<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 01:27:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 01:27:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیشنل گرڈ کمپنی نے 10 سالہ ٹرانسمیشن منصوبے میں ضمنی رپورٹ جمع کرا دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285422/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) نے ٹرانسمیشن سسٹم ایکسپینشن پلان 2024-34 میں ایک ضمنی رپورٹ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرا دی ہے، جس میں مجموعی طور پر 10.646 ارب ڈالر کی مالی ضروریات ظاہر کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور سسٹم آپریٹر کے درمیان بجلی کی طلب کے تخمینوں میں بڑھتے ہوئے فرق کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ فرق اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ موجودہ معاشی حالات کے باعث گرڈ سے منسلک بجلی کی کھپت میں کمی آئی ہے، جبکہ نیٹ میٹرنگ اور چھتوں پر سولر پینلز (روف ٹاپ سولر) کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ضمنی پلان پاور گرڈ کوڈ کے پی سی-4 کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کے مطابق سسٹم آپریٹر کو سالانہ بنیادوں پر انٹیگریٹڈ سسٹم پلان تیار کرنا ہوتا ہے۔ اس میں جنریشن پلان اور ٹرانسمیشن ایکسپینشن پلان شامل ہوتے ہیں، جنہیں بعد میں نیپرا کی منظوری کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ مجموعی طلب کے تخمینوں میں بڑا فرق نہیں آیا، لیکن ڈسکوز نے گرڈ سے بجلی کے استعمال میں نمایاں کمی رپورٹ کی ہے۔ این جی سی کے مطابق یہ کمی عارضی ہے اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم رجحان پر نظر رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2035 تک کے دوران کے الیکٹرک کو قومی گرڈ سے بجلی کی ترسیل 3,456 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو پہلے 2,050 میگاواٹ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر بھی رپورٹ کا حصہ ہے، جن میں داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (2,160 میگاواٹ)، مہمند ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (800 میگاواٹ) اور دیامر بھاشا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (4,500 میگاواٹ) شامل ہیں۔ ان تاخیر کے باعث ٹرانسمیشن انفرااسٹرکچر کے شیڈول میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ بیسڈ بنیادوں پر 3,109 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جبکہ ہوا سے بجلی کے منصوبوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ این جی سی کے مطابق مستقبل کی طلب، طلب میں کمی کے رجحان اور قابلِ تجدید توانائی کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی جاری رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) نے ٹرانسمیشن سسٹم ایکسپینشن پلان 2024-34 میں ایک ضمنی رپورٹ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرا دی ہے، جس میں مجموعی طور پر 10.646 ارب ڈالر کی مالی ضروریات ظاہر کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) اور سسٹم آپریٹر کے درمیان بجلی کی طلب کے تخمینوں میں بڑھتے ہوئے فرق کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ فرق اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ موجودہ معاشی حالات کے باعث گرڈ سے منسلک بجلی کی کھپت میں کمی آئی ہے، جبکہ نیٹ میٹرنگ اور چھتوں پر سولر پینلز (روف ٹاپ سولر) کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>یہ ضمنی پلان پاور گرڈ کوڈ کے پی سی-4 کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کے مطابق سسٹم آپریٹر کو سالانہ بنیادوں پر انٹیگریٹڈ سسٹم پلان تیار کرنا ہوتا ہے۔ اس میں جنریشن پلان اور ٹرانسمیشن ایکسپینشن پلان شامل ہوتے ہیں، جنہیں بعد میں نیپرا کی منظوری کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ مجموعی طلب کے تخمینوں میں بڑا فرق نہیں آیا، لیکن ڈسکوز نے گرڈ سے بجلی کے استعمال میں نمایاں کمی رپورٹ کی ہے۔ این جی سی کے مطابق یہ کمی عارضی ہے اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم رجحان پر نظر رکھی جائے گی۔</p>
<p>دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2035 تک کے دوران کے الیکٹرک کو قومی گرڈ سے بجلی کی ترسیل 3,456 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو پہلے 2,050 میگاواٹ تھی۔</p>
<p>اہم ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر بھی رپورٹ کا حصہ ہے، جن میں داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (2,160 میگاواٹ)، مہمند ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (800 میگاواٹ) اور دیامر بھاشا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (4,500 میگاواٹ) شامل ہیں۔ ان تاخیر کے باعث ٹرانسمیشن انفرااسٹرکچر کے شیڈول میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ بیسڈ بنیادوں پر 3,109 میگاواٹ قابلِ تجدید توانائی منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جبکہ ہوا سے بجلی کے منصوبوں میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ این جی سی کے مطابق مستقبل کی طلب، طلب میں کمی کے رجحان اور قابلِ تجدید توانائی کے پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی جاری رکھی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285422</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 09:25:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/230923184cd4c17.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/230923184cd4c17.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
