<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 11:55:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 11:55:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی مذاکرات کی منسوخی کے باوجود ایرانی وزیرِ خارجہ کی پاکستان واپسی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285581/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی وزیر خارجہ اتوار کو مزید مشاورت کے لیے دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے جبکہ بین الاقوامی ثالث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے وفد کا دورہ منسوخ کرنے کے باوجود امن مذاکرات کو پٹری پر رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا کے مطابق عباس عراقچی پاکستانی حکام کے ساتھ بیٹھ کر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے کسی بھی مفاہمت کے فریم ورک پر ایران کے موقف اور نظریات سے آگاہ کریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ محض ایک روز قبل بھی اسلام آباد میں تھے، جہاں سے وہ عمان روانہ ہوئے تھے جبکہ دیگر ایرانی سفیر تہران روانہ ہوئے، تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر ضروری ہدایات حاصل کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو اسلام آباد میں ہونے والی پاک ایران ملاقاتوں سے قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ کے امن ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر مزید مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو رہے ہیں۔ تاہم بعد ازاں ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے یہ دورہ منسوخ کر دیا ہے کیونکہ ان کے بقول  بیکار بیٹھ کر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے تہران کے مذاکراتی موقف کو مسترد کر دیا لیکن یہ بھی کہا کہ ان کے فیصلے کے چند منٹ بعد ہی ایران نے اپنی تجویز پر نظرثانی کر لی۔ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ہمیں جو کاغذ دیا تھا اسے بہتر ہونا چاہیے تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے ہی میں نے دورہ منسوخ کیا 10 منٹ کے اندر ہمیں ایک نیا کاغذ ملا جو کہ پہلے سے بہت بہتر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورہ روکنے کا مطلب کھلی دشمنی کی واپسی ہے یا نہیں اس سوال پر ٹرمپ نے کہا نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔ ہم نے ابھی اس بارے میں نہیں سوچا۔ ہفتے کے روز عراقچی نے مسقط روانگی سے قبل پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد ان کی ماسکو روانگی بھی متوقع ہے۔ عراقچی نے اپنے ابتدائی دورہ پاکستان کو انتہائی ثمر آور قرار دیا لیکن واشنگٹن کی نیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا،ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ سفارت کاری کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہنے کی وجہ سے جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ان کا ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، جس نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے جوابی کارروائی کے طور پر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس پر ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ امریکی قزاقی اور ناکہ بندی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی وزیر خارجہ اتوار کو مزید مشاورت کے لیے دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے جبکہ بین الاقوامی ثالث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے وفد کا دورہ منسوخ کرنے کے باوجود امن مذاکرات کو پٹری پر رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا کے مطابق عباس عراقچی پاکستانی حکام کے ساتھ بیٹھ کر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے کسی بھی مفاہمت کے فریم ورک پر ایران کے موقف اور نظریات سے آگاہ کریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ محض ایک روز قبل بھی اسلام آباد میں تھے، جہاں سے وہ عمان روانہ ہوئے تھے جبکہ دیگر ایرانی سفیر تہران روانہ ہوئے، تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر ضروری ہدایات حاصل کی جا سکیں۔</p>
<p>ہفتے کو اسلام آباد میں ہونے والی پاک ایران ملاقاتوں سے قبل وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ ٹرمپ کے امن ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر مزید مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو رہے ہیں۔ تاہم بعد ازاں ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے یہ دورہ منسوخ کر دیا ہے کیونکہ ان کے بقول  بیکار بیٹھ کر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے تہران کے مذاکراتی موقف کو مسترد کر دیا لیکن یہ بھی کہا کہ ان کے فیصلے کے چند منٹ بعد ہی ایران نے اپنی تجویز پر نظرثانی کر لی۔ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ہمیں جو کاغذ دیا تھا اسے بہتر ہونا چاہیے تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے ہی میں نے دورہ منسوخ کیا 10 منٹ کے اندر ہمیں ایک نیا کاغذ ملا جو کہ پہلے سے بہت بہتر تھا۔</p>
<p>دورہ روکنے کا مطلب کھلی دشمنی کی واپسی ہے یا نہیں اس سوال پر ٹرمپ نے کہا نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔ ہم نے ابھی اس بارے میں نہیں سوچا۔ ہفتے کے روز عراقچی نے مسقط روانگی سے قبل پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد ان کی ماسکو روانگی بھی متوقع ہے۔ عراقچی نے اپنے ابتدائی دورہ پاکستان کو انتہائی ثمر آور قرار دیا لیکن واشنگٹن کی نیت پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا،ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ سفارت کاری کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہے یا نہیں۔</p>
<p>تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہنے کی وجہ سے جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ان کا ناکہ بندی ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، جس نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے جوابی کارروائی کے طور پر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس پر ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ امریکی قزاقی اور ناکہ بندی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285581</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 20:18:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/26192738ec7080d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/26192738ec7080d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
