<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:59:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 16:59:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چینی مارکیٹ میں شدید مقابلہ، مرسڈیز بینز کے منافع میں بڑی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285702/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جرمنی کی معروف لگژری کار ساز کمپنی مرسڈیز بینز نے بدھ کو بتایا کہ پہلی سہ ماہی میں اس کے منافع میں تقریباً 20 فیصد کمی واقع ہوئی جس کی وجہ چین میں جاری سخت ترین مقابلہ ہے جس نے دنیا بھر کے کار سازوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری سے مارچ تک کا خالص منافع 1.43 بلین یورو رہا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد سے زائد کم ہے جس کی بڑی وجہ چین میں درپیش مشکلات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرسڈیز نے کہا کہ چین میں شدید مقابلے اور طلب میں کمی نے مارکیٹ پر اپنا دباؤ برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کار ساز کمپنیوں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ چین اب قیمتوں کی بے رحمانہ جنگ اور بی وائی ڈی اور جیلی  جیسے مقامی اداروں کے سخت مقابلے کی وجہ سے ایک تگڑے میدانِ جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرسڈیز کا کہنا ہے کہ 2026 کے پہلے 3 مہینوں کے دوران چین میں اس کی گاڑیوں کی فروخت (تعداد کے لحاظ سے) میں 27 فیصد کمی آئی جبکہ اس کے برعکس یورپ اور شمالی امریکہ میں فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی چین میں فروخت گزشتہ سال ہی 2016 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین جو طویل عرصے سے جرمن کار سازوں کے لیے منافع کا ایک مستقل ذریعہ رہا ہے وہاں اب جاری شدید مقابلے نے مرسڈیز اور اس کی حریف کمپنیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دس برانڈز پر مشتمل ووکس ویگن گروپ، جس میں آڈی اور پورشے جیسے لگژری برانڈز بھی شامل ہیں، اس دہائی کے اختتام تک 50 ہزار ملازمتوں میں کٹوتی کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جرمنی کی معروف لگژری کار ساز کمپنی مرسڈیز بینز نے بدھ کو بتایا کہ پہلی سہ ماہی میں اس کے منافع میں تقریباً 20 فیصد کمی واقع ہوئی جس کی وجہ چین میں جاری سخت ترین مقابلہ ہے جس نے دنیا بھر کے کار سازوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔</strong></p>
<p>جنوری سے مارچ تک کا خالص منافع 1.43 بلین یورو رہا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد سے زائد کم ہے جس کی بڑی وجہ چین میں درپیش مشکلات ہیں۔</p>
<p>مرسڈیز نے کہا کہ چین میں شدید مقابلے اور طلب میں کمی نے مارکیٹ پر اپنا دباؤ برقرار رکھا۔</p>
<p>کار ساز کمپنیوں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ چین اب قیمتوں کی بے رحمانہ جنگ اور بی وائی ڈی اور جیلی  جیسے مقامی اداروں کے سخت مقابلے کی وجہ سے ایک تگڑے میدانِ جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔</p>
<p>مرسڈیز کا کہنا ہے کہ 2026 کے پہلے 3 مہینوں کے دوران چین میں اس کی گاڑیوں کی فروخت (تعداد کے لحاظ سے) میں 27 فیصد کمی آئی جبکہ اس کے برعکس یورپ اور شمالی امریکہ میں فروخت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>کمپنی کی چین میں فروخت گزشتہ سال ہی 2016 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی تھی۔</p>
<p>چین جو طویل عرصے سے جرمن کار سازوں کے لیے منافع کا ایک مستقل ذریعہ رہا ہے وہاں اب جاری شدید مقابلے نے مرسڈیز اور اس کی حریف کمپنیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p>دس برانڈز پر مشتمل ووکس ویگن گروپ، جس میں آڈی اور پورشے جیسے لگژری برانڈز بھی شامل ہیں، اس دہائی کے اختتام تک 50 ہزار ملازمتوں میں کٹوتی کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285702</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 13:44:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/291340236c2d8b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/291340236c2d8b3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
