<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:13:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:13:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپر ٹیکس کی ادائیگیاں : ٹیکس گزاروں کے خلاف غیر قانونی سرچارج کارروائیوں پر کے ٹی بی اے کا اظہارِ تشویش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285577/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) نے سپر ٹیکس کی ادائیگیوں پر ٹیکس گزاروں کے خلاف ڈیفالٹ سرچارج کی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایف بی آر سے انہیں فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر چیئرمین کو لکھے گئے خط میں بار نے موقف اختیار کیا کہ فیلڈ فارمیشنز ان کیسز میں بھی سرچارج لگا رہی ہیں جہاں ٹیکس گزار عدالتی احکامات اور حکمِ امتناع کے مطابق عمل کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں نشاندہی کی گئی کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2022 میں سپر ٹیکس کو آئین کے منافی قرار دیا تھا اور یہ فیصلہ جنوری 2026 تک مؤثر رہا۔ بار کے مطابق ایک طرف بڑے ٹیکس گزاروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے تو دوسری طرف ان کے جائز ریفنڈز کی ادائیگیوں کو روکا گیا ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ کے ٹی بی اے  نے مطالبہ کیا ہے کہ حکمِ امتناع اور عدالتی فیصلوں کی موجودگی میں دفعہ 205 کے تحت شروع کی گئی تمام کارروائیاں ختم کی جائیں اور واجب الادا ریفنڈز کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) نے سپر ٹیکس کی ادائیگیوں پر ٹیکس گزاروں کے خلاف ڈیفالٹ سرچارج کی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایف بی آر سے انہیں فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>ایف بی آر چیئرمین کو لکھے گئے خط میں بار نے موقف اختیار کیا کہ فیلڈ فارمیشنز ان کیسز میں بھی سرچارج لگا رہی ہیں جہاں ٹیکس گزار عدالتی احکامات اور حکمِ امتناع کے مطابق عمل کر رہے تھے۔</p>
<p>خط میں نشاندہی کی گئی کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2022 میں سپر ٹیکس کو آئین کے منافی قرار دیا تھا اور یہ فیصلہ جنوری 2026 تک مؤثر رہا۔ بار کے مطابق ایک طرف بڑے ٹیکس گزاروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے تو دوسری طرف ان کے جائز ریفنڈز کی ادائیگیوں کو روکا گیا ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ کے ٹی بی اے  نے مطالبہ کیا ہے کہ حکمِ امتناع اور عدالتی فیصلوں کی موجودگی میں دفعہ 205 کے تحت شروع کی گئی تمام کارروائیاں ختم کی جائیں اور واجب الادا ریفنڈز کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285577</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 18:33:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/26182846f863a50.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/26182846f863a50.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
