<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی کی بہتر پیداوار کے باعث پیک آورز میں لوڈ مینجمنٹ نہیں ہوئی، پاور ڈویژن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285736/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن نے جمعرات کو کہا کہ 29 اپریل (بدھ) کی رات ملک بھر میں پیک اوقات کے دوران کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ پن بجلی کی پیداوار 6,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو ملک کی مجموعی نصب شدہ ہائیڈل صلاحیت 11,500 میگاواٹ میں سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ اضافی بجلی گھروں کو مقامی گیس کی فراہمی کے باعث بجلی کی مجموعی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پن بجلی کی بہتر پیداوار اور مقامی گیس کی دستیابی میں اضافے نے نیشنل گرڈ کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا جس کی بدولت سسٹم مرکز  کو اضافی 100 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے قابل ہوا جبکہ جنوب  سے بجلی کی مجموعی ترسیل 500 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے وضاحت کی کہ معاشی بنیادوں پر کی جانے والی لوڈ مینجمنٹ ایک مخصوص پالیسی کے تحت صرف زیادہ نقصان والے فیڈرز پر کی جارہی ہے اور اس کا پیک آورز کے دوران ہونے والی لوڈ شیڈنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں کہا گیا کہ تاہم چیلنجز اب بھی برقرار ہیں کیونکہ عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث 4,700 میگاواٹ صلاحیت کے حامل بجلی گھر فی الوقت بجلی پیدا نہیں کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ صورتحال میں مزید بہتری کی توقع ہے اور ایل این جی کی سپلائی بحال ہونے اور پانی کے اخراج میں اضافے کے بعد رات کے وقت بجلی کی کمی ختم ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن نے جمعرات کو کہا کہ 29 اپریل (بدھ) کی رات ملک بھر میں پیک اوقات کے دوران کوئی لوڈ مینجمنٹ نہیں کی گئی۔</strong></p>
<p>جمعرات کو جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ پن بجلی کی پیداوار 6,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو ملک کی مجموعی نصب شدہ ہائیڈل صلاحیت 11,500 میگاواٹ میں سے ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ اضافی بجلی گھروں کو مقامی گیس کی فراہمی کے باعث بجلی کی مجموعی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>پن بجلی کی بہتر پیداوار اور مقامی گیس کی دستیابی میں اضافے نے نیشنل گرڈ کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا جس کی بدولت سسٹم مرکز  کو اضافی 100 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے قابل ہوا جبکہ جنوب  سے بجلی کی مجموعی ترسیل 500 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔</p>
<p>ترجمان نے وضاحت کی کہ معاشی بنیادوں پر کی جانے والی لوڈ مینجمنٹ ایک مخصوص پالیسی کے تحت صرف زیادہ نقصان والے فیڈرز پر کی جارہی ہے اور اس کا پیک آورز کے دوران ہونے والی لوڈ شیڈنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں کہا گیا کہ تاہم چیلنجز اب بھی برقرار ہیں کیونکہ عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث 4,700 میگاواٹ صلاحیت کے حامل بجلی گھر فی الوقت بجلی پیدا نہیں کررہے ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ صورتحال میں مزید بہتری کی توقع ہے اور ایل این جی کی سپلائی بحال ہونے اور پانی کے اخراج میں اضافے کے بعد رات کے وقت بجلی کی کمی ختم ہونے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285736</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 11:38:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/301100091322dc0.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/301100091322dc0.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
