<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 15:11:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 15:11:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹریڈ سمٹ: وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی عالمی کاروباری رہنماؤں سے اقتصادی تعاون پر بات چیت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285342/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے لندن میں منعقدہ دولت مشترکہ تجارت و سرمایہ کاری سمٹ 2026  کے موقع پر عالمی کاروباری رہنمائوں اور ادارہ جاتی نمائندگان کے ساتھ اعلیٰ سطح دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جس کا مقصد پاکستان کی سرمایہ کاری شراکت داریوں کو فروغ دینا اور اقتصادی تعاون کو مستحکم کرنا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ملاقاتوں کے دوران وفاقی وزیر نے ڈی لا رو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کلائیو ویچر، ٹی پی پی کے ڈائریکٹر ایش بروک، جبرالٹر کے رکن پارلیمنٹ کرسچن سانتوس، کیمرون کے وزیر تجارت، رائٹ آنریبل لارڈ مارلینڈ (چیئرمین کامن ویلتھ انٹرپرائز اینڈ انویسٹمنٹ کونسل)، لارڈ سوائر، پروفیسر آصف چوہدری (بورڈ ممبر سی ڈبلیو ای آئی سی)، سعودی ایکساب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یزید صالح، مالٹا کے نائب وزیر اعظم سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ملاقاتوں میں وفاقی وزیر نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی متحرک قیادت میں پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم، محفوظ اور سرمایہ کاری کیلئے سازگار ملک کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے، حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے مربوط اقدامات عالمی اعتماد کو مضبوط بنا رہے ہیں اور پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے پاکستان میں ترجیحی شعبوں بشمول انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، انفرااسٹرکچر، زراعت اور مینوفیکچرنگ میں موجود متنوع سرمایہ کاری مواقع پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) کی اہمیت پر بھی زور دیا جو پرکشش مراعات، جدید انفرااسٹرکچر اور علاقائی روابط فراہم کرتے ہیں جس کے باعث پاکستان علاقائی منڈیوں تک رسائی کا ایک اہم دروازہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات، تجارتی روابط کے فروغ اور مالیاتی خدمات، ڈیجیٹل حل اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ملاقاتوں سے پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں اور اسے ایک مسابقتی سرمایہ کاری مرکز بنانے کی کوششوں میں بڑھتی عالمی دلچسپی بھی ظاہر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے لندن میں منعقدہ دولت مشترکہ تجارت و سرمایہ کاری سمٹ 2026  کے موقع پر عالمی کاروباری رہنمائوں اور ادارہ جاتی نمائندگان کے ساتھ اعلیٰ سطح دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جس کا مقصد پاکستان کی سرمایہ کاری شراکت داریوں کو فروغ دینا اور اقتصادی تعاون کو مستحکم کرنا تھا۔</strong></p>
<p>ان ملاقاتوں کے دوران وفاقی وزیر نے ڈی لا رو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کلائیو ویچر، ٹی پی پی کے ڈائریکٹر ایش بروک، جبرالٹر کے رکن پارلیمنٹ کرسچن سانتوس، کیمرون کے وزیر تجارت، رائٹ آنریبل لارڈ مارلینڈ (چیئرمین کامن ویلتھ انٹرپرائز اینڈ انویسٹمنٹ کونسل)، لارڈ سوائر، پروفیسر آصف چوہدری (بورڈ ممبر سی ڈبلیو ای آئی سی)، سعودی ایکساب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یزید صالح، مالٹا کے نائب وزیر اعظم سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔</p>
<p>ان ملاقاتوں میں وفاقی وزیر نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی متحرک قیادت میں پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال کو اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم، محفوظ اور سرمایہ کاری کیلئے سازگار ملک کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے، حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے مربوط اقدامات عالمی اعتماد کو مضبوط بنا رہے ہیں اور پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بنا رہے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے پاکستان میں ترجیحی شعبوں بشمول انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، انفرااسٹرکچر، زراعت اور مینوفیکچرنگ میں موجود متنوع سرمایہ کاری مواقع پیش کیے۔</p>
<p>انہوں نے خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) کی اہمیت پر بھی زور دیا جو پرکشش مراعات، جدید انفرااسٹرکچر اور علاقائی روابط فراہم کرتے ہیں جس کے باعث پاکستان علاقائی منڈیوں تک رسائی کا ایک اہم دروازہ بن چکا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات، تجارتی روابط کے فروغ اور مالیاتی خدمات، ڈیجیٹل حل اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر غور کیا گیا۔</p>
<p>ان ملاقاتوں سے پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں اور اسے ایک مسابقتی سرمایہ کاری مرکز بنانے کی کوششوں میں بڑھتی عالمی دلچسپی بھی ظاہر ہوئی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285342</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 14:11:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/21135946c62992e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/21135946c62992e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
