<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 03:57:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 03:57:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی معدنی صلاحیت ابھی تک غیر دریافت شدہ ہے، سرمایہ کاروں کو بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285729/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے بدھ کے روز یورپی سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا ہے کہ ملک کی وسیع معدنی صلاحیت ابھی تک بڑی حد تک غیر دریافت شدہ ہے اور اسے تصدیق شدہ ڈیٹا کے بغیر قابلِ سرمایہ کاری (بینک ایبل) تصور نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اس سلسلے میں نیشنل منرل ڈیٹا سینٹر کے قیام کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مقصد ارضیاتی معلومات کو ڈیجیٹائز کر کے معدنی بلاکس کی نشاندہی اور ذمہ دار سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیغام اسلام آباد میں منعقدہ ہائی لیول یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم کے دوسرے روز ذمہ دار وسائل کی شراکت داری کے موضوع پر ہونے والے سیشن میں دیا گیا، جہاں پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے پاکستان کے معدنی شعبے کی ترقی پر غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے ڈائریکٹر جنرل برائے معدنیات ڈاکٹر نواز احمد ورک نے کہا کہ معدنی ذخائر سے متعلق بڑے اور غیر مصدقہ دعوے سرمایہ کاری میں مددگار نہیں ہو سکتے جب تک ان کی تفصیلی تحقیق اور تجارتی فزیبلٹی ثابت نہ ہو۔ ان کے مطابق پاکستان نے حالیہ برسوں میں جیولوجیکل میپنگ میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جبکہ اہم معدنیات خصوصاً ریئر ارتھ عناصر کی تلاش بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی 1:50,000 اسکیل پر میپنگ تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہے، جس کے نتائج ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم یعنی نیشنل منرل ڈیٹا سینٹر میں شامل کیے جائیں گے۔ یہ پلیٹ فارم سرمایہ کاروں کو ایکسپلوریشن بلاکس، لائسنسنگ صورتحال اور دستیاب علاقوں تک رسائی فراہم کرے گا اور اسے نومبر میں پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم میں باضابطہ طور پر لانچ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں تانبہ، لیتھیم، کوبالٹ، کرومائٹ اور ریئر ارتھ عناصر جیسے اہم معدنی وسائل موجود ہیں، جو عالمی توانائی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم اس شعبے کی ترقی کے لیے ریگولیٹری شفافیت، ماحولیاتی تحفظ اور کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی شعبے کے نمائندوں نے کہا کہ پاکستان میں کان کنی کا زیادہ تر کام غیر رسمی اور چھوٹے پیمانے پر ہوتا ہے، جبکہ بڑی کانیں محدود ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر پراسیسنگ صلاحیت کی کمی کے باعث زیادہ تر خام معدنیات برآمد کی جاتی ہیں، جس سے ویلیو ایڈیشن کا فائدہ نہیں ملتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگر ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا جائے تو پاکستان کا معدنی شعبہ برآمدی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے بدھ کے روز یورپی سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا ہے کہ ملک کی وسیع معدنی صلاحیت ابھی تک بڑی حد تک غیر دریافت شدہ ہے اور اسے تصدیق شدہ ڈیٹا کے بغیر قابلِ سرمایہ کاری (بینک ایبل) تصور نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اس سلسلے میں نیشنل منرل ڈیٹا سینٹر کے قیام کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مقصد ارضیاتی معلومات کو ڈیجیٹائز کر کے معدنی بلاکس کی نشاندہی اور ذمہ دار سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیغام اسلام آباد میں منعقدہ ہائی لیول یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم کے دوسرے روز ذمہ دار وسائل کی شراکت داری کے موضوع پر ہونے والے سیشن میں دیا گیا، جہاں پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے پاکستان کے معدنی شعبے کی ترقی پر غور کیا۔</p>
<p>وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے ڈائریکٹر جنرل برائے معدنیات ڈاکٹر نواز احمد ورک نے کہا کہ معدنی ذخائر سے متعلق بڑے اور غیر مصدقہ دعوے سرمایہ کاری میں مددگار نہیں ہو سکتے جب تک ان کی تفصیلی تحقیق اور تجارتی فزیبلٹی ثابت نہ ہو۔ ان کے مطابق پاکستان نے حالیہ برسوں میں جیولوجیکل میپنگ میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جبکہ اہم معدنیات خصوصاً ریئر ارتھ عناصر کی تلاش بھی جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کی 1:50,000 اسکیل پر میپنگ تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہے، جس کے نتائج ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم یعنی نیشنل منرل ڈیٹا سینٹر میں شامل کیے جائیں گے۔ یہ پلیٹ فارم سرمایہ کاروں کو ایکسپلوریشن بلاکس، لائسنسنگ صورتحال اور دستیاب علاقوں تک رسائی فراہم کرے گا اور اسے نومبر میں پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم میں باضابطہ طور پر لانچ کیا جائے گا۔</p>
<p>ماہرین نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں تانبہ، لیتھیم، کوبالٹ، کرومائٹ اور ریئر ارتھ عناصر جیسے اہم معدنی وسائل موجود ہیں، جو عالمی توانائی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم اس شعبے کی ترقی کے لیے ریگولیٹری شفافیت، ماحولیاتی تحفظ اور کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>نجی شعبے کے نمائندوں نے کہا کہ پاکستان میں کان کنی کا زیادہ تر کام غیر رسمی اور چھوٹے پیمانے پر ہوتا ہے، جبکہ بڑی کانیں محدود ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر پراسیسنگ صلاحیت کی کمی کے باعث زیادہ تر خام معدنیات برآمد کی جاتی ہیں، جس سے ویلیو ایڈیشن کا فائدہ نہیں ملتا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اگر ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا جائے تو پاکستان کا معدنی شعبہ برآمدی معیشت کا اہم ستون بن سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285729</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Apr 2026 09:31:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/30092939d583ee4.webp" type="image/webp" medium="image" height="478" width="856">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/30092939d583ee4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
