<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 20:48:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 20:48:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی شرح نمو 2.5 سے 3 فیصد تک گرنے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285527/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی (جی ڈی پی گروتھ) کی شرح سست ہوکر 2.5 سے 3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو کہ ابتدائی طور پر لگائے گئے 4.5 فیصد کے تخمینے سے نمایاں طور پر کم ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور مقامی سطح پر سپلائی کی رکاوٹیں ملکی معیشت پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ معاشی ترقی کی شرح (گروتھ) کا تخمینہ تقریباً 2.5 فیصد لگایا گیا جو آئی ایم ایف کے 3.6 فیصد کے تخمینے سے کہیں کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے معاشی ترقی کے تخمینے میں اس کمی کی بنیادی وجہ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ اور کھاد کے استعمال میں متوقع کمی کو قرار دیا، ان دونوں عوامل کے باعث صنعتی پیداوار اور زرعی فصلوں کی شرحِ نمو متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر پاشا نے خبردار کیا کہ بجلی کی مسلسل قلت  جس کا جزوی تعلق عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والے تعطل سے ہے  پہلے ہی صنعتی سرگرمیوں کو محدود کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ اخراجات میں اضافےکے باعث کھاد کے استعمال میں ہونے والی کمی سے فصلوں کی پیداوار کمزور ہونے کا خدشہ ہے جس سے مجموعی معاشی ترقی میں زراعت کا حصہ متاثر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سابق مشیرِ وزارتِ خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی  کا رخ اب مکمل طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے دورانیے پر منحصر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تنازع جتنا طویل ہوگا معیشت کو اتنا ہی زیادہ نقصان پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر شفاق حسن خان نے نوٹ کیا کہ کشیدگی میں اضافے سے قبل پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.25 سے 3.5 فیصد کی حد میں لگایا گیا تھا لیکن توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی معاشی منظرنامہ بگڑ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں جس کے نتیجے میں سخت مانیٹری پالیسی کا خدشہ ہے جو قرض لینے کی لاگت کو مزید بڑھا دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں معاشی ترقی کی شرح 2.5 سے 3 فیصد کے درمیان رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرِ معاشیات اور سابق مشیرِ وزارتِ خزانہ ڈاکٹر خاقان نجیب نے واضح کیا کہ اگرچہ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں معیشت نے کچھ بہتری دکھائی لیکن اب ابھرتے ہوئے خطرات سالانہ منظرنامے کو دھندلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نوٹ کیا کہ پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.63 فیصد اور دوسری سہ ماہی میں 3.89 فیصد رہی جس سے پہلی ششماہی کی مجموعی ترقی تقریباً 3.7 سے 3.8 فیصد رہی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر 4.5 فیصد ترقی کا ابتدائی تخمینہ اب ضرورت سے زیادہ خوش آئند  معلوم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نجیب نے وضاحت کی کہ مشرقِ وسطیٰ کا جاری تنازع اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی میں اضافے، درآمدی بل پر دباؤ اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کو کم کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے معاشی ترقی کی شرح 3.8 سے 4.1 فیصد کی حد میں رہنے کی پیشگوئی کی ہے، تاہم خبردار کیا کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا اور جغرافیائی سیاسی تناؤ برقرار رہا، تو منفی عوامل اس شرح کو مزید گرا کر 3.3 سے 3.6 فیصد تک لا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی معاشی ترقی (جی ڈی پی گروتھ) کی شرح سست ہوکر 2.5 سے 3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جو کہ ابتدائی طور پر لگائے گئے 4.5 فیصد کے تخمینے سے نمایاں طور پر کم ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور مقامی سطح پر سپلائی کی رکاوٹیں ملکی معیشت پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔</strong></p>
<p>سابق وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ معاشی ترقی کی شرح (گروتھ) کا تخمینہ تقریباً 2.5 فیصد لگایا گیا جو آئی ایم ایف کے 3.6 فیصد کے تخمینے سے کہیں کم ہے۔</p>
<p>انہوں نے معاشی ترقی کے تخمینے میں اس کمی کی بنیادی وجہ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ اور کھاد کے استعمال میں متوقع کمی کو قرار دیا، ان دونوں عوامل کے باعث صنعتی پیداوار اور زرعی فصلوں کی شرحِ نمو متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر پاشا نے خبردار کیا کہ بجلی کی مسلسل قلت  جس کا جزوی تعلق عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والے تعطل سے ہے  پہلے ہی صنعتی سرگرمیوں کو محدود کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ اخراجات میں اضافےکے باعث کھاد کے استعمال میں ہونے والی کمی سے فصلوں کی پیداوار کمزور ہونے کا خدشہ ہے جس سے مجموعی معاشی ترقی میں زراعت کا حصہ متاثر ہوگا۔</p>
<p>اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سابق مشیرِ وزارتِ خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی  کا رخ اب مکمل طور پر مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے دورانیے پر منحصر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تنازع جتنا طویل ہوگا معیشت کو اتنا ہی زیادہ نقصان پہنچے گا۔</p>
<p>ڈاکٹر شفاق حسن خان نے نوٹ کیا کہ کشیدگی میں اضافے سے قبل پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.25 سے 3.5 فیصد کی حد میں لگایا گیا تھا لیکن توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی معاشی منظرنامہ بگڑ گیا ہے۔</p>
<p>تیل اور گیس کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں جس کے نتیجے میں سخت مانیٹری پالیسی کا خدشہ ہے جو قرض لینے کی لاگت کو مزید بڑھا دے گا۔</p>
<p>ان کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں معاشی ترقی کی شرح 2.5 سے 3 فیصد کے درمیان رہے گی۔</p>
<p>ماہرِ معاشیات اور سابق مشیرِ وزارتِ خزانہ ڈاکٹر خاقان نجیب نے واضح کیا کہ اگرچہ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں معیشت نے کچھ بہتری دکھائی لیکن اب ابھرتے ہوئے خطرات سالانہ منظرنامے کو دھندلا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے نوٹ کیا کہ پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.63 فیصد اور دوسری سہ ماہی میں 3.89 فیصد رہی جس سے پہلی ششماہی کی مجموعی ترقی تقریباً 3.7 سے 3.8 فیصد رہی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر 4.5 فیصد ترقی کا ابتدائی تخمینہ اب ضرورت سے زیادہ خوش آئند  معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر نجیب نے وضاحت کی کہ مشرقِ وسطیٰ کا جاری تنازع اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی میں اضافے، درآمدی بل پر دباؤ اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کو کم کرسکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے معاشی ترقی کی شرح 3.8 سے 4.1 فیصد کی حد میں رہنے کی پیشگوئی کی ہے، تاہم خبردار کیا کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا اور جغرافیائی سیاسی تناؤ برقرار رہا، تو منفی عوامل اس شرح کو مزید گرا کر 3.3 سے 3.6 فیصد تک لا سکتے ہیں۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285527</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 12:57:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/25124009897d214.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/25124009897d214.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
