<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 00:37:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 00:37:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی میں ناقابلِ فہم کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285652/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;23 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے حاصل کردہ 51 ضروری اشیاء پر مشتمل حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں غیر واضح طور پر 0.33 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اعدادوشمار کے مطابق 23 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں یہ شرح 12.28 فیصد رہی جبکہ 16 اپریل کو 12.47 فیصد، 9 اپریل کو 141.6 فیصد اور 2 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں 11.38 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ کمی اس لیے غیر واضح (ناقابلِ فہم) ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے نتیجے میں تیل کی سپلائی میں تعطل کی وجہ سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹماٹر (منفی 27.65 فیصد)، پیاز (منفی 9.35 فیصد) اور لہسن (منفی 4.27 فیصد) کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، یہ وہ اشیاء ہیں جنہیں فارم سے مارکیٹ تک منتقل کرنا پڑتا ہے۔ ایران پر امریکہ اوراسرائیل حملے کے بعد سے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر ان اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی واحد وجہ بمپر فصل ہی ہوسکتی ہے لیکن اب تک کسی بھی رپورٹ نے ایسی کسی پیداوار کی تصدیق نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات نے ڈیزل کی قیمت میں (منفی 8.35 فیصد) اور ایل پی جی میں (منفی 7.08 فیصد) کمی نوٹ کی جو کہ ایک بار پھر حیران کن ہے کیونکہ سپلائی میں کمی کی وجہ سے ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا جب کہ ایل پی جی جو کہ بڑی حد تک خلیجی ممالک سے درآمد کی جاتی ہے، اس کی قیمتوں میں بھی سپلائی کی رکاوٹوں کے باعث اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اگرچہ حکومت نے ان اشیاء کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کیلئے مداخلت کی تاہم ماضی کی طرح کئی ریٹیلرز اب بھی غیر معمولی منافع کمارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات نے مختلف شہروں میں پٹرول  اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مختلف قیمتیں نوٹ کیں اور اوسط کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔ تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ ڈیٹا صرف 17 شہروں پر مبنی ہے جن میں خضدار بھی شامل ہے جہاں ایرانی تیل معمول کے مطابق اسمگل ہوتا ہے اور اس پر ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا حالانکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت مقررہ شرح سے زیادہ وصول کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 36 ماہ پر محیط 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام سے متعلق اکتوبر 2024 کی اپنی دستاویزات میں نوٹ کیا کہ نیشنل اکاؤنٹس اور جی ایف ایس میں ایسی خامیاں موجود ہیں جو کسی حد تک معاشی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2016 کے نیشنل اکاؤنٹس کی ری بیسنگ (نئے سرے سے بنیاد مقرر کرنے) اور حال ہی میں سہ ماہی جی ڈی پی  کے اعدادوشمار کی اشاعت نے معاشی ترقی کے جائزے کے لیے بہتر بنیاد تو فراہم کی لیکن جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے لیے دستیاب بنیادی ڈیٹا میں اب بھی اہم نقائص موجود ہیں جب کہ گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس کی تفصیلات اور ان کی ساکھ کے حوالے سے بھی مسائل پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام ان خامیوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں جس کے لیے انہیں گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس  اور نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس پر آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس جلد ہی مالی سال 2026 کے نیشنل اکاؤنٹس کی آئندہ ری بیسنگ سے قبل چار بڑے سروے کے فیلڈ ورک کا آغاز کرے گا۔ تکنیکی معاونت کا یہ عمل رواں سال جون کے آخر تک مکمل ہونا تھا، تاہم بزنس ریکارڈر نے حال ہی میں رپورٹ کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے پی بی ایس کے نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس  پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے تکمیل کی تاریخ اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ اس تاخیر کا مقصد پی بی ایس کو فنڈ کی تجاویز کے مطابق مینوفیکچرنگ ڈیٹا کے طریقہ کار کی ساکھ اور شفافیت کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس کے افراطِ زر کے ڈیٹا میں دو بڑے خلا پائے جاتے ہیں، خاص طور پر حکومتی مقرر کردہ قیمتوں کو شمار کرنا جس قیمت یا معیار پر وہ چیز مارکیٹ میں دستیاب ہی نہیں ہوتی اور دوسرا اسمگل شدہ اشیاء، جو ہماری وسیع اور غیر محفوظ سرحدوں کی وجہ سے مقامی طور پر تیار کردہ اشیاء کے مقابلے میں سستی دستیاب ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس (تضاد) کی وجہ بنیادی طور پر سیاسی ہے حالانکہ محدود آمدنی والا ایک عام گھریلو فرد فطری طور پر اپنے کمائے ہوئے ہر روپے کی قدر میں ہونے والی کمی سے بخوبی واقف ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ایک کے بعد دوسری آنے والی حکومتیں اس بنیادی حقیقت سے لاپروا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>23 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے حاصل کردہ 51 ضروری اشیاء پر مشتمل حساس قیمت اشاریہ (ایس پی آئی) میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں غیر واضح طور پر 0.33 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اعدادوشمار کے مطابق 23 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں یہ شرح 12.28 فیصد رہی جبکہ 16 اپریل کو 12.47 فیصد، 9 اپریل کو 141.6 فیصد اور 2 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں 11.38 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ یہ کمی اس لیے غیر واضح (ناقابلِ فہم) ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے نتیجے میں تیل کی سپلائی میں تعطل کی وجہ سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔</strong></p>
<p>ادارہ شماریات نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹماٹر (منفی 27.65 فیصد)، پیاز (منفی 9.35 فیصد) اور لہسن (منفی 4.27 فیصد) کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، یہ وہ اشیاء ہیں جنہیں فارم سے مارکیٹ تک منتقل کرنا پڑتا ہے۔ ایران پر امریکہ اوراسرائیل حملے کے بعد سے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر ان اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی واحد وجہ بمپر فصل ہی ہوسکتی ہے لیکن اب تک کسی بھی رپورٹ نے ایسی کسی پیداوار کی تصدیق نہیں کی۔</p>
<p>ادارہ شماریات نے ڈیزل کی قیمت میں (منفی 8.35 فیصد) اور ایل پی جی میں (منفی 7.08 فیصد) کمی نوٹ کی جو کہ ایک بار پھر حیران کن ہے کیونکہ سپلائی میں کمی کی وجہ سے ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا جب کہ ایل پی جی جو کہ بڑی حد تک خلیجی ممالک سے درآمد کی جاتی ہے، اس کی قیمتوں میں بھی سپلائی کی رکاوٹوں کے باعث اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اگرچہ حکومت نے ان اشیاء کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کیلئے مداخلت کی تاہم ماضی کی طرح کئی ریٹیلرز اب بھی غیر معمولی منافع کمارہے ہیں۔</p>
<p>ادارہ شماریات نے مختلف شہروں میں پٹرول  اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مختلف قیمتیں نوٹ کیں اور اوسط کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔ تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ ڈیٹا صرف 17 شہروں پر مبنی ہے جن میں خضدار بھی شامل ہے جہاں ایرانی تیل معمول کے مطابق اسمگل ہوتا ہے اور اس پر ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا حالانکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت مقررہ شرح سے زیادہ وصول کی جاتی ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 36 ماہ پر محیط 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام سے متعلق اکتوبر 2024 کی اپنی دستاویزات میں نوٹ کیا کہ نیشنل اکاؤنٹس اور جی ایف ایس میں ایسی خامیاں موجود ہیں جو کسی حد تک معاشی نگرانی کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2016 کے نیشنل اکاؤنٹس کی ری بیسنگ (نئے سرے سے بنیاد مقرر کرنے) اور حال ہی میں سہ ماہی جی ڈی پی  کے اعدادوشمار کی اشاعت نے معاشی ترقی کے جائزے کے لیے بہتر بنیاد تو فراہم کی لیکن جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے لیے دستیاب بنیادی ڈیٹا میں اب بھی اہم نقائص موجود ہیں جب کہ گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس کی تفصیلات اور ان کی ساکھ کے حوالے سے بھی مسائل پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>حکام ان خامیوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں جس کے لیے انہیں گورنمنٹ فنانس اسٹیٹسٹکس  اور نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس پر آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس جلد ہی مالی سال 2026 کے نیشنل اکاؤنٹس کی آئندہ ری بیسنگ سے قبل چار بڑے سروے کے فیلڈ ورک کا آغاز کرے گا۔ تکنیکی معاونت کا یہ عمل رواں سال جون کے آخر تک مکمل ہونا تھا، تاہم بزنس ریکارڈر نے حال ہی میں رپورٹ کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے پی بی ایس کے نئے پروڈیوسر پرائس انڈیکس  پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے تکمیل کی تاریخ اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ اس تاخیر کا مقصد پی بی ایس کو فنڈ کی تجاویز کے مطابق مینوفیکچرنگ ڈیٹا کے طریقہ کار کی ساکھ اور شفافیت کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>پی بی ایس کے افراطِ زر کے ڈیٹا میں دو بڑے خلا پائے جاتے ہیں، خاص طور پر حکومتی مقرر کردہ قیمتوں کو شمار کرنا جس قیمت یا معیار پر وہ چیز مارکیٹ میں دستیاب ہی نہیں ہوتی اور دوسرا اسمگل شدہ اشیاء، جو ہماری وسیع اور غیر محفوظ سرحدوں کی وجہ سے مقامی طور پر تیار کردہ اشیاء کے مقابلے میں سستی دستیاب ہوتی ہیں۔</p>
<p>اس (تضاد) کی وجہ بنیادی طور پر سیاسی ہے حالانکہ محدود آمدنی والا ایک عام گھریلو فرد فطری طور پر اپنے کمائے ہوئے ہر روپے کی قدر میں ہونے والی کمی سے بخوبی واقف ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ایک کے بعد دوسری آنے والی حکومتیں اس بنیادی حقیقت سے لاپروا رہی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285652</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 16:24:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/2916240127fb92d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/2916240127fb92d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
