<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Jul 2026 22:08:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Jul 2026 22:08:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمد کنندگان کا بوجھ کم کرنے کے لیے کے پی ٹی ٹرمینلز پر اسٹوریج چارجز میں ریلیف کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285573/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ٹرمینلز پر اسٹوریج چارجز میں 25 سے 50 فیصد تک رعایت کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد خلیجی ممالک جانے والی شپمنٹس میں حالیہ رکاوٹوں سے متاثرہ برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ریلیف ان شپمنٹ تاخیر کے بعد سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے برآمدی کنٹینرز ٹرمینل یارڈز میں پھنس گئے تھے اور تاجروں پر مالی دباؤ بڑھ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت بحری امور کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کے جی ٹی ایل پر یکم مارچ سے 20 مارچ 2026 تک کے عرصے کے لیے 50 فیصد رعایت کےآئی سی ٹی پر یکم سے 10 مارچ تک 50 فیصد رعایت  اور ایس اے پی ٹی  پر 11 سے 31 مارچ تک 25 فیصد رعایت حاصل کی ہے۔ ان مراعات کا اطلاق ان برآمدی کنٹینرز پر ہوگا جو ٹرمینلز پر آپریشنل مسائل کی وجہ سے لوڈ نہیں ہو سکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے پی ٹی کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) شاہد احمد نے وفاقی وزیر کی ہدایات پر ٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ مشاورت کے بعد برآمد کنندگان کے خدشات دور کرنے کے لیے ان کوششوں کی سربراہی کی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان مراعات کا مقصد درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان پر مالی دباؤ کم کرنا، زیر التواء کنسائنمنٹس کو کلیئر کرنا اور کارگو کلیئرنس کی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام برآمدی شعبے کی حمایت، تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے اور لاجسٹک رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ بحری اداروں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ زیادہ سہولت کار اور تجارت دوست رویہ اپنائیں، تاکہ آپریشنل تاخیر اسٹیک ہولڈرز کے لیے اضافی اخراجات کا باعث نہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید چوہدری نے پورٹس اور ٹرمینلز کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ لاجسٹکس اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ریلیف کے اقدامات بحری شعبے کو مزید فعال اور مسابقتی بنانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں اور موثر پورٹ آپریشنز معاشی استحکام، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ٹرمینلز پر اسٹوریج چارجز میں 25 سے 50 فیصد تک رعایت کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد خلیجی ممالک جانے والی شپمنٹس میں حالیہ رکاوٹوں سے متاثرہ برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنا ہے۔</strong></p>
<p>یہ ریلیف ان شپمنٹ تاخیر کے بعد سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے برآمدی کنٹینرز ٹرمینل یارڈز میں پھنس گئے تھے اور تاجروں پر مالی دباؤ بڑھ گیا تھا۔</p>
<p>وزارت بحری امور کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کے جی ٹی ایل پر یکم مارچ سے 20 مارچ 2026 تک کے عرصے کے لیے 50 فیصد رعایت کےآئی سی ٹی پر یکم سے 10 مارچ تک 50 فیصد رعایت  اور ایس اے پی ٹی  پر 11 سے 31 مارچ تک 25 فیصد رعایت حاصل کی ہے۔ ان مراعات کا اطلاق ان برآمدی کنٹینرز پر ہوگا جو ٹرمینلز پر آپریشنل مسائل کی وجہ سے لوڈ نہیں ہو سکے تھے۔</p>
<p>کے پی ٹی کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) شاہد احمد نے وفاقی وزیر کی ہدایات پر ٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ مشاورت کے بعد برآمد کنندگان کے خدشات دور کرنے کے لیے ان کوششوں کی سربراہی کی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان مراعات کا مقصد درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان پر مالی دباؤ کم کرنا، زیر التواء کنسائنمنٹس کو کلیئر کرنا اور کارگو کلیئرنس کی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام برآمدی شعبے کی حمایت، تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے اور لاجسٹک رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ بحری اداروں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ زیادہ سہولت کار اور تجارت دوست رویہ اپنائیں، تاکہ آپریشنل تاخیر اسٹیک ہولڈرز کے لیے اضافی اخراجات کا باعث نہ بنے۔</p>
<p>جنید چوہدری نے پورٹس اور ٹرمینلز کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ لاجسٹکس اور سروس ڈیلیوری کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ریلیف کے اقدامات بحری شعبے کو مزید فعال اور مسابقتی بنانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں اور موثر پورٹ آپریشنز معاشی استحکام، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285573</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 17:31:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/26172646b3704f9.webp" type="image/webp" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/26172646b3704f9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
