<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 00:37:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 00:37:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف: بجٹ 27-2026 کی اہم ترجیحات سامنے آگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285389/</link>
      <description>&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک نمائندے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے جائزے کے تحت محدود ٹیکس بیس کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، آئی ایم ایف  کے پروگرام میں شامل دیگر ممالک کی طرح اس بات کا پابند ہے کہ اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اپنے بجٹ کی منظوری فنڈ کے عملے سے حاصل کرے، اس معاہدے کے نتیجے میں ہی بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد قرض کی قسط جاری کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ آئی ایم ایف نے ایک پریس ریلیز میں اعلان کیا ہے کہ تیسرے جائزے کا اسٹاف لیول معاہدہ 27 مارچ 2026 کو طے پا گیا تھا لیکن تاحال ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی، اس لیے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ نمائندے کا بیان محض ایک مشورہ نہیں بلکہ ایک پیشگی شرط  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ ریونیو متحرک کرنے کی کوششوں کے نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے جس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اپنے ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت ترجیحی اقدامات پر عمل درآمد کررہا ہے اور پیشرفت کی نگرانی کیلئے کلیدی کارکردگی کے اشارے تیار کررہا ہے، ان ترجیحات میں ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کو مضبوط بنانا، ڈیجیٹل انوائسنگ اور پروڈکشن مانیٹرنگ کے استعمال کو وسعت دینا اور ایف بی آر کے اندرونی گورننس کے نظام کو بہتر بنانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیا قائم شدہ ٹیکس پالیسی آفس ایک وسط مدتی ٹیکس اصلاحاتی حکمتِ عملی تیار کررہا ہے جس کا مقصد ریونیو کے استحکام اور ٹیکس پالیسی میں تسلسل کو یقینی بنانا ہے، اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی بوجھ کی تقسیم کو بہتر بنانے اور عوامی مالیاتی انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین نکات قابلِ غور ہیں۔ اول جولائی تا مارچ 2026 کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں نظرِثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 610 ارب روپے کی کمی رہی اور خدشہ ہے کہ موجودہ مالی سال کے باقی تین ماہ میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث معاشی سرگرمیاں شدید متاثر رہنے سے یہ ہدف مزید متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ آمدنی کا بڑا انحصار انہی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا مشاہدہ یہ ہے کہ پاکستان بزنس کونسل  نے ایف بی آر  پر زور دیا ہے کہ وہ کارپوریٹ سیکٹر سے سپر ٹیکس پر ڈیفالٹ سرچارج کی وصولی کے لیے جاری کردہ غیر قانونی نوٹسز واپس لے۔ کونسل کا موقف ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم کی وجہ سے ادائیگی نہ ہونا کمپنیوں کی دانستہ غلطی نہیں تھی، مزید یہ کہ ان کمپنیوں کے سیلز اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی مد میں بڑی رقوم اکثر کئی سالوں سے واجب الادا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں آئی ایم ایف کے اس دعوے کے حوالے سے کہ نو قائم شدہ ٹیکس پالیسی آفس ایک وسط مدتی ٹیکس اصلاحاتی حکمتِ عملی تیار کر رہا ہے جس کا مقصد ریونیو کے استحکام اور ٹیکس پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بین الاقوامی اور مقامی ماہرین کے تحقیقی رپورٹس کی ایک بڑی تعداد پہلے سے موجود ہے جس میں مختصر، وسط اور طویل مدتی ٹیکس اصلاحات پر مبنی تفصیلی اور وقت کے تعین کے ساتھ سفارشات دی گئی ہیں۔ یہ سفارشات تمام اہم اہداف کو پورا کرتی ہیں، لیکن یہ سب متعلقہ وزارتوں میں دھول چاٹ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کی ایک مشق نیشنل ٹیکس ریفارم کمیشن نے بھی کی تھی جس کی سفارشات کی سب نے توثیق کی لیکن ان پر عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔ آئی ایم ایف عام طور پر اس بات کا خاص خیال رکھتا ہے کہ دیگر کثیر الجہتی اداروں  کی کوششوں کو دہرایا نہ جائے، لہٰذا یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ وہ پہلے سے دستیاب تحقیقی مواد کو دوبارہ تیار کرنے کے حوالے سے اتنا غیر حساس کیوں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں تیسرے جائزے کی پریس ریلیز میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی بوجھ کی تقسیم کو بہتر بنانے اور عوامی مالیاتی انتظام  کو مضبوط بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بجٹ میں صوبوں کا کردار دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے: پہلا وہ بجٹ سرپلس جو وفاقی بجٹ میں دکھایا جاتا ہے لیکن چاروں صوبوں کے اپنے بجٹ میں شاذ و نادر ہی اس سے مماثلت رکھتا ہے اور جہاں یہ مماثلت ہو بھی، وہاں مالی سال کے اختتام پر اسے حاصل نہیں کیا جا پاتا اور دوسرا زرعی انکم ٹیکس کے ذریعے زیادہ ریونیو کا حصول جس پر تمام صوبوں نے اتفاق تو کیا تھا لیکن اب تک اس کی خالص وصولی انتہائی ناقص رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حرفِ آخر کے طور پر یہ امید کی جا سکتی تھی کہ وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے ایف بی آر نے پہلے سے موجود تحقیقی مقالہ جات کی سفارشات پر عمل درآمد کی پیشکش کی ہوتی، بجائے اس کے کہ وہ ’آسان اہداف  پر تکیہ کرتا۔ ان آسان اہداف میں خاص طور پر پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنا اور سیلز ٹیکس نظام کے تحت ودہولڈنگ ٹیکسز شامل ہیں جو کہ دراصل بالواسطہ ٹیکس ہیں اور جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امید ہے کہ اس کی پیرنٹ تنظیم، یعنی وزارتِ خزانہ آنے والے بجٹ میں جاری اخراجات  میں کم از کم 2 کھرب روپے کی کٹوتی کرے گی، اس اقدام سے مزید نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت کم ہو جائے گی جو کہ اس وقت معاشی سرگرمیوں کو منفی طور پر متاثر کررہے ہیں اور جس کا براہِ راست نقصان روزگار کی سطح پر ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک نمائندے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے جائزے کے تحت محدود ٹیکس بیس کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کرے۔</p>
<p>پاکستان، آئی ایم ایف  کے پروگرام میں شامل دیگر ممالک کی طرح اس بات کا پابند ہے کہ اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اپنے بجٹ کی منظوری فنڈ کے عملے سے حاصل کرے، اس معاہدے کے نتیجے میں ہی بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد قرض کی قسط جاری کی جاتی ہے۔</p>
<p>چونکہ آئی ایم ایف نے ایک پریس ریلیز میں اعلان کیا ہے کہ تیسرے جائزے کا اسٹاف لیول معاہدہ 27 مارچ 2026 کو طے پا گیا تھا لیکن تاحال ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی، اس لیے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ نمائندے کا بیان محض ایک مشورہ نہیں بلکہ ایک پیشگی شرط  ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ ریونیو متحرک کرنے کی کوششوں کے نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے جس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اپنے ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت ترجیحی اقدامات پر عمل درآمد کررہا ہے اور پیشرفت کی نگرانی کیلئے کلیدی کارکردگی کے اشارے تیار کررہا ہے، ان ترجیحات میں ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کو مضبوط بنانا، ڈیجیٹل انوائسنگ اور پروڈکشن مانیٹرنگ کے استعمال کو وسعت دینا اور ایف بی آر کے اندرونی گورننس کے نظام کو بہتر بنانا شامل ہے۔</p>
<p>نیا قائم شدہ ٹیکس پالیسی آفس ایک وسط مدتی ٹیکس اصلاحاتی حکمتِ عملی تیار کررہا ہے جس کا مقصد ریونیو کے استحکام اور ٹیکس پالیسی میں تسلسل کو یقینی بنانا ہے، اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی بوجھ کی تقسیم کو بہتر بنانے اور عوامی مالیاتی انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔</p>
<p>تین نکات قابلِ غور ہیں۔ اول جولائی تا مارچ 2026 کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں نظرِثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 610 ارب روپے کی کمی رہی اور خدشہ ہے کہ موجودہ مالی سال کے باقی تین ماہ میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث معاشی سرگرمیاں شدید متاثر رہنے سے یہ ہدف مزید متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ آمدنی کا بڑا انحصار انہی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔</p>
<p>دوسرا مشاہدہ یہ ہے کہ پاکستان بزنس کونسل  نے ایف بی آر  پر زور دیا ہے کہ وہ کارپوریٹ سیکٹر سے سپر ٹیکس پر ڈیفالٹ سرچارج کی وصولی کے لیے جاری کردہ غیر قانونی نوٹسز واپس لے۔ کونسل کا موقف ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم کی وجہ سے ادائیگی نہ ہونا کمپنیوں کی دانستہ غلطی نہیں تھی، مزید یہ کہ ان کمپنیوں کے سیلز اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی مد میں بڑی رقوم اکثر کئی سالوں سے واجب الادا ہیں۔</p>
<p>مزید برآں آئی ایم ایف کے اس دعوے کے حوالے سے کہ نو قائم شدہ ٹیکس پالیسی آفس ایک وسط مدتی ٹیکس اصلاحاتی حکمتِ عملی تیار کر رہا ہے جس کا مقصد ریونیو کے استحکام اور ٹیکس پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بین الاقوامی اور مقامی ماہرین کے تحقیقی رپورٹس کی ایک بڑی تعداد پہلے سے موجود ہے جس میں مختصر، وسط اور طویل مدتی ٹیکس اصلاحات پر مبنی تفصیلی اور وقت کے تعین کے ساتھ سفارشات دی گئی ہیں۔ یہ سفارشات تمام اہم اہداف کو پورا کرتی ہیں، لیکن یہ سب متعلقہ وزارتوں میں دھول چاٹ رہی ہیں۔</p>
<p>اسی طرح کی ایک مشق نیشنل ٹیکس ریفارم کمیشن نے بھی کی تھی جس کی سفارشات کی سب نے توثیق کی لیکن ان پر عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔ آئی ایم ایف عام طور پر اس بات کا خاص خیال رکھتا ہے کہ دیگر کثیر الجہتی اداروں  کی کوششوں کو دہرایا نہ جائے، لہٰذا یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ وہ پہلے سے دستیاب تحقیقی مواد کو دوبارہ تیار کرنے کے حوالے سے اتنا غیر حساس کیوں ہے۔</p>
<p>اور آخر میں تیسرے جائزے کی پریس ریلیز میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی بوجھ کی تقسیم کو بہتر بنانے اور عوامی مالیاتی انتظام  کو مضبوط بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔</p>
<p>وفاقی بجٹ میں صوبوں کا کردار دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے: پہلا وہ بجٹ سرپلس جو وفاقی بجٹ میں دکھایا جاتا ہے لیکن چاروں صوبوں کے اپنے بجٹ میں شاذ و نادر ہی اس سے مماثلت رکھتا ہے اور جہاں یہ مماثلت ہو بھی، وہاں مالی سال کے اختتام پر اسے حاصل نہیں کیا جا پاتا اور دوسرا زرعی انکم ٹیکس کے ذریعے زیادہ ریونیو کا حصول جس پر تمام صوبوں نے اتفاق تو کیا تھا لیکن اب تک اس کی خالص وصولی انتہائی ناقص رہی ہے۔</p>
<p>حرفِ آخر کے طور پر یہ امید کی جا سکتی تھی کہ وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے ایف بی آر نے پہلے سے موجود تحقیقی مقالہ جات کی سفارشات پر عمل درآمد کی پیشکش کی ہوتی، بجائے اس کے کہ وہ ’آسان اہداف  پر تکیہ کرتا۔ ان آسان اہداف میں خاص طور پر پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنا اور سیلز ٹیکس نظام کے تحت ودہولڈنگ ٹیکسز شامل ہیں جو کہ دراصل بالواسطہ ٹیکس ہیں اور جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔</p>
<p>امید ہے کہ اس کی پیرنٹ تنظیم، یعنی وزارتِ خزانہ آنے والے بجٹ میں جاری اخراجات  میں کم از کم 2 کھرب روپے کی کٹوتی کرے گی، اس اقدام سے مزید نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت کم ہو جائے گی جو کہ اس وقت معاشی سرگرمیوں کو منفی طور پر متاثر کررہے ہیں اور جس کا براہِ راست نقصان روزگار کی سطح پر ہو رہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285389</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 14:41:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/2212512174d3203.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/2212512174d3203.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
