<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 02:04:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 02:04:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرولیم ڈویژن کا ایل این جی کے لیے اسپاٹ ٹینڈرز جاری کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285522/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پٹرولیم ڈویژن نے مبینہ طور پر ایل این جی کیلئے اسپاٹ ٹینڈرز فلوٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) کے اجلاس میں کیا گیا جس کا مقصد 5,500 میگاواٹ سے زائد کی مجموعی صلاحیت رکھنے والے آر ایل این جی بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔ بزنس ریکارڈرکو باوثوق ذرائع نے بتایا کہ یہ پاور پلانٹس اس وقت قطر سے ایل این جی کی سپلائی معطل ہونے کے باعث بند ہیں کیونکہ قطر نے فورس میجر کے تحت سپلائی روکنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی تنازع سے پیدا ہونے والے معاشی چیلنجز کے جواب میں باخبر پالیسی سازی اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) تشکیل دی تھی جس میں وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے نمائندے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ اور لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال کو کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا شریک چیئرمین مقرر کیا گیا جس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور خصوصی علاقوں کی نمائندگی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً سات آر ایل این جی بجلی گھروں کی بندش، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 5,500 میگاواٹ سے زائد ہے نے بجلی کی طلب اور رسد کی صورتحال کو مزید ابتر کردیا جس کے باعث بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے انڈیپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کی ہدایات کے مطابق لوڈ شیڈنگ شروع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے 18 اپریل 2026 کو پیٹرولیم ڈویژن کو ایک خط لکھا جس میں زور دیا گیا کہ قطر کے ساتھ معاہدہ شدہ ایل این جی کارگو کا انتظام کیا جائے تاکہ پنجاب میں واقع آر ایل این جی پاور پلانٹس اور کے الیکٹرک کے ایک پلانٹ کے لیے ایندھن کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ریزیڈیول فیول آئل (آر ایف او) سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو مارچ 2026 کے 200,000 ٹن سے دگنا ہو کر تقریباً 400,000 ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ آر ایف او پر اس بڑھتے ہوئے انحصار کا بوجھ ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر منتقل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کے مطابق اپریل 2026 کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کا تخمینہ تقریباً 1.30 روپے فی یونٹ لگایا گیا ہے تاہم حکومت ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے سے گریز کرنے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ اس کی لاگت تقریباً 100 روپے فی یونٹ ہے جو صارفین کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید بتایا کہ آر ایل این جی کی فراہمی میں کسی بھی کمی کی صورت میں ہائی اسپیڈ ڈیزل جیسے مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار بڑھانا پڑے گا۔ اس سے نہ صرف بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا، بلکہ اس کے نتیجے میں طویل لوڈ شیڈنگ اور ایف سی اے کے ذریعے صارفین پر بھاری مالی بوجھ بھی پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت اسپاٹ ایل این جی کارگو کی قیمت 18 سے 22 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی حد میں ہے جس کا مطلب ہے کہ بجلی کی پیداواری لاگت تقریباً 30 سے 35 روپے فی یونٹ ہوگی جو کہ آخر کار صارفین سے ہی وصول کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی پیداوار کے لیے ملک کی آر ایل این جی کی ضرورت کا تخمینہ 400 سے 450 ایم ایم سی ایف ڈی لگایا گیا ہے جو اس وقت تک مکمل طور پر پوری نہیں کی جا سکتی جب تک قطر آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث نافذ کردہ فورس میجر کو ختم نہیں کر دیتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید بتایا کہ پٹرولیم ڈویژن نے پاور ڈویژن کے خط کا جواب دے دیا ہے اور وہ قطر سے ایل این جی کے چار کارگوز کی آمد کو ممکن بنانے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے این سی ایم سی کے سامنے بجلی کی طلب و رسد کی صورتحال پیش کی جس کے بعد پٹرولیم ڈویژن کو ٹینڈرز جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) اسی کے مطابق کارروائی کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاور ڈویژن کے ترجمان نے کہا کہ ملک میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں اضافے نے ہائیڈل کی پیداوار کو بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ رات کے پیک اوورز کے دوران ہائیڈل پاور کی پیداوار 5,800 میگاواٹ تک پہنچ گئی جبکہ اس کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 11,500 میگاواٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ جنوبی ٹرانسمیشن سسٹم میں بہتری اور استحکام کی بدولت مرکزی گرڈ کو اضافی 500 میگاواٹ بجلی فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی خطے سے بجلی کی ترسیل میں 22 اپریل کے مقابلے میں 100 میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کی رات ڈسکوز نے پیک آوورز کے دوران دو گھنٹے تک کی لوڈ مینجمنٹ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے مزید واضح کیا کہ زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر اکنامک لوڈ مینجمنٹ کی جارہی ہے جو کہ پیک آورز کی لوڈ مینجمنٹ سے الگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ عالمی حالات کے باعث ایل این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے 5500 میگاواٹ کی صلاحیت کے حامل بجلی گھر تاحال غیر فعال ہیں۔ ایل این جی کی فراہمی کی بحالی اور پانی کے اخراج میں اضافے کے ساتھ رات کے وقت بجلی کی کمی (شارٹ فال) ختم ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پٹرولیم ڈویژن نے مبینہ طور پر ایل این جی کیلئے اسپاٹ ٹینڈرز فلوٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) کے اجلاس میں کیا گیا جس کا مقصد 5,500 میگاواٹ سے زائد کی مجموعی صلاحیت رکھنے والے آر ایل این جی بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔ بزنس ریکارڈرکو باوثوق ذرائع نے بتایا کہ یہ پاور پلانٹس اس وقت قطر سے ایل این جی کی سپلائی معطل ہونے کے باعث بند ہیں کیونکہ قطر نے فورس میجر کے تحت سپلائی روکنے کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی تنازع سے پیدا ہونے والے معاشی چیلنجز کے جواب میں باخبر پالیسی سازی اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) تشکیل دی تھی جس میں وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے نمائندے شامل ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ اور لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال کو کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا شریک چیئرمین مقرر کیا گیا جس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور خصوصی علاقوں کی نمائندگی شامل ہے۔</p>
<p>تقریباً سات آر ایل این جی بجلی گھروں کی بندش، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 5,500 میگاواٹ سے زائد ہے نے بجلی کی طلب اور رسد کی صورتحال کو مزید ابتر کردیا جس کے باعث بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے انڈیپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کی ہدایات کے مطابق لوڈ شیڈنگ شروع کردی۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے 18 اپریل 2026 کو پیٹرولیم ڈویژن کو ایک خط لکھا جس میں زور دیا گیا کہ قطر کے ساتھ معاہدہ شدہ ایل این جی کارگو کا انتظام کیا جائے تاکہ پنجاب میں واقع آر ایل این جی پاور پلانٹس اور کے الیکٹرک کے ایک پلانٹ کے لیے ایندھن کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ریزیڈیول فیول آئل (آر ایف او) سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو مارچ 2026 کے 200,000 ٹن سے دگنا ہو کر تقریباً 400,000 ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ آر ایف او پر اس بڑھتے ہوئے انحصار کا بوجھ ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر منتقل کیا جائے گا۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کے مطابق اپریل 2026 کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کا تخمینہ تقریباً 1.30 روپے فی یونٹ لگایا گیا ہے تاہم حکومت ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے سے گریز کرنے کی کوشش کررہی ہے کیونکہ اس کی لاگت تقریباً 100 روپے فی یونٹ ہے جو صارفین کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی۔</p>
<p>ذرائع نے مزید بتایا کہ آر ایل این جی کی فراہمی میں کسی بھی کمی کی صورت میں ہائی اسپیڈ ڈیزل جیسے مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار بڑھانا پڑے گا۔ اس سے نہ صرف بجلی کی مجموعی پیداواری لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا، بلکہ اس کے نتیجے میں طویل لوڈ شیڈنگ اور ایف سی اے کے ذریعے صارفین پر بھاری مالی بوجھ بھی پڑے گا۔</p>
<p>اس وقت اسپاٹ ایل این جی کارگو کی قیمت 18 سے 22 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی حد میں ہے جس کا مطلب ہے کہ بجلی کی پیداواری لاگت تقریباً 30 سے 35 روپے فی یونٹ ہوگی جو کہ آخر کار صارفین سے ہی وصول کی جائے گی۔</p>
<p>بجلی کی پیداوار کے لیے ملک کی آر ایل این جی کی ضرورت کا تخمینہ 400 سے 450 ایم ایم سی ایف ڈی لگایا گیا ہے جو اس وقت تک مکمل طور پر پوری نہیں کی جا سکتی جب تک قطر آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث نافذ کردہ فورس میجر کو ختم نہیں کر دیتا۔</p>
<p>ذرائع نے مزید بتایا کہ پٹرولیم ڈویژن نے پاور ڈویژن کے خط کا جواب دے دیا ہے اور وہ قطر سے ایل این جی کے چار کارگوز کی آمد کو ممکن بنانے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کررہا ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے این سی ایم سی کے سامنے بجلی کی طلب و رسد کی صورتحال پیش کی جس کے بعد پٹرولیم ڈویژن کو ٹینڈرز جاری کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) اسی کے مطابق کارروائی کررہی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا پاور ڈویژن کے ترجمان نے کہا کہ ملک میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں اضافے نے ہائیڈل کی پیداوار کو بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ رات کے پیک اوورز کے دوران ہائیڈل پاور کی پیداوار 5,800 میگاواٹ تک پہنچ گئی جبکہ اس کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 11,500 میگاواٹ ہے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ جنوبی ٹرانسمیشن سسٹم میں بہتری اور استحکام کی بدولت مرکزی گرڈ کو اضافی 500 میگاواٹ بجلی فراہم کی گئی۔</p>
<p>جنوبی خطے سے بجلی کی ترسیل میں 22 اپریل کے مقابلے میں 100 میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ جمعرات کی رات ڈسکوز نے پیک آوورز کے دوران دو گھنٹے تک کی لوڈ مینجمنٹ کی۔</p>
<p>ترجمان نے مزید واضح کیا کہ زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر اکنامک لوڈ مینجمنٹ کی جارہی ہے جو کہ پیک آورز کی لوڈ مینجمنٹ سے الگ ہے۔</p>
<p>ترجمان نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ عالمی حالات کے باعث ایل این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے 5500 میگاواٹ کی صلاحیت کے حامل بجلی گھر تاحال غیر فعال ہیں۔ ایل این جی کی فراہمی کی بحالی اور پانی کے اخراج میں اضافے کے ساتھ رات کے وقت بجلی کی کمی (شارٹ فال) ختم ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285522</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 11:29:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/251128231f3e6b8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/251128231f3e6b8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
