<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 11:38:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 11:38:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو، مسلسل مذاکرات کی ضرورت پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285499/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے جمعہ کو دیرینہ مسائل کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور روابط کی اہمیت پر زور دیا تاکہ خطے میں جلد از جلد امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ گفتگو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے دوران کی جو ایرانی ہم منصب کی جانب سے کی گئی کال پر ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2047611533484863496?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2047611533484863496?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دونوں اطراف نے علاقائی صورتحال، جنگ بندی اور امریکہ و ایران کے درمیان رابطوں کے تناظر میں اسلام آباد کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سلسلے میں پاکستان کے مسلسل اور مثبت معاونتی کردار کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب پاکستان کا دارالحکومت گزشتہ تقریباً ایک ہفتے سے وہاں امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع امن مذاکرات کا منتظر ہے، اگرچہ دونوں فریقین کی ملاقات کے تاحال کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تاہم شہر کے بڑے حصے کو حکام نے اب بھی بند کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کی جانب جانے والی اہم شاہراہیں بند ہیں اور انتظامی مرکز جسے ریڈ زون کہا جاتا ہے، سخت حفاظتی حصار میں ہے۔ اس سے متصل بلیو ایریا کے کیفے میں پھل ختم ہوچکے ہیں، مارکیٹیں ویران ہیں اور بس ٹرمینلز پر سروس کی معطلی کے باعث ہفتہ وار تعطیلات پر گھر جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر مندوبین کی کسی بھی لمحے اچانک آمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہلکار نے بتایا کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کسی بھی دن ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ لاک ڈاؤن پچھلے دو ہفتوں میں دوسرا لاک ڈاؤن ہے۔ اسلام آباد کو پہلی بار 11 اپریل کو امریکہ اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات کے لیے سیل کیا گیا تھا جو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے۔ شہر کو مختصر وقت کے لیے کھولا گیا لیکن پھر دوبارہ لاک ڈاؤن کردیا گیا کیونکہ پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کا منتظر ہے جو تاحال شروع نہیں ہو سکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے جمعہ کو دیرینہ مسائل کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور روابط کی اہمیت پر زور دیا تاکہ خطے میں جلد از جلد امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔</strong></p>
<p>دفترِ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہ گفتگو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے دوران کی جو ایرانی ہم منصب کی جانب سے کی گئی کال پر ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2047611533484863496?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2047611533484863496?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دونوں اطراف نے علاقائی صورتحال، جنگ بندی اور امریکہ و ایران کے درمیان رابطوں کے تناظر میں اسلام آباد کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سلسلے میں پاکستان کے مسلسل اور مثبت معاونتی کردار کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب پاکستان کا دارالحکومت گزشتہ تقریباً ایک ہفتے سے وہاں امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع امن مذاکرات کا منتظر ہے، اگرچہ دونوں فریقین کی ملاقات کے تاحال کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تاہم شہر کے بڑے حصے کو حکام نے اب بھی بند کر رکھا ہے۔</p>
<p>اسلام آباد کی جانب جانے والی اہم شاہراہیں بند ہیں اور انتظامی مرکز جسے ریڈ زون کہا جاتا ہے، سخت حفاظتی حصار میں ہے۔ اس سے متصل بلیو ایریا کے کیفے میں پھل ختم ہوچکے ہیں، مارکیٹیں ویران ہیں اور بس ٹرمینلز پر سروس کی معطلی کے باعث ہفتہ وار تعطیلات پر گھر جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر مندوبین کی کسی بھی لمحے اچانک آمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔</p>
<p>ایک اہلکار نے بتایا کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کسی بھی دن ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>موجودہ لاک ڈاؤن پچھلے دو ہفتوں میں دوسرا لاک ڈاؤن ہے۔ اسلام آباد کو پہلی بار 11 اپریل کو امریکہ اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات کے لیے سیل کیا گیا تھا جو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئے۔ شہر کو مختصر وقت کے لیے کھولا گیا لیکن پھر دوبارہ لاک ڈاؤن کردیا گیا کیونکہ پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کا منتظر ہے جو تاحال شروع نہیں ہو سکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285499</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 15:53:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/24154030bb94b69.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/24154030bb94b69.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
