<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:45:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 16:45:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے میں گہری دلچسپی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285659/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے کام کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ معروف کاروباری اداروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو بتایا ہے کہ ملک کے اہم شعبوں میں ترقی کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایک بیان کے مطابق منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں یورپی یونین کے اعلیٰ حکام اور ممتاز یورپی کمپنیوں کے کاروباری نمائندوں پر مشتمل وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کی قیادت یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے ڈائریکٹر ایشیا پیسفک، پیٹرس اسٹبس کر رہے تھے جب کہ وفد میں ڈائریکٹر انٹرنیشنل پارٹنرز، یورپین انویسٹمنٹ بینک تھوریا تریکی، ایڈیڈاز کے نائب صدر مینیول پاؤزر، ایندراتز کے نائب صدر کارل شلوگل باؤر، آئیکیا کے ریجنل ڈائریکٹر ڈائیٹر میٹکے شامل تھے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وفد یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان میں تعینات یورپی یونین کے سفیر ریمنڈس کیروبلس بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے یورپی وفد کا پاکستان آمد پر خیر مقدم کیا اور یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم میں ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور پاکستانی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ایونٹ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یورپی وفد کو یقین دلایا کہ حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اپنی سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے جیسے علاقائی چیلنجز کے باوجود معیشت کے استحکام کے لیے کام جاری رکھنے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں وزیر اعظم نے خاص طور پر یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے ساتھ اپنی حالیہ دو ٹیلی فونک گفتگو کا تذکرہ کیا جس میں انہوں نے علاقائی سلامتی کی صورتحال کے ساتھ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی امن کی کوششوں میں وزیر اعظم کے قائدانہ کردار کی تعریف کرتے ہوئے یورپی وفد نے بزنس فورم کی میزبانی میں مکمل تعاون فراہم کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کے ارکان نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے اپنے تجربات کے بارے میں بات کی اور کہا کہ توانائی، مواصلات، آئی ٹی وغیرہ سمیت مختلف شعبوں میں یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان ان کاروباری تعلقات کی مزید ترقی کے لیے غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم کے موقع پر 600 سے زائد بی ٹو بی ملاقاتیں متوقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونین خصوصی سید طارق فاطمی اور ہارون اختر خان کے علاوہ سینئر حکومتی حکام بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنے کام کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ معروف کاروباری اداروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو بتایا ہے کہ ملک کے اہم شعبوں میں ترقی کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت ایک بیان کے مطابق منگل کو وزیراعظم ہاؤس میں یورپی یونین کے اعلیٰ حکام اور ممتاز یورپی کمپنیوں کے کاروباری نمائندوں پر مشتمل وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p>وفد کی قیادت یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے ڈائریکٹر ایشیا پیسفک، پیٹرس اسٹبس کر رہے تھے جب کہ وفد میں ڈائریکٹر انٹرنیشنل پارٹنرز، یورپین انویسٹمنٹ بینک تھوریا تریکی، ایڈیڈاز کے نائب صدر مینیول پاؤزر، ایندراتز کے نائب صدر کارل شلوگل باؤر، آئیکیا کے ریجنل ڈائریکٹر ڈائیٹر میٹکے شامل تھے</p>
<p>یہ وفد یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان میں تعینات یورپی یونین کے سفیر ریمنڈس کیروبلس بھی موجود تھے۔</p>
<p>وزیراعظم نے یورپی وفد کا پاکستان آمد پر خیر مقدم کیا اور یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم میں ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور پاکستانی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔</p>
<p>یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ایونٹ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یورپی وفد کو یقین دلایا کہ حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اپنی سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔</p>
<p>انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے جیسے علاقائی چیلنجز کے باوجود معیشت کے استحکام کے لیے کام جاری رکھنے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں وزیر اعظم نے خاص طور پر یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے ساتھ اپنی حالیہ دو ٹیلی فونک گفتگو کا تذکرہ کیا جس میں انہوں نے علاقائی سلامتی کی صورتحال کے ساتھ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تھا۔</p>
<p>علاقائی امن کی کوششوں میں وزیر اعظم کے قائدانہ کردار کی تعریف کرتے ہوئے یورپی وفد نے بزنس فورم کی میزبانی میں مکمل تعاون فراہم کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>وفد کے ارکان نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنے اپنے تجربات کے بارے میں بات کی اور کہا کہ توانائی، مواصلات، آئی ٹی وغیرہ سمیت مختلف شعبوں میں یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان ان کاروباری تعلقات کی مزید ترقی کے لیے غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم کے موقع پر 600 سے زائد بی ٹو بی ملاقاتیں متوقع ہیں۔</p>
<p>ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر قانون، انصاف اور انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاونین خصوصی سید طارق فاطمی اور ہارون اختر خان کے علاوہ سینئر حکومتی حکام بھی موجود تھے۔</p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285659</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Apr 2026 14:04:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/_GNwoQG_-MM/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/_GNwoQG_-MM/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=_GNwoQG_-MM"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
