<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 16:17:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 16:17:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی بحری ناکہ بندی کا خوراک کی فراہمی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا، ایران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285395/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے وزیرِ زراعت نے کہا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کا ملک کی بنیادی اشیائے ضروریہ اور خوراک کی فراہمی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا، کیونکہ ایران کے پاس مضبوط مقامی پیداوار اور متبادل درآمدی راستے موجود ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ زراعت غلام رضا نوری نے منگل کے روز کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ہمیں بنیادی اشیا اور خوراک کی فراہمی میں کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ ملک کے حجم کے باعث مختلف سرحدوں سے درآمد ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 85 فیصد زرعی مصنوعات اور بنیادی اشیاء ملک میں ہی پیدا ہوتی ہیں، اس لیے خوراک کے حوالے سے ملک کی خود کفالت یقینی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے 13 اپریل کو ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں پر بحری ناکہ بندی عائد کی تھی، جو ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اس ناکہ بندی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے وزیرِ زراعت نے کہا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کا ملک کی بنیادی اشیائے ضروریہ اور خوراک کی فراہمی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا، کیونکہ ایران کے پاس مضبوط مقامی پیداوار اور متبادل درآمدی راستے موجود ہیں۔</strong></p>
<p>وزیرِ زراعت غلام رضا نوری نے منگل کے روز کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ہمیں بنیادی اشیا اور خوراک کی فراہمی میں کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ ملک کے حجم کے باعث مختلف سرحدوں سے درآمد ممکن ہے۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 85 فیصد زرعی مصنوعات اور بنیادی اشیاء ملک میں ہی پیدا ہوتی ہیں، اس لیے خوراک کے حوالے سے ملک کی خود کفالت یقینی ہے۔</p>
<p>امریکا نے 13 اپریل کو ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں پر بحری ناکہ بندی عائد کی تھی، جو ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد کی گئی۔</p>
<p>ایران نے اس ناکہ بندی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285395</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 13:55:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/22135331e6ff0a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/22135331e6ff0a1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
