<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 04:51:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 20 Jul 2026 04:51:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور ڈویژن کی نیپرا سے چھوٹے سولر صارفین کیلئے فیس اور لائسنس کی شرط ختم کرنے کی درخواست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285569/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی ہدایات پر پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم صلاحیت کے سولر صارفین کے لیے درخواست فیس ختم کی جائے اور لائسنس کی شرط بھی ختم کی جائے، جیسا کہ ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے 2015 کے ضوابط کے تحت 25 کلو واٹ یا اس سے کم سسٹم رکھنے والے صارفین لائسنس اور فیس سے مستثنیٰ تھے، اور ان کی درخواستیں براہ راست ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے نمٹائی جاتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ آسان طریقہ کار گھریلو صارفین کے لیے ایک مالی ترغیب کے طور پر کام کرتا تھا۔ تاہم حالیہ تبدیلیوں کے تحت پروسیومر ریگولیشنز میں منظوری کا اختیار نیپرا کے پاس منتقل کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں چھوٹے سولر سسٹمز پر بھی نئی درخواست فیس عائد کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے ان تبدیلیوں کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پرانے 2015 کے ضوابط کے مطابق پالیسی کو ہم آہنگ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک پرائیویٹ انفرااسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے نیپرا سے کہا ہے کہ چھوٹے سسٹمز کے لیے پالیسی میں تسلسل برقرار رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی سماعتوں کے دوران پاکستان سولر ایسوسی ایشن اور متعدد توانائی کمپنیوں نے بھی ان تبدیلیوں پر اعتراض کیا اور کہا کہ ڈسکوز سے اختیار واپس لینے سے غیر ضروری تاخیر اور بیوروکریٹک رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کی جانب سے نیپرا کو دی گئی باضابطہ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم سولر سسٹمز کے لیے 2015 کے فریم ورک کو بحال کیا جائے، کیونکہ موجودہ ضوابط ملک میں متبادل توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی ہدایات پر پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم صلاحیت کے سولر صارفین کے لیے درخواست فیس ختم کی جائے اور لائسنس کی شرط بھی ختم کی جائے، جیسا کہ ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے۔</strong></p>
<p>پہلے 2015 کے ضوابط کے تحت 25 کلو واٹ یا اس سے کم سسٹم رکھنے والے صارفین لائسنس اور فیس سے مستثنیٰ تھے، اور ان کی درخواستیں براہ راست ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے نمٹائی جاتی تھیں۔</p>
<p>یہ آسان طریقہ کار گھریلو صارفین کے لیے ایک مالی ترغیب کے طور پر کام کرتا تھا۔ تاہم حالیہ تبدیلیوں کے تحت پروسیومر ریگولیشنز میں منظوری کا اختیار نیپرا کے پاس منتقل کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں چھوٹے سولر سسٹمز پر بھی نئی درخواست فیس عائد کر دی گئی ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے ان تبدیلیوں کے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پرانے 2015 کے ضوابط کے مطابق پالیسی کو ہم آہنگ کرے۔</p>
<p>پبلک پرائیویٹ انفرااسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے بھی اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے نیپرا سے کہا ہے کہ چھوٹے سسٹمز کے لیے پالیسی میں تسلسل برقرار رکھا جائے۔</p>
<p>عوامی سماعتوں کے دوران پاکستان سولر ایسوسی ایشن اور متعدد توانائی کمپنیوں نے بھی ان تبدیلیوں پر اعتراض کیا اور کہا کہ ڈسکوز سے اختیار واپس لینے سے غیر ضروری تاخیر اور بیوروکریٹک رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔</p>
<p>پاور ڈویژن کی جانب سے نیپرا کو دی گئی باضابطہ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم سولر سسٹمز کے لیے 2015 کے فریم ورک کو بحال کیا جائے، کیونکہ موجودہ ضوابط ملک میں متبادل توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285569</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 13:07:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/26130511028edbe.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/26130511028edbe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
