<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:14:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:14:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کی شرح میں 1.82 فیصد اضافہ، 19 اشیاء مزید مہنگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285526/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ادارہ شماریات نے مہنگائی سےمتعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق 23 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملک میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 13.98 فیصد پرپہنچ گئی جب کہ گزشتہ ہفتے تک ملک میں مہنگائی بڑھنےکی سالانہ شرح 12.16 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کےمطابق سالانہ حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں یہ بڑا اضافہ درج ذیل اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دیکھا گیا ہے، پہلی سہ ماہی کے لیے بجلی کے نرخوں میں 54.02 فیصد، ایل پی جی میں 50.68 فیصد، پٹرول میں 44.10 فیصد اور ڈیزل میں 36.76 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ آٹے کی قیمت میں 36.06 فیصد، پیاز 31.89 فیصد، ٹماٹر 23.46 فیصد ، سرخ مرچ پاؤڈر 15.20 فیصد، مٹن 15.18 فیصد، بیف 13.27 فیصد، خشک دودھ 10.41 فیصد اور لہسن کی قیمت میں 9.96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیاد پر آمدنی کے گروپوں کے لحاظ سے حساس قیمتوں کے اشاریے  کا جائزہ لیا جائے تو 17,732 روپے تک ماہانہ آمدنی والے گھرانوں کے لیے مہنگائی بڑھنے کی شرح میں 11.38 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد ایس پی آئی کے پوائنٹس 297.71 سے بڑھ کر 331.60 ہو گئے۔ اسی طرح 17,733 سے 22,888 روپے تک آمدنی والوں کیلئے ایس پی آئی میں 14.16 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جو 294.37 سے بڑھ کر 336.06 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;22,889 سے 29,517 روپے ماہانہ کمانے والے گھرانوں کے لیے حساس قیمتوں کے اشاریے میں 12.47 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 318.45 سے بڑھ کر 358.15 پوائنٹس ہو گیا جبکہ 29,518 سے 44,175 روپے والے گروپ میں 12.28 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ 309.00 سے بڑھ کر 346.93 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے یعنی 44,175 روپے اور اس سے زائد کمانے والوں کے لیے ایس پی آئی میں 13.45 فیصد اضافہ ہوا جو 311.74 سے چھلانگ لگا کر 353.67 پوائنٹس ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر چند اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے جس میں آلو کی قیمت میں 47.38 فیصد، چنے کی دال میں 19.92 فیصد، پسا ہوا نمک 13.22 فیصد، چینی 11.74 فیصد، مسور کی دال 12.47 فیصد، مونگ کی دال 1.63 فیصد اور لپٹن چائے کی قیمت میں 1.14 فیصد کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ہفتہ وار بنیادوں پر بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے جس میں ٹماٹر کی قیمت میں 27.65 فیصد، پیاز 9.35 فیصد، ڈیزل 8.35 فیصد، ایل پی جی 7.08 فیصد، لہسن 4.27 فیصد، کیلے 0.47 فیصد، آٹا 0.37 فیصد، چینی 0.36 فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمت میں 0.22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ہفتہ وار  بنیادوں پر بعض اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے جس میں آلو کی قیمت میں 3.13 فیصد، ڈبل روٹی 0.91 فیصد، کپڑے دھونے کا صابن 0.85 فیصد، کوکنگ آئل (5 لیٹر پیک) 0.69 فیصد،  انڈے 0.61 فیصد، مٹن 0.45 فیصد، مرغی 0.4 فیصد، ویجیٹیبل گھی 0.30 فیصد، دال (مونگ) 0.27 فیصد اور جارجٹ کے کپڑے کی قیمت میں 0.04 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے دوران  مجموعی طور پر 51 اشیاء میں سے 19 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جو کہ حساس قیمتوں کے اشاریے  کے باسکٹ (مجموعی اشیاء) کا 37.25 فیصد بنتی ہیں۔ 9 اشیاء یعنی 17.65 فیصد کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ باسکٹ کی 23 اشیاء یعنی 45.10 فیصد کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار بنیادوں پر آمدنی کے گروپس کے لحاظ سے حساس قیمتوں کے اشاریے کا جائزہ لیا جائے تو 17,732 روپے تک ماہانہ آمدنی والے گھرانوں کے لیے مہنگائی میں 0.41 فیصد کی کمی ہوئی جس کے بعد ایس پی آئی کے پوائنٹس 332.97 سے کم ہو کر 331.60 رہ گئے۔ 17,733 سے 22,888 روپے والے آمدنی کے گروپ کے لیے ایس پی آئی میں 0.36 فیصد کمی آئی اور یہ 337.26 سے گر کر 336.06 پوائنٹس پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;22,889 سے 29,517 روپے ماہانہ کمانے والے گھرانوں کے ایس پی آئی میں 0.31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ یہ 359.27 سے کم ہو کر 358.15 پوائنٹس پر آگیا جب کہ 29,518 سے 44,175 روپے والے طبقے کے لیے ایس پی آئی میں 0.30 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی اور یہ 347.98 سے کم ہو کر 346.93 پوائنٹس ہو گیا۔ سب سے زیادہ آمدنی والے گروپ یعنی 44,175 روپے اور اس سے زائد کمانے والوں کے لیے ایس پی آئی میں 0.34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس سے یہ 354.89 سے کم ہو کر 353.67 پوائنٹس پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ادارہ شماریات نے مہنگائی سےمتعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی۔</strong></p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق 23 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملک میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 13.98 فیصد پرپہنچ گئی جب کہ گزشتہ ہفتے تک ملک میں مہنگائی بڑھنےکی سالانہ شرح 12.16 فیصد تھی۔</p>
<p>ادارہ شماریات کےمطابق سالانہ حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں یہ بڑا اضافہ درج ذیل اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دیکھا گیا ہے، پہلی سہ ماہی کے لیے بجلی کے نرخوں میں 54.02 فیصد، ایل پی جی میں 50.68 فیصد، پٹرول میں 44.10 فیصد اور ڈیزل میں 36.76 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ آٹے کی قیمت میں 36.06 فیصد، پیاز 31.89 فیصد، ٹماٹر 23.46 فیصد ، سرخ مرچ پاؤڈر 15.20 فیصد، مٹن 15.18 فیصد، بیف 13.27 فیصد، خشک دودھ 10.41 فیصد اور لہسن کی قیمت میں 9.96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>سالانہ بنیاد پر آمدنی کے گروپوں کے لحاظ سے حساس قیمتوں کے اشاریے  کا جائزہ لیا جائے تو 17,732 روپے تک ماہانہ آمدنی والے گھرانوں کے لیے مہنگائی بڑھنے کی شرح میں 11.38 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد ایس پی آئی کے پوائنٹس 297.71 سے بڑھ کر 331.60 ہو گئے۔ اسی طرح 17,733 سے 22,888 روپے تک آمدنی والوں کیلئے ایس پی آئی میں 14.16 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جو 294.37 سے بڑھ کر 336.06 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔</p>
<p>22,889 سے 29,517 روپے ماہانہ کمانے والے گھرانوں کے لیے حساس قیمتوں کے اشاریے میں 12.47 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 318.45 سے بڑھ کر 358.15 پوائنٹس ہو گیا جبکہ 29,518 سے 44,175 روپے والے گروپ میں 12.28 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ 309.00 سے بڑھ کر 346.93 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے یعنی 44,175 روپے اور اس سے زائد کمانے والوں کے لیے ایس پی آئی میں 13.45 فیصد اضافہ ہوا جو 311.74 سے چھلانگ لگا کر 353.67 پوائنٹس ہو گیا۔</p>
<p>اعداد و شمار میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر چند اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے جس میں آلو کی قیمت میں 47.38 فیصد، چنے کی دال میں 19.92 فیصد، پسا ہوا نمک 13.22 فیصد، چینی 11.74 فیصد، مسور کی دال 12.47 فیصد، مونگ کی دال 1.63 فیصد اور لپٹن چائے کی قیمت میں 1.14 فیصد کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>دریں اثنا، ہفتہ وار بنیادوں پر بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے جس میں ٹماٹر کی قیمت میں 27.65 فیصد، پیاز 9.35 فیصد، ڈیزل 8.35 فیصد، ایل پی جی 7.08 فیصد، لہسن 4.27 فیصد، کیلے 0.47 فیصد، آٹا 0.37 فیصد، چینی 0.36 فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمت میں 0.22 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب ہفتہ وار  بنیادوں پر بعض اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے جس میں آلو کی قیمت میں 3.13 فیصد، ڈبل روٹی 0.91 فیصد، کپڑے دھونے کا صابن 0.85 فیصد، کوکنگ آئل (5 لیٹر پیک) 0.69 فیصد،  انڈے 0.61 فیصد، مٹن 0.45 فیصد، مرغی 0.4 فیصد، ویجیٹیبل گھی 0.30 فیصد، دال (مونگ) 0.27 فیصد اور جارجٹ کے کپڑے کی قیمت میں 0.04 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>ہفتے کے دوران  مجموعی طور پر 51 اشیاء میں سے 19 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جو کہ حساس قیمتوں کے اشاریے  کے باسکٹ (مجموعی اشیاء) کا 37.25 فیصد بنتی ہیں۔ 9 اشیاء یعنی 17.65 فیصد کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ باسکٹ کی 23 اشیاء یعنی 45.10 فیصد کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>ہفتہ وار بنیادوں پر آمدنی کے گروپس کے لحاظ سے حساس قیمتوں کے اشاریے کا جائزہ لیا جائے تو 17,732 روپے تک ماہانہ آمدنی والے گھرانوں کے لیے مہنگائی میں 0.41 فیصد کی کمی ہوئی جس کے بعد ایس پی آئی کے پوائنٹس 332.97 سے کم ہو کر 331.60 رہ گئے۔ 17,733 سے 22,888 روپے والے آمدنی کے گروپ کے لیے ایس پی آئی میں 0.36 فیصد کمی آئی اور یہ 337.26 سے گر کر 336.06 پوائنٹس پر آگیا۔</p>
<p>22,889 سے 29,517 روپے ماہانہ کمانے والے گھرانوں کے ایس پی آئی میں 0.31 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ یہ 359.27 سے کم ہو کر 358.15 پوائنٹس پر آگیا جب کہ 29,518 سے 44,175 روپے والے طبقے کے لیے ایس پی آئی میں 0.30 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی اور یہ 347.98 سے کم ہو کر 346.93 پوائنٹس ہو گیا۔ سب سے زیادہ آمدنی والے گروپ یعنی 44,175 روپے اور اس سے زائد کمانے والوں کے لیے ایس پی آئی میں 0.34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس سے یہ 354.89 سے کم ہو کر 353.67 پوائنٹس پر آگیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285526</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 12:38:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/251233292abb66a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/251233292abb66a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
