<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:48:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 14:48:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپانی مداخلت کے بعد ین کی قدر مستحکم، سرمایہ کار مزید حکومتی اقدامات کے لیے تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285775/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈالر کے مقابلے میں جمعہ کو ین کی قدر میں ہونے والے اضافے میں کچھ کمی دیکھی گئی تاہم یہ اب بھی گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے کے دوران اپنی مضبوط ترین ہفتہ وار بحالی کے لیے تیار ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب جاپانی حکام نے کرنسی کو دو سال کی کم ترین سطح سے واپس اوپر لانے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم مئی کی تعطیلات کے باعث ایشیائی مارکیٹوں میں مندی کے باوجود سرمایہ کار جاپانی وزارتِ خزانہ کی جانب سے مزید کسی اقدام کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک جاپانی اہلکار نے اشارہ دیا ہے کہ اگلے ہفتے گولڈن ویک کی چھٹیوں کے آغاز پر مزید حکومتی مداخلت کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یورپی سینٹرل بینک کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے اشارے کے بعد یورو کی قدر میں معمولی بہتری آئی جبکہ عالمی شیئرز میں تیزی کے رجحان کے باعث آسٹریلوی ڈالر چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کین کرمپٹن نے جاپانی مداخلت کے حوالے سے کہا کہ مشکل یہ ہے کہ وہ (حکام) مارکیٹ کے بنیادی عوامل کے خلاف لڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ین کی قدر میں کمی کی شاید کوئی ٹھوس وجہ ہے اور اس وقت یہ دیکھنا مشکل ہے کہ وزارتِ خزانہ وقت کے اس دھارے کے خلاف لڑنے میں طویل مدتی بنیادوں پر کس حد تک کامیاب ہو پائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر کے مقابلے میں ین کی قدر میں 0.35 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 157.15 فی ڈالر پر آگیا تاہم جمعرات کو ہونے والے غیر معمولی اضافے کی بدولت جاپانی کرنسی اس ہفتے مجموعی طور پر 1.4 فیصد بہتری کی جانب گامزن ہے جو کہ وسط فروری کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈالر انڈیکس 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 98.11 پر آگیا جبکہ یورو کی قدر 0.04 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1735 ڈالر ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے اعلیٰ ترین کرنسی سفارت کار اتسوشی میمورا نے جمعہ کو کہا ہے کہ مارکیٹ میں سٹہ بازی کے رجحانات اب بھی موجود ہیں اور انہوں نے تاجروں کو خبردار کیا کہ تعطیلات کے دوران ین کو سہارا دینے کے لیے مزید اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حکام نے جمعرات کو اس وقت ین کی خریداری کے لیے مداخلت کی جب یہ جولائی 2024 کے بعد ڈالر کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر اور ین کی شرحِ تبادلہ میں یہ اچانک ہلچل لندن ٹریڈنگ کے اوقات میں دیکھی گئی جو جاپانی وزیرِ خزانہ ستسوکی کٹایاما کے ان ریمارکس کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فیصلہ کن کارروائی کا وقت قریب آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی سینیئر کرنسی اسٹریٹجسٹ کرسٹینا کلفٹن نے ایک نوٹ میں لکھا کہ ماضی میں کی گئی مداخلت کے ین پر صرف عارضی اثرات مرتب ہوئے ہیں جب تک کہ بنیادی معاشی عوامل تبدیل نہ ہوں۔ ین کی قدر میں مسلسل کمی مداخلت کے کئی ادوار کا باعث بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں ڈالر/ین کی شرح میں بڑے اتار چڑھاؤ دیکھے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی مارکیٹ میں قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں، جس کی وجہ تہران کی وہ دھمکیاں ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر دوبارہ حملے کیے تو وہ امریکی ٹھکانوں پر طویل اور تکلیف دہ حملے کرے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اس تنازع کو ختم کرنے کی قانونی ڈیڈ لائن قریب آنے پر انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے جمعرات گئے بتایا کہ 7 اپریل سے جاری جنگ بندی دراصل دشمنی کے خاتمے کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان اور دیگر توانائی درآمد کرنے والے ممالک کی کرنسیاں فروری کے آخر سے مندی کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل کے دوران ڈالر انڈیکس میں 1.76 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ مارچ میں اس میں بڑا اضافہ ہوا تھا، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یورو زون اور جاپان کے مقابلے میں امریکی معیشت پر تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات نسبتاً کم مرتب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقعات کے عین مطابق یورپی سنٹرل بینک اور بینک آف انگلینڈ نے جمعرات کو شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی، اس سے قبل ہفتے کے آغاز میں امریکی فیڈرل ریزرو اور بینک آف جاپان نے بھی شرحِ سود کو برقرار رکھا تھا۔ اس کے باوجود ای سی بی اور بینک آف جاپان نے اشارہ دیا کہ وہ درآمدی توانائی کی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے جون کے اوائل میں ہی شرح سود بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو سامنے آنے والے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اپریل کے دوران جاپان میں بنیادی مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے کیونکہ حکومتی سبسڈی نے توانائی کی قیمتوں کے اثرات کو زائل کر دیا تھا، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اب یہاں سے قیمتوں میں اضافے کی رفتار تیز ہوگی جس سے مرکزی بینک پر شرحِ سود بڑھانے کیلئے دباؤ برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مٹسوبشی یو ایف جے بینک کی تجزیہ کار ساکورا کوئیکے نے ایک نوٹ میں لکھا ہے کہ بینک آف جاپان کے ہاکش ہول کو دیکھتے ہوئے اگر مارکیٹ نے جون میں ہونے والے اگلے اجلاس میں شرحِ سود میں اضافے کی توقعات پر کام شروع کر دیا، تو ین کی خریداری کے رجحان میں تیزی آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی ڈالر، امریکی ڈالر (گرین بیک) کے مقابلے میں 0.04 فیصد اضافے کے ساتھ 0.7202 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا، اس سے قبل جمعرات کو آسٹریلوی ڈالر جون 2022 کے بعد پہلی بار 0.72 ڈالر کی سطح سے اوپر بند ہوا تھا۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کا کیوی 0.03 فیصد کی معمولی گراوٹ کے ساتھ 0.5905 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرپٹو کرنسیوں میں بٹ کوائن کی قیمت 0.97 فیصد اضافے کے ساتھ 77,206.95 ڈالر ہوگئی جبکہ ایتھریم کی قیمت میں بھی 0.98 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 2,285.67 ڈالر پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈالر کے مقابلے میں جمعہ کو ین کی قدر میں ہونے والے اضافے میں کچھ کمی دیکھی گئی تاہم یہ اب بھی گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے کے دوران اپنی مضبوط ترین ہفتہ وار بحالی کے لیے تیار ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب جاپانی حکام نے کرنسی کو دو سال کی کم ترین سطح سے واپس اوپر لانے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت کی۔</strong></p>
<p>یکم مئی کی تعطیلات کے باعث ایشیائی مارکیٹوں میں مندی کے باوجود سرمایہ کار جاپانی وزارتِ خزانہ کی جانب سے مزید کسی اقدام کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔</p>
<p>ایک جاپانی اہلکار نے اشارہ دیا ہے کہ اگلے ہفتے گولڈن ویک کی چھٹیوں کے آغاز پر مزید حکومتی مداخلت کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب یورپی سینٹرل بینک کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے اشارے کے بعد یورو کی قدر میں معمولی بہتری آئی جبکہ عالمی شیئرز میں تیزی کے رجحان کے باعث آسٹریلوی ڈالر چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔</p>
<p>کین کرمپٹن نے جاپانی مداخلت کے حوالے سے کہا کہ مشکل یہ ہے کہ وہ (حکام) مارکیٹ کے بنیادی عوامل کے خلاف لڑ رہے ہیں۔</p>
<p>ین کی قدر میں کمی کی شاید کوئی ٹھوس وجہ ہے اور اس وقت یہ دیکھنا مشکل ہے کہ وزارتِ خزانہ وقت کے اس دھارے کے خلاف لڑنے میں طویل مدتی بنیادوں پر کس حد تک کامیاب ہو پائے گی۔</p>
<p>ڈالر کے مقابلے میں ین کی قدر میں 0.35 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 157.15 فی ڈالر پر آگیا تاہم جمعرات کو ہونے والے غیر معمولی اضافے کی بدولت جاپانی کرنسی اس ہفتے مجموعی طور پر 1.4 فیصد بہتری کی جانب گامزن ہے جو کہ وسط فروری کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ڈالر انڈیکس 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 98.11 پر آگیا جبکہ یورو کی قدر 0.04 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1735 ڈالر ہوگئی۔</p>
<p>جاپان کے اعلیٰ ترین کرنسی سفارت کار اتسوشی میمورا نے جمعہ کو کہا ہے کہ مارکیٹ میں سٹہ بازی کے رجحانات اب بھی موجود ہیں اور انہوں نے تاجروں کو خبردار کیا کہ تعطیلات کے دوران ین کو سہارا دینے کے لیے مزید اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حکام نے جمعرات کو اس وقت ین کی خریداری کے لیے مداخلت کی جب یہ جولائی 2024 کے بعد ڈالر کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔</p>
<p>ڈالر اور ین کی شرحِ تبادلہ میں یہ اچانک ہلچل لندن ٹریڈنگ کے اوقات میں دیکھی گئی جو جاپانی وزیرِ خزانہ ستسوکی کٹایاما کے ان ریمارکس کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فیصلہ کن کارروائی کا وقت قریب آرہا ہے۔</p>
<p>کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی سینیئر کرنسی اسٹریٹجسٹ کرسٹینا کلفٹن نے ایک نوٹ میں لکھا کہ ماضی میں کی گئی مداخلت کے ین پر صرف عارضی اثرات مرتب ہوئے ہیں جب تک کہ بنیادی معاشی عوامل تبدیل نہ ہوں۔ ین کی قدر میں مسلسل کمی مداخلت کے کئی ادوار کا باعث بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں ڈالر/ین کی شرح میں بڑے اتار چڑھاؤ دیکھے جائیں گے۔</p>
<p>تیل کی مارکیٹ میں قیمتیں بدستور بلند سطح پر برقرار ہیں، جس کی وجہ تہران کی وہ دھمکیاں ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر دوبارہ حملے کیے تو وہ امریکی ٹھکانوں پر طویل اور تکلیف دہ حملے کرے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اس تنازع کو ختم کرنے کی قانونی ڈیڈ لائن قریب آنے پر انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے جمعرات گئے بتایا کہ 7 اپریل سے جاری جنگ بندی دراصل دشمنی کے خاتمے کی علامت ہے۔</p>
<p>جاپان اور دیگر توانائی درآمد کرنے والے ممالک کی کرنسیاں فروری کے آخر سے مندی کا شکار ہیں۔</p>
<p>اپریل کے دوران ڈالر انڈیکس میں 1.76 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ مارچ میں اس میں بڑا اضافہ ہوا تھا، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یورو زون اور جاپان کے مقابلے میں امریکی معیشت پر تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات نسبتاً کم مرتب ہوئے ہیں۔</p>
<p>توقعات کے عین مطابق یورپی سنٹرل بینک اور بینک آف انگلینڈ نے جمعرات کو شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی، اس سے قبل ہفتے کے آغاز میں امریکی فیڈرل ریزرو اور بینک آف جاپان نے بھی شرحِ سود کو برقرار رکھا تھا۔ اس کے باوجود ای سی بی اور بینک آف جاپان نے اشارہ دیا کہ وہ درآمدی توانائی کی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے جون کے اوائل میں ہی شرح سود بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>جمعہ کو سامنے آنے والے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اپریل کے دوران جاپان میں بنیادی مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے کیونکہ حکومتی سبسڈی نے توانائی کی قیمتوں کے اثرات کو زائل کر دیا تھا، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اب یہاں سے قیمتوں میں اضافے کی رفتار تیز ہوگی جس سے مرکزی بینک پر شرحِ سود بڑھانے کیلئے دباؤ برقرار رہے گا۔</p>
<p>مٹسوبشی یو ایف جے بینک کی تجزیہ کار ساکورا کوئیکے نے ایک نوٹ میں لکھا ہے کہ بینک آف جاپان کے ہاکش ہول کو دیکھتے ہوئے اگر مارکیٹ نے جون میں ہونے والے اگلے اجلاس میں شرحِ سود میں اضافے کی توقعات پر کام شروع کر دیا، تو ین کی خریداری کے رجحان میں تیزی آسکتی ہے۔</p>
<p>آسٹریلوی ڈالر، امریکی ڈالر (گرین بیک) کے مقابلے میں 0.04 فیصد اضافے کے ساتھ 0.7202 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا، اس سے قبل جمعرات کو آسٹریلوی ڈالر جون 2022 کے بعد پہلی بار 0.72 ڈالر کی سطح سے اوپر بند ہوا تھا۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کا کیوی 0.03 فیصد کی معمولی گراوٹ کے ساتھ 0.5905 ڈالر پر آگیا۔</p>
<p>کرپٹو کرنسیوں میں بٹ کوائن کی قیمت 0.97 فیصد اضافے کے ساتھ 77,206.95 ڈالر ہوگئی جبکہ ایتھریم کی قیمت میں بھی 0.98 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 2,285.67 ڈالر پر پہنچ گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285775</guid>
      <pubDate>Fri, 01 May 2026 12:25:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/011206307185c74.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/011206307185c74.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
