<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 17:03:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 17:03:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کے اثرات: ایشیا کی پولیسٹر سپلائی چین شدید دباؤ میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285480/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران جنگ کے باعث فوسل فیول  کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت اور بنگلہ دیش میں پولیسٹر سپلائرز اور ملبوسات تیار کرنے والوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے جس سے زارا اور ایچ اینڈ ایم جیسے فاسٹ فیشن ریٹیلرز کے لیے لاگت بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں پولیسٹر دھاگہ تیار کرنے والے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک، فلاٹیکس (Filatex) کے منیجنگ ڈائریکٹر مدھو سودھن بھگیریا نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ دھاگے کی تیاری کے لیے پیٹرولیم سے حاصل ہونے والے خام مال پیوریفائیڈ ٹیرفتھلک ایسڈ (پی ٹی اے) اور مونو ایتھیلین گلائیکول (ایم ای جی)  کے لیے اب تقریباً 30 فیصد زائد قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا چینی سپلائرز کی جانب سے قیمتوں میں اضافے اور مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی کی ترسیل میں تعطل کی وجہ سے ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دباؤ کپڑوں کی پوری سپلائی چین میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ بندل سلک ملز کے سی ای او اوچل آریا جو ایچ اینڈ ایم ، زارا کی مالک کمپنی انڈیٹیکس، ٹارگٹ ، وال مارٹ  اور آئی کے ای اے  جیسے ریٹیلرز کو رنگے ہوئے اور پرنٹڈ پولیسٹر کپڑے فراہم کرتے ہیں نے کہا کہ توانائی  بحران نے کیمیکلز اور رنگوں  کی لاگت میں انتہائی اضافہ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوچل آریا نے مزید بتایا کہ جنگ کی وجہ سے گیس کی قلت نے بہت سے تارکین وطن مزدوروں کو بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے ٹیکسٹائل مرکز سورت کو چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل ہم عالمی آرڈرز کی طلب کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فاسٹ فیشن برانڈز کے ملبوسات مہنگے ہونے کا خدشہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دباؤ بالآخر ان ریٹیلرز تک منتقل ہوسکتا ہے جو ایشیا کی  پولیسٹر پر مبنی سپلائی چینز پر انحصار کرتے ہیں تاہم ریٹیلرز کو فی الحال فوری نقصان سے اس لیے تحفظ حاصل ہے کیونکہ انہوں نے پہلے ہی سے پیشگی خریداری  کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی ریٹیلر پرائی مارک کا کہنا ہے کہ اس کے موسمِ بہار و گرما کے اسٹاک اور موسمِ سرما و خزاں کے اسٹاک کا بڑا حصہ اس صورتحال سے متاثر نہیں ہوگا۔ بنیادی کمپنی ایسوسی ایٹڈ برٹش فوڈز کے سی ای او جارج ویسٹن نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر ہم توانائی سے متعلقہ خام مال آج خرید رہے ہوتے تو ہمیں نمایاں مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا لیکن بات صرف اتنی ہے کہ ہم اس وقت خریداری نہیں کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوسکتا ہے کہ جب ہمیں دوبارہ مارکیٹ میں خریداری کے لیے جانا پڑے تو قیمتیں کم ہو چکی ہوں لیکن ہم (فی الحال) کچھ نہیں جانتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کے ایک بااعتبار ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ اینڈ ایم کو آنے والے ہفتوں میں بنگلہ دیشی سپلائرز کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی توقع ہے تاہم وہ اسے خود برداشت  کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ اینڈ ایم  نے ایک بیان میں کہا کہ اسے بنگلہ دیش میں پیداواری عمل میں کسی بڑے تعطل کا سامنا نہیں ہے اور نہ ہی اس نے سپلائرز کی جانب سے توانائی اخراجات کے باعث آرڈرز میں تبدیلی کے حوالے سے کسی نمایاں تعداد میں درخواستوں کا مشاہدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زارا کی مالک کمپنی انڈیٹیکس نے اپنی پولیسٹر سپلائی کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ٹارگٹ، وال مارٹ اور آئی کے ای اے  نے بھی تبصرہ کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زارا اور ایچ اینڈ ایم جیسے ریٹیلرز نے زیادہ تر ری سائیکل شدہ پولیسٹرجو پلاسٹک کی بوتلوں کے فضلے سے بنتا ہے استعمال کرنا شروع کردیا ہے جو تیل کی قیمتوں کی وجہ سے بڑھنے والے اخراجات کے دباؤ کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر ری سائیکل شدہ پولیسٹر اب بھی پولیسٹر کی کل پیداوار کا صرف 12 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پولیسٹر شاک&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سورت میں رادھے شیام ٹیکسٹائل کی پولیسٹر بننے والی 200 صنعتی لومز میں سے آدھی مشینیں فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے خاموش پڑی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالک کوشک دودھت نے رائٹرز کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہماری روزانہ کی پیداوار 10,000 میٹر تھی لیکن اب یہ کم ہو کر 3,500 سے 4,000 میٹر یومیہ رہ گئی ہے۔ انہوں نے پولیسٹر کا نیا دھاگہ خریدنا بند کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس قدر بھاری اضافے کی وجہ سے وہ اپنی قیمتیں بھی تقریباً 15 فیصد تک بڑھانے پر مجبور ہو جائیں گے اور یہ ایک ایسا اضافہ ہے جسے ان کے گاہک جو کہ بنیادی طور پر ملبوسات کے تاجر ہیں قبول نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈریشن آف سورت ٹیکسٹائل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر کیلاش حکیم کا کہنا ہے کہ اخراجات میں اضافے کی وجہ سے سورت میں ٹیکسٹائل ڈائینگ اور پرنٹنگ کی فیکٹریاں اب ہفتے میں ایک کے بجائے دو دن بند رہنے لگی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خام مال کی قلت پیدا ہونا شروع ہوجائے گی اور فیکٹریاں بند کرنا پڑیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ووڈ میکنزی  کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں پولیسٹر اسٹیپل فائبر کی قیمت فروری کے آخر میں 100 روپے فی کلوگرام تھی جو ایک ماہ بعد بڑھ کر 126.5 روپے ہوگئی۔ بھارتی حکومت کی جانب سے پٹرو کیمیکل خام مال پر درآمدی ٹیرف میں کمی کے بعد اس میں معمولی کمی آئی لیکن 9 اپریل تک یہ 120 روپے پر برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیسٹر کے دنیا کے سب سے بڑے پیدا کنندہ ملک چین میں بھی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیمانڈ میں شدید کمی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں اگرچہ کارخانے زیادہ تر سوتی ملبوسات تیار کرتے ہیں لیکن انہیں اپنی سلائی مشینوں میں استعمال ہونے والے پولیسٹر دھاگے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایندھن کی ریٹیل قیمتوں میں اضافے کے باعث لاجسٹکس کے زیادہ اخراجات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے 5 اپریل کے ایک خط میں برطانیہ میں رجسٹرڈ کمپنی کوٹس کے یونٹ کوٹس بنگلہ دیش نے 15 اپریل سے قیمتوں میں 15.5 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے اس کی وجہ تیل سے حاصل ہونے والے خام مال کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو قرار دیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش نیٹ ویئر مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد حاتم نے کہا  کہ خریدار اب زیادہ محتاط ہو رہے ہیں اور آرڈر دینے سے پہلے خطرات کا باریک بینی سے حساب لگا رہے ہیں جس سے آرڈرز کے حجم پر اثر پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ووڈ میکنزی میں فائبرز کی پرنسپل اینالسٹ، برونا اینجل نے کہا کہ اگر یہ صورتحال مزید ایک ماہ برقرار رہی تو پھر سب بھول جائیں، ہماری ملبوسات کی پیداوار کم ہو جائے گی اور وہی صورتحال پیدا ہوگی جسے ہم ڈیمانڈ ڈسٹرکشن کہتے ہیں کیونکہ ریٹیلرز کو اپنی قیمتیں بڑھانی ہوں گی اور صارفین اپنی خریداری میں کٹوتی کر دیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران جنگ کے باعث فوسل فیول  کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت اور بنگلہ دیش میں پولیسٹر سپلائرز اور ملبوسات تیار کرنے والوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے جس سے زارا اور ایچ اینڈ ایم جیسے فاسٹ فیشن ریٹیلرز کے لیے لاگت بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارت میں پولیسٹر دھاگہ تیار کرنے والے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک، فلاٹیکس (Filatex) کے منیجنگ ڈائریکٹر مدھو سودھن بھگیریا نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ دھاگے کی تیاری کے لیے پیٹرولیم سے حاصل ہونے والے خام مال پیوریفائیڈ ٹیرفتھلک ایسڈ (پی ٹی اے) اور مونو ایتھیلین گلائیکول (ایم ای جی)  کے لیے اب تقریباً 30 فیصد زائد قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا چینی سپلائرز کی جانب سے قیمتوں میں اضافے اور مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی کی ترسیل میں تعطل کی وجہ سے ہورہا ہے۔</p>
<p>یہ دباؤ کپڑوں کی پوری سپلائی چین میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ بندل سلک ملز کے سی ای او اوچل آریا جو ایچ اینڈ ایم ، زارا کی مالک کمپنی انڈیٹیکس، ٹارگٹ ، وال مارٹ  اور آئی کے ای اے  جیسے ریٹیلرز کو رنگے ہوئے اور پرنٹڈ پولیسٹر کپڑے فراہم کرتے ہیں نے کہا کہ توانائی  بحران نے کیمیکلز اور رنگوں  کی لاگت میں انتہائی اضافہ کردیا ہے۔</p>
<p>اوچل آریا نے مزید بتایا کہ جنگ کی وجہ سے گیس کی قلت نے بہت سے تارکین وطن مزدوروں کو بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے ٹیکسٹائل مرکز سورت کو چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل ہم عالمی آرڈرز کی طلب کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔</p>
<p><strong>فاسٹ فیشن برانڈز کے ملبوسات مہنگے ہونے کا خدشہ</strong></p>
<p>یہ دباؤ بالآخر ان ریٹیلرز تک منتقل ہوسکتا ہے جو ایشیا کی  پولیسٹر پر مبنی سپلائی چینز پر انحصار کرتے ہیں تاہم ریٹیلرز کو فی الحال فوری نقصان سے اس لیے تحفظ حاصل ہے کیونکہ انہوں نے پہلے ہی سے پیشگی خریداری  کر رکھی ہے۔</p>
<p>برطانوی ریٹیلر پرائی مارک کا کہنا ہے کہ اس کے موسمِ بہار و گرما کے اسٹاک اور موسمِ سرما و خزاں کے اسٹاک کا بڑا حصہ اس صورتحال سے متاثر نہیں ہوگا۔ بنیادی کمپنی ایسوسی ایٹڈ برٹش فوڈز کے سی ای او جارج ویسٹن نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر ہم توانائی سے متعلقہ خام مال آج خرید رہے ہوتے تو ہمیں نمایاں مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا لیکن بات صرف اتنی ہے کہ ہم اس وقت خریداری نہیں کررہے ہیں۔</p>
<p>ہوسکتا ہے کہ جب ہمیں دوبارہ مارکیٹ میں خریداری کے لیے جانا پڑے تو قیمتیں کم ہو چکی ہوں لیکن ہم (فی الحال) کچھ نہیں جانتے۔</p>
<p>صنعت کے ایک بااعتبار ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ اینڈ ایم کو آنے والے ہفتوں میں بنگلہ دیشی سپلائرز کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی توقع ہے تاہم وہ اسے خود برداشت  کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>ایچ اینڈ ایم  نے ایک بیان میں کہا کہ اسے بنگلہ دیش میں پیداواری عمل میں کسی بڑے تعطل کا سامنا نہیں ہے اور نہ ہی اس نے سپلائرز کی جانب سے توانائی اخراجات کے باعث آرڈرز میں تبدیلی کے حوالے سے کسی نمایاں تعداد میں درخواستوں کا مشاہدہ کیا ہے۔</p>
<p>زارا کی مالک کمپنی انڈیٹیکس نے اپنی پولیسٹر سپلائی کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ٹارگٹ، وال مارٹ اور آئی کے ای اے  نے بھی تبصرہ کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>زارا اور ایچ اینڈ ایم جیسے ریٹیلرز نے زیادہ تر ری سائیکل شدہ پولیسٹرجو پلاسٹک کی بوتلوں کے فضلے سے بنتا ہے استعمال کرنا شروع کردیا ہے جو تیل کی قیمتوں کی وجہ سے بڑھنے والے اخراجات کے دباؤ کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر ری سائیکل شدہ پولیسٹر اب بھی پولیسٹر کی کل پیداوار کا صرف 12 فیصد ہے۔</p>
<p><strong>پولیسٹر شاک</strong></p>
<p>سورت میں رادھے شیام ٹیکسٹائل کی پولیسٹر بننے والی 200 صنعتی لومز میں سے آدھی مشینیں فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے خاموش پڑی ہیں۔</p>
<p>مالک کوشک دودھت نے رائٹرز کو بتایا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہماری روزانہ کی پیداوار 10,000 میٹر تھی لیکن اب یہ کم ہو کر 3,500 سے 4,000 میٹر یومیہ رہ گئی ہے۔ انہوں نے پولیسٹر کا نیا دھاگہ خریدنا بند کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس قدر بھاری اضافے کی وجہ سے وہ اپنی قیمتیں بھی تقریباً 15 فیصد تک بڑھانے پر مجبور ہو جائیں گے اور یہ ایک ایسا اضافہ ہے جسے ان کے گاہک جو کہ بنیادی طور پر ملبوسات کے تاجر ہیں قبول نہیں کریں گے۔</p>
<p>فیڈریشن آف سورت ٹیکسٹائل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر کیلاش حکیم کا کہنا ہے کہ اخراجات میں اضافے کی وجہ سے سورت میں ٹیکسٹائل ڈائینگ اور پرنٹنگ کی فیکٹریاں اب ہفتے میں ایک کے بجائے دو دن بند رہنے لگی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خام مال کی قلت پیدا ہونا شروع ہوجائے گی اور فیکٹریاں بند کرنا پڑیں گی۔</p>
<p>ووڈ میکنزی  کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں پولیسٹر اسٹیپل فائبر کی قیمت فروری کے آخر میں 100 روپے فی کلوگرام تھی جو ایک ماہ بعد بڑھ کر 126.5 روپے ہوگئی۔ بھارتی حکومت کی جانب سے پٹرو کیمیکل خام مال پر درآمدی ٹیرف میں کمی کے بعد اس میں معمولی کمی آئی لیکن 9 اپریل تک یہ 120 روپے پر برقرار رہی۔</p>
<p>پولیسٹر کے دنیا کے سب سے بڑے پیدا کنندہ ملک چین میں بھی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p><strong>ڈیمانڈ میں شدید کمی</strong></p>
<p>بنگلہ دیش میں اگرچہ کارخانے زیادہ تر سوتی ملبوسات تیار کرتے ہیں لیکن انہیں اپنی سلائی مشینوں میں استعمال ہونے والے پولیسٹر دھاگے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایندھن کی ریٹیل قیمتوں میں اضافے کے باعث لاجسٹکس کے زیادہ اخراجات کا سامنا ہے۔</p>
<p>رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے 5 اپریل کے ایک خط میں برطانیہ میں رجسٹرڈ کمپنی کوٹس کے یونٹ کوٹس بنگلہ دیش نے 15 اپریل سے قیمتوں میں 15.5 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے اس کی وجہ تیل سے حاصل ہونے والے خام مال کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو قرار دیا ۔</p>
<p>بنگلہ دیش نیٹ ویئر مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد حاتم نے کہا  کہ خریدار اب زیادہ محتاط ہو رہے ہیں اور آرڈر دینے سے پہلے خطرات کا باریک بینی سے حساب لگا رہے ہیں جس سے آرڈرز کے حجم پر اثر پڑسکتا ہے۔</p>
<p>ووڈ میکنزی میں فائبرز کی پرنسپل اینالسٹ، برونا اینجل نے کہا کہ اگر یہ صورتحال مزید ایک ماہ برقرار رہی تو پھر سب بھول جائیں، ہماری ملبوسات کی پیداوار کم ہو جائے گی اور وہی صورتحال پیدا ہوگی جسے ہم ڈیمانڈ ڈسٹرکشن کہتے ہیں کیونکہ ریٹیلرز کو اپنی قیمتیں بڑھانی ہوں گی اور صارفین اپنی خریداری میں کٹوتی کر دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285480</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 12:17:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/24120957a93f88e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/24120957a93f88e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
