<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 19:46:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 19:46:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وافر چینی کی برآمد سے تجارتی خسارے میں کمی آئے گی، لاہور چیمبر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285812/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا ہے کہ  اضافی چینی کی برآمد سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں کمی واقع ہو گی، چیمبر میں انہوں نے کہا یہ فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ ہے ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن  کی جانب سے  جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے شوگر انڈسٹری کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی چینی کی ضروریات پوری ہونے کے بعد سرپلس چینی کو برآمد کر دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہیے۔ وہاں اشیائے خورونوش کی بہت زیادہ طلب ہے کیونکہ وہ ممالک اپنی غذائی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ  حکومت کو اس امر کی ترجیح دینی چاہیے کہ ملکی ضروریات سے زائد چینی کو برآمد کر کے پاکستان کیلئے بیش قیمت غیر ملکی زرِمبادلہ حاصل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں گنے کی بمپر فصل کی پیداوار ہوئی ہے اور اس حوالے سے چینی کو زیادہ دیر تک اسٹاک نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ پاکستان کا تجارتی خسارہ بھی بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی برآمدات 8 فیصد تک کم ہو گئی ہیں جبکہ درآمدات 6.5 فیصد بڑھ چکی ہیں تو اس تجارتی خسارہ کو کم کرنے کیلئے اگر چینی برآمد ہوتی ہے تو مقامی ضروریات پوری کرنے کے بعد سرپلس چینی کو ضرور برآمد کیا جانا چاہئے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا ہے کہ  اضافی چینی کی برآمد سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں کمی واقع ہو گی، چیمبر میں انہوں نے کہا یہ فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ ہے ۔</strong></p>
<p>پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن  کی جانب سے  جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے شوگر انڈسٹری کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی چینی کی ضروریات پوری ہونے کے بعد سرپلس چینی کو برآمد کر دینا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہیے۔ وہاں اشیائے خورونوش کی بہت زیادہ طلب ہے کیونکہ وہ ممالک اپنی غذائی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتے ہیں۔</p>
<p>فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ  حکومت کو اس امر کی ترجیح دینی چاہیے کہ ملکی ضروریات سے زائد چینی کو برآمد کر کے پاکستان کیلئے بیش قیمت غیر ملکی زرِمبادلہ حاصل کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں گنے کی بمپر فصل کی پیداوار ہوئی ہے اور اس حوالے سے چینی کو زیادہ دیر تک اسٹاک نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ پاکستان کا تجارتی خسارہ بھی بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی برآمدات 8 فیصد تک کم ہو گئی ہیں جبکہ درآمدات 6.5 فیصد بڑھ چکی ہیں تو اس تجارتی خسارہ کو کم کرنے کیلئے اگر چینی برآمد ہوتی ہے تو مقامی ضروریات پوری کرنے کے بعد سرپلس چینی کو ضرور برآمد کیا جانا چاہئے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285812</guid>
      <pubDate>Sat, 02 May 2026 16:21:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/0216141185455dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/0216141185455dd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
