<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:53:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:53:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان کی واپسی اعتماد میں بہتری کی علامت ہے، محمد اورنگزیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285339/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان 4 سال کے وقفے کے بعد پرائیویٹ پلیسمنٹ یورو بانڈ کے ذریعے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ داخل ہوگیا جو سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے اعتماد کی علامت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے فنانس ڈویژن میں  یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر ریمنڈاس کروبلیس کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے میکرو اکنامک استحکام کی جانب پاکستان کی مستقل واپسی اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس کے ساتھ نئے سرے سے جڑنے کے عمل پر زور دیا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور حکومت کے منظم اور مستقبل پر مبنی معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کے پرائیویٹلی پلیسڈ یورو بانڈ کی ٹرانزیکشن میں سرمایہ کاروں نے گہری دلچسپی ظاہر کی جس کی وجہ سے اسے کامیابی کے ساتھ اپ سائز کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِخزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے پیر کو بتایا کہ پاکستان نے گرین شو آپشن استعمال کرتے ہوئے عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے پاس مزید 250 ملین ڈالر رکھے ہیں جس کے بعد 3 سالہ یورو بانڈز کا مجموعی حجم بڑھ کر 750 ملین ڈالر ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چار سال بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی پر توقع سے کہیں زیادہ مانگ کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سنگِ میل بہتر ہوتے ہوئے معاشی بنیادوں کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ پاکستان کے جڑنے کے عمل میں ایک مثبت سمت کا اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ حکومت متنوع کیپٹل مارکیٹ حکمت عملی پر فعال طریقے سے عمل پیرا ہے جس میں مستقبل کے بین الاقوامی بانڈز کا اجراء اور جدید مالیاتی ذرائع شامل ہیں۔ اس کا مقصد بیرونی ذخائر (ایکسٹرنل بفرز) کو مضبوط بنانا اور پائیدار مالیاتی نظام کو یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران یورپی یونین کے سفیر نے وزیرِ خزانہ کو 28 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی جسے وزیرِ خزانہ نے قبول کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے بڑی تعداد میں بین الاقوامی اور مقامی کاروباری نمائندوں کو اکٹھا کرنے کے لیے یورپی یونین کی کوششوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے کاروباری ماحول اور سرمایہ کاری کی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک قیمتی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جبکہ ان سے کاروباری اداروں کے درمیان (بی ٹو بی) بامقصد روابط کو بھی فروغ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے، غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانے اور پائیدار و ہمہ گیر ترقی کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے حکومت کی وسیع تر کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے معاشی لچک اور مضبوطی کو تقویت دینے میں اہم دو طرفہ شراکت داروں کے مسلسل تعاون کا اعتراف کیا اور اس سلسلے میں پائیدار بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے پاکستان کے بیرونی شعبے کے منظر نامے کے بارے میں پرامیدی کا اظہار کیا اور مسابقت بڑھانے، سرمایہ کاری کی آمد میں اضافے اور تجارتی مواقع کو وسعت دینے پر حکومت کی توجہ کا اعادہ کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت مسلسل پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی اور اسے پاکستان اور یورپی یونین کے معاشی تعلقات کا ایک اہم ستون قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو کہا ہے کہ پاکستان 4 سال کے وقفے کے بعد پرائیویٹ پلیسمنٹ یورو بانڈ کے ذریعے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ داخل ہوگیا جو سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے اعتماد کی علامت ہے۔</strong></p>
<p>ایک بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے فنانس ڈویژن میں  یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر ریمنڈاس کروبلیس کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے میکرو اکنامک استحکام کی جانب پاکستان کی مستقل واپسی اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس کے ساتھ نئے سرے سے جڑنے کے عمل پر زور دیا۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور حکومت کے منظم اور مستقبل پر مبنی معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے نوٹ کیا کہ پاکستان کے پرائیویٹلی پلیسڈ یورو بانڈ کی ٹرانزیکشن میں سرمایہ کاروں نے گہری دلچسپی ظاہر کی جس کی وجہ سے اسے کامیابی کے ساتھ اپ سائز کردیا گیا ہے۔</p>
<p>وزیرِخزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے پیر کو بتایا کہ پاکستان نے گرین شو آپشن استعمال کرتے ہوئے عالمی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے پاس مزید 250 ملین ڈالر رکھے ہیں جس کے بعد 3 سالہ یورو بانڈز کا مجموعی حجم بڑھ کر 750 ملین ڈالر ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چار سال بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی پر توقع سے کہیں زیادہ مانگ کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا وزیرِ خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سنگِ میل بہتر ہوتے ہوئے معاشی بنیادوں کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ پاکستان کے جڑنے کے عمل میں ایک مثبت سمت کا اشارہ ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ حکومت متنوع کیپٹل مارکیٹ حکمت عملی پر فعال طریقے سے عمل پیرا ہے جس میں مستقبل کے بین الاقوامی بانڈز کا اجراء اور جدید مالیاتی ذرائع شامل ہیں۔ اس کا مقصد بیرونی ذخائر (ایکسٹرنل بفرز) کو مضبوط بنانا اور پائیدار مالیاتی نظام کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران یورپی یونین کے سفیر نے وزیرِ خزانہ کو 28 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطح یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی جسے وزیرِ خزانہ نے قبول کر لیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے بڑی تعداد میں بین الاقوامی اور مقامی کاروباری نمائندوں کو اکٹھا کرنے کے لیے یورپی یونین کی کوششوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے کاروباری ماحول اور سرمایہ کاری کی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے ایک قیمتی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جبکہ ان سے کاروباری اداروں کے درمیان (بی ٹو بی) بامقصد روابط کو بھی فروغ ملتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے، غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر کو مضبوط بنانے اور پائیدار و ہمہ گیر ترقی کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے حکومت کی وسیع تر کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔</p>
<p>انہوں نے معاشی لچک اور مضبوطی کو تقویت دینے میں اہم دو طرفہ شراکت داروں کے مسلسل تعاون کا اعتراف کیا اور اس سلسلے میں پائیدار بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے پاکستان کے بیرونی شعبے کے منظر نامے کے بارے میں پرامیدی کا اظہار کیا اور مسابقت بڑھانے، سرمایہ کاری کی آمد میں اضافے اور تجارتی مواقع کو وسعت دینے پر حکومت کی توجہ کا اعادہ کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت مسلسل پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی اور اسے پاکستان اور یورپی یونین کے معاشی تعلقات کا ایک اہم ستون قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285339</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 13:33:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/2113192136a68c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="1150" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/2113192136a68c9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
