<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 04 Jul 2026 06:19:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 04 Jul 2026 06:19:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سری لنکن حکومت نے کرکٹ بورڈ کا کنٹرول عارضی طور پر سنبھال لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285747/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سری لنکن حکومت نے ملک کے کرکٹ بورڈ (ایس ایل سی) کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے اصلاحات کے لیے نو رکنی عبوری انتظامیہ مقرر کر دی ہے۔ سری لنکا کرکٹ ملک کا امیر ترین کھیلوں کا ادارہ ہے لیکن طویل عرصے سے بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات کی زد میں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ آئی سی سی  نے 2023-2024 میں بورڈ کے معاملات میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے سری لنکا کی رکنیت دو ماہ کے لیے معطل کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ کھیل کے مطابق تمام انتظامی امور عارضی طور پر وزارت کے سپرد کر دیے گئے ہیں اور سابق بینکر و سیاستدان ایرن وکرما رتنے کو بورڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ عبوری کمیٹی کے دیگر نمایاں ارکان میں سابق کپتان کمار سنگاکارا، سداتھ ویٹیمونی اور روشن ماہنامہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی مداخلت کے بعد چار بار صدر رہنے والے شمی سلوا نے اپنی پوری کمیٹی سمیت استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سری لنکا فروری مارچ میں بھارت کے ساتھ مشترکہ میزبانی کے باوجود ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے جلد باہر ہو گیا تھا۔ اے ایف پی نے اس معاملے پر آئی سی سی سے موقف طلب کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سری لنکن حکومت نے ملک کے کرکٹ بورڈ (ایس ایل سی) کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے اصلاحات کے لیے نو رکنی عبوری انتظامیہ مقرر کر دی ہے۔ سری لنکا کرکٹ ملک کا امیر ترین کھیلوں کا ادارہ ہے لیکن طویل عرصے سے بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات کی زد میں ہے۔</strong></p>
<p>یاد رہے کہ آئی سی سی  نے 2023-2024 میں بورڈ کے معاملات میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے سری لنکا کی رکنیت دو ماہ کے لیے معطل کر دی تھی۔</p>
<p>وزارتِ کھیل کے مطابق تمام انتظامی امور عارضی طور پر وزارت کے سپرد کر دیے گئے ہیں اور سابق بینکر و سیاستدان ایرن وکرما رتنے کو بورڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ عبوری کمیٹی کے دیگر نمایاں ارکان میں سابق کپتان کمار سنگاکارا، سداتھ ویٹیمونی اور روشن ماہنامہ شامل ہیں۔</p>
<p>حکومتی مداخلت کے بعد چار بار صدر رہنے والے شمی سلوا نے اپنی پوری کمیٹی سمیت استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سری لنکا فروری مارچ میں بھارت کے ساتھ مشترکہ میزبانی کے باوجود ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے جلد باہر ہو گیا تھا۔ اے ایف پی نے اس معاملے پر آئی سی سی سے موقف طلب کر لیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285747</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 13:46:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/30134226d3ee8fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/30134226d3ee8fb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
