<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غذائی تحفظ میں حکومتی نظم و نسق کی خامیاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285750/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کی غذائی بحران سے متعلق 2026 کی عالمی رپورٹ جس میں پاکستان کو شدید ترین غذائی عدم تحفظ کا شکار دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں شامل کیا گیا ہے، پاکستان کے ایک زرعی ملک ہونے کے دعوے کی مکمل نفی کرتی ہے۔ اصولی طور پر پاکستان کی  زرعی بنیادوں کو ایک مستحکم غذائی نظام کا ضامن ہونا چاہیے تھا، جو رسد میں توازن پیدا کرنے کے ساتھ آبادی کی غذائی ضروریات کو قابلِ بھروسہ طریقے سے پورا کرسکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر بھی اس رپورٹ کے معیار یعنی انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن، جو غذائی بحران کی تعریف اس طور پر کرتی ہے کہ جہاں زندگیوں اور معاش کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہو  کے مطابق (پاکستان میں) اس تکلیف دہ صورتحال کی سنگینی بالکل واضح اور عیاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید غذائی عدم تحفظ سے مراد وہ حالات ہیں جہاں خوراک تک رسائی اس حد تک محدود ہوجائے کہ بقا خطرے میں پڑجائے اور سال 2025 میں 1.1 کروڑ (11 ملین) پاکستانی غذائی عدم تحفظ سے متاثر ہوئے جن میں 93 لاکھ بحران  اور 17 لاکھ ہنگامی حالت  کا شکار تھے، یہ قحط سے پہلے کے دو شدید ترین مراحل ہیں۔ ایک ایسا ملک جس میں زراعت کی بھرپور صلاحیت موجود ہو، وہاں یہ اعدادوشمار اس ڈھانچہ جاتی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح غذائی تحفظ کو سمجھا جاتا ہے، اسے ترجیح دی جاتی ہے اور اسے عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں موسمیاتی بحران غذائی عدم تحفظ میں اضافے کی ایک فیصلہ کن وجہ بن کر ابھرا ہے۔ جیسا کہ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے، 2025 میں عالمی سطح پر شدید سیلابوں کی شدت میں اضافہ ہوا جس میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل تھا، مون سون کی بھاری بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں نے 60 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا جس سے کھڑی فصلیں اور اہم بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حالات کے نتائج فوری فزیکل نقصان سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ تباہ شدہ کھیتوں کا مطلب فصلوں کی بربادی ہے جب کہ سڑکوں اور اسٹوریج کی سہولیات کو پہنچنے والا نقصان پہلے سے ہی کمزور سپلائی چین کو مزید درہم برہم کردیتا ہے۔ بے گھر ہونے والی آبادیوں کے لیے ذرائع معاش کا خاتمہ ان کی قوتِ خرید چھین لیتا ہے جس سے خوراک سمیت بنیادی ضروریات تک رسائی مزید مشکل ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ ایک ایسے ہولناک چکر کی صورت میں نکلتا ہے جہاں ماحولیاتی جھٹکے براہِ راست معاشی عدم استحکام کو جنم دیتے ہیں جو پہلے سے ہی کمزور آبادیوں کو بھوک اور غذائی قلت کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ غذائی قلت غذائی عدم تحفظ کا نتیجہ بھی ہے اور اسے مزید بگاڑنے والا عنصر بھی۔ جب مناسب خوراک تک رسائی ختم ہوجاتی ہے تو غذائی محرومی پیدا ہوتی ہے اور یہاں کے اعدادوشمار ایک تاریک تصویر پیش کرتے ہیں: تقریباً 41 فیصد خواتین خون کی کمی  کا شکار ہیں جو ماں کی خراب صحت اور زچگی کے دوران شرحِ اموات  میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سٹنٹنگ یعنی قد میں رکاوٹ یا ناقص نشوونما کا چیلنج تقریباً 40 فیصد ہے جو طویل مدتی غذائی کمیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے غذائی تجزیے میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کو خاص طور پر تشویشناک علاقوں کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ ان صوبوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے خطرات صورتحال کو مزید سنگین بنادیتے ہیں جو غذائی قلت کی طرف لے جانے والے متعدد عوامل کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں ناقص خوراک، صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، صفائی کے ناقص انتظامات اور بیماریوں کا بوجھ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسمیاتی جھٹکوں اور مسلح تنازعات جیسے واضح محرکات کے علاوہ رپورٹ عالمی امداد میں کمی کو بھی ایک اہم سنگین عنصر کے طور پر اجاگر کرتی ہے۔ عطیہ دینے والے ممالک کے انسانی ہمدردی کے بجٹ دباؤ کا شکار ہیں جب کہ دوسری طرف ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں امداد کی فراہمی کم یا غیر متوازن ہو گئی ہے اور اکثر انتہائی ضرورت مند طبقات تک نہیں پہنچ پاتی۔ تاہم، فنڈز کی یہ کمی اس پوری کہانی کا محض ایک حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں وسائل موجود ہیں، وہاں ناقص طرزِ حکمرانی اور ترسیل کے کمزور نظام ان کے اثرات کو زائل کر دیتے ہیں۔ وسائل کی غلط تقسیم اور بعض اوقات کھلم کھلا خورد برد امدادی کوششوں کو نقصان پہنچاتی رہتی ہے جبکہ ادارہ جاتی کمزوریاں موثر اقدامات کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 کے سیلاب کے بعد کے حالات اس بگاڑ کی واضح مثال پیش کرتے ہیں۔ سیلاب سے بحالی اور غذائی تحفظ کے لیے پاکستان کو تقریباً 60 کروڑ (600 ملین) ڈالر کی غیر ملکی امداد موصول ہونے کے باوجود آڈیٹر جنرل نے سنگین بے قاعدگیوں کی اطلاع دی جس میں اس بات کا بہت محدود اور شفاف حساب کتاب موجود تھا کہ یہ فنڈز کس طرح استعمال کیے گئے خاص طور پر سندھ میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ غیر سرکاری تنظیم ایکشن اگینسٹ ہنگر نے بھی نشاندہی کی ہے کہ سندھ اور بلوچستان، پاکستان کی زرعی پیداوار میں مرکزی اہمیت رکھنے اور بنیادی فصلوں اور قیمتی پھلوں کی پیداوار کے باوجود، تضاد کے طور پر ملک میں غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کی بلند ترین سطح کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ عدم مطابقت محض کرپشن تک محدود نہیں بلکہ یہ ادارہ جاتی اہلیت کے گہرے فقدان کو ظاہر کرتی ہے: یعنی دستیاب وسائل کو ایک مربوط اور ٹارگٹڈ ردعمل میں تبدیل کرنے کی ناکامی جو اس بحران کی شدت اور پیچیدگی کا مقابلہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر مناسب فنڈنگ سے ہٹ کر جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ غذائی عدم تحفظ کی ڈھانچہ جاتی وجوہات کی واضح شناخت کی جائے، اس تشخیص کو قابلِ عمل پالیسی میں بدلنے کے لیے ہم آہنگی پیدا کی جائے اور ان حلوں کو تسلسل اور احتساب کے ساتھ نافذ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کی غذائی بحران سے متعلق 2026 کی عالمی رپورٹ جس میں پاکستان کو شدید ترین غذائی عدم تحفظ کا شکار دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں شامل کیا گیا ہے، پاکستان کے ایک زرعی ملک ہونے کے دعوے کی مکمل نفی کرتی ہے۔ اصولی طور پر پاکستان کی  زرعی بنیادوں کو ایک مستحکم غذائی نظام کا ضامن ہونا چاہیے تھا، جو رسد میں توازن پیدا کرنے کے ساتھ آبادی کی غذائی ضروریات کو قابلِ بھروسہ طریقے سے پورا کرسکے۔</strong></p>
<p>پھر بھی اس رپورٹ کے معیار یعنی انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن، جو غذائی بحران کی تعریف اس طور پر کرتی ہے کہ جہاں زندگیوں اور معاش کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہو  کے مطابق (پاکستان میں) اس تکلیف دہ صورتحال کی سنگینی بالکل واضح اور عیاں ہے۔</p>
<p>شدید غذائی عدم تحفظ سے مراد وہ حالات ہیں جہاں خوراک تک رسائی اس حد تک محدود ہوجائے کہ بقا خطرے میں پڑجائے اور سال 2025 میں 1.1 کروڑ (11 ملین) پاکستانی غذائی عدم تحفظ سے متاثر ہوئے جن میں 93 لاکھ بحران  اور 17 لاکھ ہنگامی حالت  کا شکار تھے، یہ قحط سے پہلے کے دو شدید ترین مراحل ہیں۔ ایک ایسا ملک جس میں زراعت کی بھرپور صلاحیت موجود ہو، وہاں یہ اعدادوشمار اس ڈھانچہ جاتی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح غذائی تحفظ کو سمجھا جاتا ہے، اسے ترجیح دی جاتی ہے اور اسے عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں موسمیاتی بحران غذائی عدم تحفظ میں اضافے کی ایک فیصلہ کن وجہ بن کر ابھرا ہے۔ جیسا کہ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے، 2025 میں عالمی سطح پر شدید سیلابوں کی شدت میں اضافہ ہوا جس میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل تھا، مون سون کی بھاری بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں نے 60 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا جس سے کھڑی فصلیں اور اہم بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔</p>
<p>ان حالات کے نتائج فوری فزیکل نقصان سے کہیں آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ تباہ شدہ کھیتوں کا مطلب فصلوں کی بربادی ہے جب کہ سڑکوں اور اسٹوریج کی سہولیات کو پہنچنے والا نقصان پہلے سے ہی کمزور سپلائی چین کو مزید درہم برہم کردیتا ہے۔ بے گھر ہونے والی آبادیوں کے لیے ذرائع معاش کا خاتمہ ان کی قوتِ خرید چھین لیتا ہے جس سے خوراک سمیت بنیادی ضروریات تک رسائی مزید مشکل ہوجاتی ہے۔</p>
<p>اس کا نتیجہ ایک ایسے ہولناک چکر کی صورت میں نکلتا ہے جہاں ماحولیاتی جھٹکے براہِ راست معاشی عدم استحکام کو جنم دیتے ہیں جو پہلے سے ہی کمزور آبادیوں کو بھوک اور غذائی قلت کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ غذائی قلت غذائی عدم تحفظ کا نتیجہ بھی ہے اور اسے مزید بگاڑنے والا عنصر بھی۔ جب مناسب خوراک تک رسائی ختم ہوجاتی ہے تو غذائی محرومی پیدا ہوتی ہے اور یہاں کے اعدادوشمار ایک تاریک تصویر پیش کرتے ہیں: تقریباً 41 فیصد خواتین خون کی کمی  کا شکار ہیں جو ماں کی خراب صحت اور زچگی کے دوران شرحِ اموات  میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p>پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سٹنٹنگ یعنی قد میں رکاوٹ یا ناقص نشوونما کا چیلنج تقریباً 40 فیصد ہے جو طویل مدتی غذائی کمیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے غذائی تجزیے میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کو خاص طور پر تشویشناک علاقوں کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ ان صوبوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے خطرات صورتحال کو مزید سنگین بنادیتے ہیں جو غذائی قلت کی طرف لے جانے والے متعدد عوامل کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں ناقص خوراک، صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، صفائی کے ناقص انتظامات اور بیماریوں کا بوجھ شامل ہیں۔</p>
<p>موسمیاتی جھٹکوں اور مسلح تنازعات جیسے واضح محرکات کے علاوہ رپورٹ عالمی امداد میں کمی کو بھی ایک اہم سنگین عنصر کے طور پر اجاگر کرتی ہے۔ عطیہ دینے والے ممالک کے انسانی ہمدردی کے بجٹ دباؤ کا شکار ہیں جب کہ دوسری طرف ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں امداد کی فراہمی کم یا غیر متوازن ہو گئی ہے اور اکثر انتہائی ضرورت مند طبقات تک نہیں پہنچ پاتی۔ تاہم، فنڈز کی یہ کمی اس پوری کہانی کا محض ایک حصہ ہے۔</p>
<p>جہاں وسائل موجود ہیں، وہاں ناقص طرزِ حکمرانی اور ترسیل کے کمزور نظام ان کے اثرات کو زائل کر دیتے ہیں۔ وسائل کی غلط تقسیم اور بعض اوقات کھلم کھلا خورد برد امدادی کوششوں کو نقصان پہنچاتی رہتی ہے جبکہ ادارہ جاتی کمزوریاں موثر اقدامات کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہیں۔</p>
<p>2022 کے سیلاب کے بعد کے حالات اس بگاڑ کی واضح مثال پیش کرتے ہیں۔ سیلاب سے بحالی اور غذائی تحفظ کے لیے پاکستان کو تقریباً 60 کروڑ (600 ملین) ڈالر کی غیر ملکی امداد موصول ہونے کے باوجود آڈیٹر جنرل نے سنگین بے قاعدگیوں کی اطلاع دی جس میں اس بات کا بہت محدود اور شفاف حساب کتاب موجود تھا کہ یہ فنڈز کس طرح استعمال کیے گئے خاص طور پر سندھ میں۔</p>
<p>جیسا کہ غیر سرکاری تنظیم ایکشن اگینسٹ ہنگر نے بھی نشاندہی کی ہے کہ سندھ اور بلوچستان، پاکستان کی زرعی پیداوار میں مرکزی اہمیت رکھنے اور بنیادی فصلوں اور قیمتی پھلوں کی پیداوار کے باوجود، تضاد کے طور پر ملک میں غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کی بلند ترین سطح کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ عدم مطابقت محض کرپشن تک محدود نہیں بلکہ یہ ادارہ جاتی اہلیت کے گہرے فقدان کو ظاہر کرتی ہے: یعنی دستیاب وسائل کو ایک مربوط اور ٹارگٹڈ ردعمل میں تبدیل کرنے کی ناکامی جو اس بحران کی شدت اور پیچیدگی کا مقابلہ کر سکے۔</p>
<p>بنیادی طور پر مناسب فنڈنگ سے ہٹ کر جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ غذائی عدم تحفظ کی ڈھانچہ جاتی وجوہات کی واضح شناخت کی جائے، اس تشخیص کو قابلِ عمل پالیسی میں بدلنے کے لیے ہم آہنگی پیدا کی جائے اور ان حلوں کو تسلسل اور احتساب کے ساتھ نافذ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285750</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 14:38:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/301353306c9f340.webp" type="image/webp" medium="image" height="1333" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/301353306c9f340.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
