<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:35:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 16:35:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کی سہولیات میں اضافہ، خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی درآمد پر توجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285479/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک نے موجودہ جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر بینکوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی معاہدوں کی رجسٹریشن کے وقت ہی فنانشل انسٹرومنٹس جاری کرسکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بینکوں کو اسٹینڈ بائی لیٹرز آف کریڈٹ  جاری کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے فارن ایکسچینج مینول کے تحت پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے درآمدات  فنانشل انسٹرومنٹ کی تفصیلات اور پاکستانی مقیم افراد کی جانب سے غیر مقیم افراد کے حق میں ضمانتیں سے متعلق ہدایات میں ترامیم کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیشِ نظر اور خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی سمیت توانائی کی بلا تعطل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کلیدی آپریشنل اختیارات مجاز ڈیلرز (بینکوں) کو تفویض کردیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی  کی بروقت درآمد میں سہولت فراہم کرنا ہے جو ملک کی توانائی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظرثانی شدہ انتظامات کے تحت بینکوں کو خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے امپورٹ کنٹریکٹس کی رجسٹریشن کے وقت ہی فنانشل انسٹرومینٹس  جاری کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ اس سے کاغذی کارروائی  کے عمل میں تیزی آئے گی اور درآمدی لین دین شروع کرنے میں ہونے والی تاخیر میں کمی واقع ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں مجاز ڈیلرز اب خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی درآمد کے لیے اسٹینڈ بائی لیٹرز آف کریڈٹ  بھی جاری کرسکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا ماننا ہے کہ بینکوں کو یہ اختیارات دینے سے تجارتی عمل میں آسانی پیدا ہوگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران درآمد کنندگان کو زیادہ لچک میسر آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور اجناس کی عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر طریقہ کار کی رکاوٹوں  کو دور کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک نے موجودہ جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر بینکوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی معاہدوں کی رجسٹریشن کے وقت ہی فنانشل انسٹرومنٹس جاری کرسکیں۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک نے خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بینکوں کو اسٹینڈ بائی لیٹرز آف کریڈٹ  جاری کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے فارن ایکسچینج مینول کے تحت پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے درآمدات  فنانشل انسٹرومنٹ کی تفصیلات اور پاکستانی مقیم افراد کی جانب سے غیر مقیم افراد کے حق میں ضمانتیں سے متعلق ہدایات میں ترامیم کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیشِ نظر اور خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی سمیت توانائی کی بلا تعطل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کلیدی آپریشنل اختیارات مجاز ڈیلرز (بینکوں) کو تفویض کردیے جائیں۔</p>
<p>اس اقدام کا مقصد خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی  کی بروقت درآمد میں سہولت فراہم کرنا ہے جو ملک کی توانائی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔</p>
<p>نظرثانی شدہ انتظامات کے تحت بینکوں کو خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے امپورٹ کنٹریکٹس کی رجسٹریشن کے وقت ہی فنانشل انسٹرومینٹس  جاری کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔</p>
<p>توقع ہے کہ اس سے کاغذی کارروائی  کے عمل میں تیزی آئے گی اور درآمدی لین دین شروع کرنے میں ہونے والی تاخیر میں کمی واقع ہو گی۔</p>
<p>مزید برآں مجاز ڈیلرز اب خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی درآمد کے لیے اسٹینڈ بائی لیٹرز آف کریڈٹ  بھی جاری کرسکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا ماننا ہے کہ بینکوں کو یہ اختیارات دینے سے تجارتی عمل میں آسانی پیدا ہوگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران درآمد کنندگان کو زیادہ لچک میسر آئے گی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور اجناس کی عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر طریقہ کار کی رکاوٹوں  کو دور کرنا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285479</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 11:51:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/24112209d831e0a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/24112209d831e0a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
