<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 19:40:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 19:40:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکس ریفائنری قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات مہنگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285576/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے 25 اپریل سے لاگو ہونے والی ایکس ریفائنری قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق قیمتوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت نہیں بلکہ پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی  میں اضافہ اور ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں 3.14 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.44 روپے فی لیٹر کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم عوام کو یہ ریلیف منتقل کرنے کے بجائے حکومت نے ٹیکسیشن اور مارجن کے طریقہ کار میں ترمیم کر کے قیمتیں بڑھا دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی اسپیڈ ڈیزل پر آئی ایف ای ایم  اب 37.75 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے، جس میں گزشتہ جائزے کے مقابلے میں 30.21 روپے فی لیٹر کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ڈیزل کے بڑے درآمد کنندہ پاکستان اسٹیٹ آئل  کو آبنائے ہرمز میں سپلائی کی رکاوٹوں کے باعث 34 ڈالر فی بیرل کے ریکارڈ پریمیم پر درآمدی لاگت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرول پر لیوی بھی 80.61 روپے سے بڑھا کر 107.38 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت 25 اپریل 2026 سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 26.77 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی گھرانوں پر بوجھ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس  کے جمعہ کو جاری کردہ ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق حساس قیمت انڈیکس  پر مبنی مہنگائی کا رجحان مسلسل اوپر کی جانب ہے، جو 23 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران بڑھ کر 13.98 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل یہ 12.16 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے 25 اپریل سے لاگو ہونے والی ایکس ریفائنری قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>دستاویزات کے مطابق قیمتوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت نہیں بلکہ پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی  میں اضافہ اور ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں 3.14 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.44 روپے فی لیٹر کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم عوام کو یہ ریلیف منتقل کرنے کے بجائے حکومت نے ٹیکسیشن اور مارجن کے طریقہ کار میں ترمیم کر کے قیمتیں بڑھا دیں۔</p>
<p>ہائی اسپیڈ ڈیزل پر آئی ایف ای ایم  اب 37.75 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے، جس میں گزشتہ جائزے کے مقابلے میں 30.21 روپے فی لیٹر کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ڈیزل کے بڑے درآمد کنندہ پاکستان اسٹیٹ آئل  کو آبنائے ہرمز میں سپلائی کی رکاوٹوں کے باعث 34 ڈالر فی بیرل کے ریکارڈ پریمیم پر درآمدی لاگت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرول پر لیوی بھی 80.61 روپے سے بڑھا کر 107.38 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔</p>
<p>ہفتے کے روز ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت 25 اپریل 2026 سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 26.77 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی گھرانوں پر بوجھ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس  کے جمعہ کو جاری کردہ ہفتہ وار اعداد و شمار کے مطابق حساس قیمت انڈیکس  پر مبنی مہنگائی کا رجحان مسلسل اوپر کی جانب ہے، جو 23 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران بڑھ کر 13.98 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل یہ 12.16 فیصد تھا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285576</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 18:25:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/261753404631b97.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/261753404631b97.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
