<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 17:15:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہفتہ رفتہ: روئی کی قیمتیں مستحکم رہنے کے باوجود تجارتی سرگرمیاں سست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285610/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مقامی کاٹن مارکیٹ میں تجارتی سرگرمیاں محدود ہیں تاہم قیمتیں مجموعی طور پر مستحکم رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نیویارک کاٹن ایکسچینج میں تیزی کے رجحان کا باعث بن رہی ہے جس کے اثرات مقامی مارکیٹوں میں بھی تیزی سے محسوس کیے جارہے ہیں، تاہم ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے باعث کاروباری حلقوں نے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ کی سرگرمیاں مزید سست پڑگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی سطح پر روئی کے ذخائر اب تقریباً ختم ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں ملوں کی طلب پوری کرنے کے لیے درآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں کپاس کے آئندہ سیزن 27-2026 کے لیے جزوی طور پر پیشگی سودے بھی شروع ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی کمیٹی برائے زراعت نے آئندہ سیزن کے لیے پیداواری ہدف 96 لاکھ گانٹھوں سے زائد مقرر کیا ہے جو گزشتہ سال کے ایک کروڑ 20 لاکھ گانٹھوں کے ہدف سے نمایاں طور پر کم ہے۔ گزشتہ سیزن کی اصل پیداوار خاصی تشویشناک رہی جہاں ملک میں صرف 56 لاکھ گانٹھیں پیدا ہوئیں جو کہ گزشتہ 40 سال کی کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل سیکٹر پر مالی بوجھ کو کم کرنے کی کوشش میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) ری فنانس کی سہولیات میں بہتری لانے کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی ماہر ساجد محمود کا کہنا ہے کہ کپاس کی پیداوار کی بحالی کا چیلنج بنیادی طور پر معاشی ہے، تکنیکی نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی پائیدار بحالی کے لیے ٹھوس معاشی اقدامات ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے دوران مقامی روئی کی مارکیٹ بڑی حد تک مستحکم لیکن سست روی کا شکار رہی، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث تاجر برادری میں بڑھتی ہوئی تشویش تجارتی سرگرمیوں پر حاوی رہی۔ مارکیٹ کے جذبات پر غیر یقینی صورتحال کے غلبے کی وجہ سے لین دین تقریباً رک گیا ہے، جس کے باعث قیمتوں کی درست سطح کا تعین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں باضابطہ طور پر کوئی بڑے سودے ریکارڈ نہیں ہوئے تاہم روئی کے تاجروں کی جانب سے موصول ہونے والی اکا دکا رپورٹس کے مطابق قیمتیں معیار کے لحاظ سے 18,500 روپے سے 21,500 روپے فی من کے درمیان ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جنرز کے پاس چند ہزار گانٹھوں کا محدود اسٹاک موجود ہے لیکن اوپن مارکیٹ میں ان کی بھی کوئی خاص تجارتی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے والے سیزن کے حوالے سے محتاط پرامیدی کی علامت کے طور پر کپاس کے سیزن 27-2026 کے لیے کچھ پیشگی سودے پہلے ہی طے پا چکے ہیں جن میں 20 سے 30 مئی کے درمیان ڈلیوری کی شرائط پر قیمت 21,500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب، پھٹی کی قیمت 10,000 روپے فی 40 کلوگرام رپورٹ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداواری محاذ پر، وفاقی کمیٹی برائے زراعت نے سیزن 27-2026 کے لیے کپاس کی پیداوار کا ہدف 96 لاکھ گانٹھیں مقرر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مقامی کاٹن مارکیٹ میں تجارتی سرگرمیاں محدود ہیں تاہم قیمتیں مجموعی طور پر مستحکم رہی ہیں۔</strong></p>
<p>مارکیٹ ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نیویارک کاٹن ایکسچینج میں تیزی کے رجحان کا باعث بن رہی ہے جس کے اثرات مقامی مارکیٹوں میں بھی تیزی سے محسوس کیے جارہے ہیں، تاہم ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے باعث کاروباری حلقوں نے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ کی سرگرمیاں مزید سست پڑگئی ہیں۔</p>
<p>مقامی سطح پر روئی کے ذخائر اب تقریباً ختم ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں ملوں کی طلب پوری کرنے کے لیے درآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں کپاس کے آئندہ سیزن 27-2026 کے لیے جزوی طور پر پیشگی سودے بھی شروع ہوچکے ہیں۔</p>
<p>وفاقی کمیٹی برائے زراعت نے آئندہ سیزن کے لیے پیداواری ہدف 96 لاکھ گانٹھوں سے زائد مقرر کیا ہے جو گزشتہ سال کے ایک کروڑ 20 لاکھ گانٹھوں کے ہدف سے نمایاں طور پر کم ہے۔ گزشتہ سیزن کی اصل پیداوار خاصی تشویشناک رہی جہاں ملک میں صرف 56 لاکھ گانٹھیں پیدا ہوئیں جو کہ گزشتہ 40 سال کی کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>ٹیکسٹائل سیکٹر پر مالی بوجھ کو کم کرنے کی کوشش میں آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) ری فنانس کی سہولیات میں بہتری لانے کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے۔</p>
<p>زرعی ماہر ساجد محمود کا کہنا ہے کہ کپاس کی پیداوار کی بحالی کا چیلنج بنیادی طور پر معاشی ہے، تکنیکی نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی پائیدار بحالی کے لیے ٹھوس معاشی اقدامات ناگزیر ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے کے دوران مقامی روئی کی مارکیٹ بڑی حد تک مستحکم لیکن سست روی کا شکار رہی، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث تاجر برادری میں بڑھتی ہوئی تشویش تجارتی سرگرمیوں پر حاوی رہی۔ مارکیٹ کے جذبات پر غیر یقینی صورتحال کے غلبے کی وجہ سے لین دین تقریباً رک گیا ہے، جس کے باعث قیمتوں کی درست سطح کا تعین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ میں باضابطہ طور پر کوئی بڑے سودے ریکارڈ نہیں ہوئے تاہم روئی کے تاجروں کی جانب سے موصول ہونے والی اکا دکا رپورٹس کے مطابق قیمتیں معیار کے لحاظ سے 18,500 روپے سے 21,500 روپے فی من کے درمیان ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جنرز کے پاس چند ہزار گانٹھوں کا محدود اسٹاک موجود ہے لیکن اوپن مارکیٹ میں ان کی بھی کوئی خاص تجارتی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔</p>
<p>آنے والے سیزن کے حوالے سے محتاط پرامیدی کی علامت کے طور پر کپاس کے سیزن 27-2026 کے لیے کچھ پیشگی سودے پہلے ہی طے پا چکے ہیں جن میں 20 سے 30 مئی کے درمیان ڈلیوری کی شرائط پر قیمت 21,500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب، پھٹی کی قیمت 10,000 روپے فی 40 کلوگرام رپورٹ کی گئی ہے۔</p>
<p>پیداواری محاذ پر، وفاقی کمیٹی برائے زراعت نے سیزن 27-2026 کے لیے کپاس کی پیداوار کا ہدف 96 لاکھ گانٹھیں مقرر کیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285610</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Apr 2026 14:19:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/27141515a6e499b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/27141515a6e499b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
