<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 20 Jun 2026 17:45:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 20 Jun 2026 17:45:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے امریکی امن مذاکرات میں تعطل کے دوران نیا منصوبہ پیش کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285790/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرکاری میڈیا نے جمعہ کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان کے ذریعے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جبکہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کئی ہفتوں کی جنگ بندی کے باوجود تعطل کا شکار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ادارے ارنا (آئی آر این اے) کے مطابق اس تجویز کا متن جمعرات کی شام اسلام آباد کے حوالے کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنگ، جو امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو اچانک اور بڑے پیمانے پر حملوں کے ذریعے شروع کی تھی، 8 اپریل سے معطل ہے، تاہم اب تک صرف ایک ناکام براہِ راست مذاکراتی دور ایران اور امریکا کے نمائندوں کے درمیان ہو سکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ امریکا نے اس کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سکیورٹی حکام کو ہدایت دی ہے کہ یہ ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے۔ جمعہ کو عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی، جو ایک سینئر شخصیت اور معزز عالم دین ہیں، نے کہا کہ ”اسلامی جمہوریہ کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک اور اشارہ دیتے ہوئے کہ سمجھوتہ طے کرنا مشکل ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ”ہم کسی مسلط کردہ شرط کو ہرگز قبول نہیں کرتے،“ یہ بات عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن پر جاری ویڈیو میں کہی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق تہران جنگ کی طرف واپسی نہیں چاہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہم کسی بھی صورت جنگ کا خیرمقدم نہیں کرتے؛ ہم جنگ نہیں چاہتے، نہ ہی اس کے تسلسل کے خواہاں ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائرنگ بند ہونے کے باوجود عالمی منڈیاں پرسکون نہیں ہو سکیں، اور تیل کی قیمتیں جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں اب بھی 50 فیصد سے زائد بلند ہیں، کیونکہ تاجروں کو آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا خدشہ درپیش ہے۔ اسی دوران یورپی مرکزی بینک نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات کے پیش نظر شرحِ سود برقرار رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنگی-اختیارات-پر-بحث" href="#جنگی-اختیارات-پر-بحث" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جنگی اختیارات پر بحث&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں اس وقت ایک قانونی بحث جاری ہے کہ آیا صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے کانگریس سے منظوری لینے کی مقررہ مدت عبور کر لی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کے حکام، جن میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی شامل ہیں، کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کے باعث وہ 60 روزہ مدت معطل ہو گئی ہے جس کے تحت صدر کے لیے کانگریس سے جنگی اختیارات کی منظوری لینا لازم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر امریکی عہدیدار نے جمعرات کی شب اے ایف پی کو بتایا، ”وار پاورز ریزولوشن کے تحت 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی اب ختم ہو چکی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر صدر ٹرمپ کو اندرونِ ملک دباؤ کا بھی سامنا ہے، کیونکہ جنگ میں واضح کامیابی نظر نہیں آ رہی، تنازع کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور نومبر میں وسط مدتی انتخابات بھی قریب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو امریکی حکومتی اعداد و شمار کے مطابق معاشی نمو توقع سے سست رہی جبکہ مہنگائی بڑھ کر 3.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ایران میں بھی جنگ کے معاشی اثرات واضح ہونے لگے ہیں، جو پہلے ہی برسوں سے جاری سخت بین الاقوامی پابندیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو امریکی فوج نے کہا کہ اس کی ناکہ بندی کے باعث ایران کی 6 ارب ڈالر مالیت کی تیل برآمدات رک گئی ہیں، جبکہ قومی شماریاتی مرکز کے مطابق مہنگائی، جو جنگ سے پہلے ہی 45 فیصد سے زائد تھی، حالیہ ہفتوں میں بڑھ کر 53.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 سالہ مہیار نے، جو ایران سے باہر موجود اے ایف پی کے ایک صحافی سے گفتگو کر رہے تھے، بتایا کہ ”بہت سے لوگوں کے لیے کرایہ ادا کرنا اور حتیٰ کہ کھانا خریدنا بھی مشکل ہو گیا ہے، اور کچھ کے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا۔“ ان کے مطابق جس کمپنی میں وہ کام کرتے تھے وہاں 34 افراد کو ملازمت سے نکال دیا گیا ہے، یعنی عملے کا تقریباً 40 فیصد حصہ۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہرمز-مشنز" href="#ہرمز-مشنز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہرمز مشنز&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ بارہا واشنگٹن کے بین الاقوامی اتحادیوں پر تنقید کر چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں مکمل طور پر ساتھ نہیں دے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس اور برطانیہ نے درجنوں ممالک پر مشتمل ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کی کوششوں کی قیادت کی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، تاہم یہ اقدام صرف اس صورت میں آگے بڑھایا جائے گا جب امن مکمل طور پر بحال ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جمعرات کو ایک امریکی عہدیدار نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ واشنگٹن خود بھی ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دے رہا ہے تاکہ بحری آمدورفت دوبارہ شروع کی جا سکے، جسے ”میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ“ کا نام دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں-نوئل بارو نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں مشن ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکمیلی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلف کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکی مشن ”اس نوعیت کا نہیں جو ہم نے قائم کیا ہے… یہ دراصل اس کا ایک تکمیلی حصہ ہے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سرکاری میڈیا نے جمعہ کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان کے ذریعے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جبکہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کئی ہفتوں کی جنگ بندی کے باوجود تعطل کا شکار ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی خبر رساں ادارے ارنا (آئی آر این اے) کے مطابق اس تجویز کا متن جمعرات کی شام اسلام آباد کے حوالے کیا گیا۔</p>
<p>یہ جنگ، جو امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو اچانک اور بڑے پیمانے پر حملوں کے ذریعے شروع کی تھی، 8 اپریل سے معطل ہے، تاہم اب تک صرف ایک ناکام براہِ راست مذاکراتی دور ایران اور امریکا کے نمائندوں کے درمیان ہو سکا ہے۔</p>
<p>اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ امریکا نے اس کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔</p>
<p>وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سکیورٹی حکام کو ہدایت دی ہے کہ یہ ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے۔ جمعہ کو عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی، جو ایک سینئر شخصیت اور معزز عالم دین ہیں، نے کہا کہ ”اسلامی جمہوریہ کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹی۔“</p>
<p>تاہم ایک اور اشارہ دیتے ہوئے کہ سمجھوتہ طے کرنا مشکل ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ”ہم کسی مسلط کردہ شرط کو ہرگز قبول نہیں کرتے،“ یہ بات عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن پر جاری ویڈیو میں کہی گئی۔</p>
<p>ان کے مطابق تہران جنگ کی طرف واپسی نہیں چاہتا۔</p>
<p>”ہم کسی بھی صورت جنگ کا خیرمقدم نہیں کرتے؛ ہم جنگ نہیں چاہتے، نہ ہی اس کے تسلسل کے خواہاں ہیں۔“</p>
<p>فائرنگ بند ہونے کے باوجود عالمی منڈیاں پرسکون نہیں ہو سکیں، اور تیل کی قیمتیں جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں اب بھی 50 فیصد سے زائد بلند ہیں، کیونکہ تاجروں کو آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا خدشہ درپیش ہے۔ اسی دوران یورپی مرکزی بینک نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات کے پیش نظر شرحِ سود برقرار رکھی ہے۔</p>
<h3><a id="جنگی-اختیارات-پر-بحث" href="#جنگی-اختیارات-پر-بحث" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جنگی اختیارات پر بحث</h3>
<p>واشنگٹن میں اس وقت ایک قانونی بحث جاری ہے کہ آیا صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے کانگریس سے منظوری لینے کی مقررہ مدت عبور کر لی ہے یا نہیں۔</p>
<p>انتظامیہ کے حکام، جن میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی شامل ہیں، کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کے باعث وہ 60 روزہ مدت معطل ہو گئی ہے جس کے تحت صدر کے لیے کانگریس سے جنگی اختیارات کی منظوری لینا لازم ہوتا ہے۔</p>
<p>ایک سینئر امریکی عہدیدار نے جمعرات کی شب اے ایف پی کو بتایا، ”وار پاورز ریزولوشن کے تحت 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی اب ختم ہو چکی ہے۔“</p>
<p>ادھر صدر ٹرمپ کو اندرونِ ملک دباؤ کا بھی سامنا ہے، کیونکہ جنگ میں واضح کامیابی نظر نہیں آ رہی، تنازع کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور نومبر میں وسط مدتی انتخابات بھی قریب ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو امریکی حکومتی اعداد و شمار کے مطابق معاشی نمو توقع سے سست رہی جبکہ مہنگائی بڑھ کر 3.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>اسی دوران ایران میں بھی جنگ کے معاشی اثرات واضح ہونے لگے ہیں، جو پہلے ہی برسوں سے جاری سخت بین الاقوامی پابندیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔</p>
<p>جمعرات کو امریکی فوج نے کہا کہ اس کی ناکہ بندی کے باعث ایران کی 6 ارب ڈالر مالیت کی تیل برآمدات رک گئی ہیں، جبکہ قومی شماریاتی مرکز کے مطابق مہنگائی، جو جنگ سے پہلے ہی 45 فیصد سے زائد تھی، حالیہ ہفتوں میں بڑھ کر 53.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>28 سالہ مہیار نے، جو ایران سے باہر موجود اے ایف پی کے ایک صحافی سے گفتگو کر رہے تھے، بتایا کہ ”بہت سے لوگوں کے لیے کرایہ ادا کرنا اور حتیٰ کہ کھانا خریدنا بھی مشکل ہو گیا ہے، اور کچھ کے پاس تو کچھ بھی نہیں بچا۔“ ان کے مطابق جس کمپنی میں وہ کام کرتے تھے وہاں 34 افراد کو ملازمت سے نکال دیا گیا ہے، یعنی عملے کا تقریباً 40 فیصد حصہ۔</p>
<h3><a id="ہرمز-مشنز" href="#ہرمز-مشنز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہرمز مشنز</h3>
<p>ٹرمپ بارہا واشنگٹن کے بین الاقوامی اتحادیوں پر تنقید کر چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں مکمل طور پر ساتھ نہیں دے رہے۔</p>
<p>فرانس اور برطانیہ نے درجنوں ممالک پر مشتمل ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کی کوششوں کی قیادت کی ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، تاہم یہ اقدام صرف اس صورت میں آگے بڑھایا جائے گا جب امن مکمل طور پر بحال ہو جائے۔</p>
<p>تاہم جمعرات کو ایک امریکی عہدیدار نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ واشنگٹن خود بھی ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دے رہا ہے تاکہ بحری آمدورفت دوبارہ شروع کی جا سکے، جسے ”میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ“ کا نام دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس پر فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں-نوئل بارو نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں مشن ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکمیلی ہیں۔</p>
<p>گلف کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکی مشن ”اس نوعیت کا نہیں جو ہم نے قائم کیا ہے… یہ دراصل اس کا ایک تکمیلی حصہ ہے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285790</guid>
      <pubDate>Fri, 01 May 2026 19:22:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/011903026968c19.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/011903026968c19.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
