<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Financial</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:48:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 14:48:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکہ کشیدگی برقرار، ڈالر بلند سطح کے قریب مستحکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285421/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور امن مذاکرات میں تعطل کے باعث جمعرات کو امریکی ڈالر میں غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی، جبکہ تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں، جس نے عالمی سرمایہ کاروں کے جذبات پر دباؤ بڑھا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے دو بحری جہازوں کی تحویل اور امریکی بحری ناکہ بندی کے تسلسل کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کے باوجود امن مذاکرات کی بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے باعث یورو کی قدر 1.1712 ڈالر تک گر گئی، جو اپریل کے وسط کے بعد کم ترین سطح ہے، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3497 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلوی ڈالر 0.7165 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.59045 ڈالر پر مستحکم رہا۔ جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر معمولی کمی کے ساتھ 159.48 ین پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر انڈیکس 98.644 پر رہا، جو اپریل کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی بحران اور مہنگائی کے خدشات کے باعث عالمی معیشت پر دباؤ برقرار ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو شرح سود میں فوری کمی سے گریز کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور طویل کشیدگی عالمی منڈیوں کے لیے خطرات بڑھا رہی ہے، جبکہ آنے والے معاشی ڈیٹا سے صورتحال مزید واضح ہو گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور امن مذاکرات میں تعطل کے باعث جمعرات کو امریکی ڈالر میں غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی، جبکہ تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں، جس نے عالمی سرمایہ کاروں کے جذبات پر دباؤ بڑھا دیا۔</strong></p>
<p>رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے دو بحری جہازوں کی تحویل اور امریکی بحری ناکہ بندی کے تسلسل کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کے باوجود امن مذاکرات کی بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔</p>
<p>اس صورتحال کے باعث یورو کی قدر 1.1712 ڈالر تک گر گئی، جو اپریل کے وسط کے بعد کم ترین سطح ہے، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3497 ڈالر پر رہا۔ آسٹریلوی ڈالر 0.7165 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.59045 ڈالر پر مستحکم رہا۔ جاپانی ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر معمولی کمی کے ساتھ 159.48 ین پر آ گیا۔</p>
<p>امریکی ڈالر انڈیکس 98.644 پر رہا، جو اپریل کے بعد بلند ترین سطح کے قریب ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی بحران اور مہنگائی کے خدشات کے باعث عالمی معیشت پر دباؤ برقرار ہے، جبکہ فیڈرل ریزرو شرح سود میں فوری کمی سے گریز کرے گا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور طویل کشیدگی عالمی منڈیوں کے لیے خطرات بڑھا رہی ہے، جبکہ آنے والے معاشی ڈیٹا سے صورتحال مزید واضح ہو گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285421</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 09:18:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/230916476cb3d3e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/230916476cb3d3e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
