پیمانے پر مالی فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایڈنوک نے آج تصدیق کی ہے کہ وہ 2026 سے 2028 کے دوران 200 ارب درہم (55 ارب ڈالر) کے نئے پروجیکٹ ایوارڈز کے ساتھ اپنی حکمت عملی کی ترسیل اور ترقی کو تیز کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے بے چینی پھیلی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے توانائی کی برآمدات بڑے پیمانے پر بند ہو گئی ہیں اور تہران کے حملوں سے پورے خطے کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی جانب سے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث تیل کی روانی میں خلل پڑنے سے پہلے متحدہ عرب امارات اوپیک پلس کا چوتھا بڑا پیدا کار تھا اور اوپیک کی مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 13 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے سعودی قیادت میں اوپیک کے کوٹے سے نالاں تھا، جس کے تحت قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے اماراتی پیداوار کو 34 لاکھ بیرل یومیہ تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ابوظہبی کا ہدف ہے کہ وہ 2027 تک اپنی پیداواری صلاحیت کو 50 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈنوک نے مزید کہا کہ منصوبہ بند پروجیکٹ ایوارڈز ایڈنوک کے اپ اسٹریم (تیل نکالنے) اور ڈاؤن اسٹریم (ریفائننگ) آپریشنز پر محیط ہیں اور یہ پروجیکٹ کی ترسیل کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کریں گے جو متحدہ عرب امارات کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو بڑھانے اور صنعتی لچک کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات 1967 سے ابوظہبی کی امارت کے ذریعے اوپیک کا رکن رہا ہے، جو اس وقت کی بات ہے جب یہ سابقہ برطانوی نوآبادیاتی علاقہ ایک آزاد ملک بھی نہیں بنا تھا۔ متحدہ عرب امارات باقاعدہ طور پر یکم مئی کو اس اتحاد سے الگ ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس وقت ایڈنوک نے اپنے اس نئے خطیر خرچ کے منصوبوں کا اعلان کیا اوپیک پلس کے سات ارکان نے متحدہ عرب امارات کی علیحدگی کے بعد اپنے پہلے اجلاس کے دوران تیل کی پیداوار کے کوٹے میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ابوظہبی نیشنل اویل کمپنی ایڈنوک نے اگلے دو برس میں نئے منصوبوں پر 55 ارب ڈالر خرچ کرنے کا عہد کیا ہے، یہ اعلان متحدہ عرب امارات کے باقاعدہ طور پر اوپیک  نامی تیل کے کارٹل (اتحاد) سے علیحدگی کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>اوپیک اور وسیع تر اوپیک پلس گروپ کو چھوڑنے کے اس اقدام سے متحدہ عرب امارات کو دہائیوں سے جاری کوٹہ سسٹم کے بجائے اپنی مرضی کے مطابق خام تیل پیدا کرنے کی اجازت ملے گی، جس سے ملک کو بڑے پیمانے پر مالی فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایڈنوک نے آج تصدیق کی ہے کہ وہ 2026 سے 2028 کے دوران 200 ارب درہم (55 ارب ڈالر) کے نئے پروجیکٹ ایوارڈز کے ساتھ اپنی حکمت عملی کی ترسیل اور ترقی کو تیز کر رہا ہے۔</p>
<p>یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے بے چینی پھیلی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے توانائی کی برآمدات بڑے پیمانے پر بند ہو گئی ہیں اور تہران کے حملوں سے پورے خطے کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>ایران کی جانب سے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث تیل کی روانی میں خلل پڑنے سے پہلے متحدہ عرب امارات اوپیک پلس کا چوتھا بڑا پیدا کار تھا اور اوپیک کی مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 13 فیصد تھا۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے سعودی قیادت میں اوپیک کے کوٹے سے نالاں تھا، جس کے تحت قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے اماراتی پیداوار کو 34 لاکھ بیرل یومیہ تک محدود رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ابوظہبی کا ہدف ہے کہ وہ 2027 تک اپنی پیداواری صلاحیت کو 50 لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھائے۔</p>
<p>ایڈنوک نے مزید کہا کہ منصوبہ بند پروجیکٹ ایوارڈز ایڈنوک کے اپ اسٹریم (تیل نکالنے) اور ڈاؤن اسٹریم (ریفائننگ) آپریشنز پر محیط ہیں اور یہ پروجیکٹ کی ترسیل کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کریں گے جو متحدہ عرب امارات کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو بڑھانے اور صنعتی لچک کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات 1967 سے ابوظہبی کی امارت کے ذریعے اوپیک کا رکن رہا ہے، جو اس وقت کی بات ہے جب یہ سابقہ برطانوی نوآبادیاتی علاقہ ایک آزاد ملک بھی نہیں بنا تھا۔ متحدہ عرب امارات باقاعدہ طور پر یکم مئی کو اس اتحاد سے الگ ہو گیا۔</p>
<p>جس وقت ایڈنوک نے اپنے اس نئے خطیر خرچ کے منصوبوں کا اعلان کیا اوپیک پلس کے سات ارکان نے متحدہ عرب امارات کی علیحدگی کے بعد اپنے پہلے اجلاس کے دوران تیل کی پیداوار کے کوٹے میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285847</guid>
      <pubDate>Sun, 03 May 2026 19:52:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/031937094eca60e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/031937094eca60e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
