<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Jul 2026 01:59:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Jul 2026 01:59:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایئرپورٹس اتھارٹی نے غیر قانونی برآمدی کارگو سرچارج ختم کرا دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285561/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے ایک گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنسی کی جانب سے برآمدی کارگو پر عائد غیر مجاز سرچارج کو مکمل طور پر واپس کروانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ فیصلہ اعلیٰ سطح مذاکرات کے بعد سامنے آیا جس میں وزیر اعظم آفس کی توجہ بھی شامل رہی اور ملک بھر میں کاروباری برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی اے اے کے مطابق متعدد گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنسیاں (جی ایچ اے) اس طرح کا لیوی عائد کرنے پر غور کر رہی تھیں، تاہم صرف ایک آپریٹر نے اسے نافذ کیا اور برآمدی کارگو پر 50 روپے فی کلوگرام (تقریباً 180 ڈالر فی ٹن) کا عارضی اضافی چارج لگا دیا، جس پر ملک بھر میں برآمد کنندگان اور فریٹ ایجنٹس نے فوری احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے بتایا کہ پی اے اے نے نہ صرف متعلقہ آپریٹر کو یہ لیوی واپس لینے پر قائل کیا بلکہ اس بات کی بھی یقین دہانی حاصل کی کہ دورانِ نفاذ وصول کی گئی تمام رقوم واپس کی جائیں گی، اور ری فنڈ کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری تنظیموں نے اس اقدام پر شدید ردعمل دیا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اسے غیر قانونی اور برآمدات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے خبردار کیا کہ اس لیوی سے قومی معیشت پر روزانہ تقریباً 4 کروڑ روپے کا بوجھ پڑ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان انٹرنیشنل فریٹ فارورڈرز ایسوسی ایشن نے بھی سنگین خدشات کا اظہار کیا، جبکہ ایئر کارگو ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان نے پی اے اے سے فوری مداخلت کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی اے اے نے متعلقہ آپریٹر کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کیے اور جانچ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ چارج معاہدے کی شرائط کے خلاف اور غیر قانونی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل اور تعمیری مذاکرات کے بعد گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنسی کو یہ چارج واپس لینے پر آمادہ کیا گیا۔ تاہم، اس دوران برآمد کنندگان سے کروڑوں روپے وصول کیے جا چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی اے اے کے مطابق متعلقہ جی ایچ اے نے اب ان تمام غیر قانونی طور پر وصول کی گئی رقوم کی مکمل واپسی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور ری فنڈ کا عمل جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے ایک گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنسی کی جانب سے برآمدی کارگو پر عائد غیر مجاز سرچارج کو مکمل طور پر واپس کروانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ فیصلہ اعلیٰ سطح مذاکرات کے بعد سامنے آیا جس میں وزیر اعظم آفس کی توجہ بھی شامل رہی اور ملک بھر میں کاروباری برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔</strong></p>
<p>پی اے اے کے مطابق متعدد گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنسیاں (جی ایچ اے) اس طرح کا لیوی عائد کرنے پر غور کر رہی تھیں، تاہم صرف ایک آپریٹر نے اسے نافذ کیا اور برآمدی کارگو پر 50 روپے فی کلوگرام (تقریباً 180 ڈالر فی ٹن) کا عارضی اضافی چارج لگا دیا، جس پر ملک بھر میں برآمد کنندگان اور فریٹ ایجنٹس نے فوری احتجاج کیا۔</p>
<p>اتھارٹی نے بتایا کہ پی اے اے نے نہ صرف متعلقہ آپریٹر کو یہ لیوی واپس لینے پر قائل کیا بلکہ اس بات کی بھی یقین دہانی حاصل کی کہ دورانِ نفاذ وصول کی گئی تمام رقوم واپس کی جائیں گی، اور ری فنڈ کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔</p>
<p>کاروباری تنظیموں نے اس اقدام پر شدید ردعمل دیا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اسے غیر قانونی اور برآمدات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔</p>
<p>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے خبردار کیا کہ اس لیوی سے قومی معیشت پر روزانہ تقریباً 4 کروڑ روپے کا بوجھ پڑ رہا تھا۔</p>
<p>اسی طرح سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان انٹرنیشنل فریٹ فارورڈرز ایسوسی ایشن نے بھی سنگین خدشات کا اظہار کیا، جبکہ ایئر کارگو ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان نے پی اے اے سے فوری مداخلت کی درخواست کی۔</p>
<p>پی اے اے نے متعلقہ آپریٹر کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کیے اور جانچ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ چارج معاہدے کی شرائط کے خلاف اور غیر قانونی تھا۔</p>
<p>طویل اور تعمیری مذاکرات کے بعد گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنسی کو یہ چارج واپس لینے پر آمادہ کیا گیا۔ تاہم، اس دوران برآمد کنندگان سے کروڑوں روپے وصول کیے جا چکے تھے۔</p>
<p>پی اے اے کے مطابق متعلقہ جی ایچ اے نے اب ان تمام غیر قانونی طور پر وصول کی گئی رقوم کی مکمل واپسی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور ری فنڈ کا عمل جاری ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285561</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Apr 2026 11:13:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/26111123ca6f8dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/26111123ca6f8dd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
