<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Financial</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 13:30:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 13:30:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امن مذاکرات کے انتظار میں ڈالر دباؤ کا شکار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40285314/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈالر اور جاپانی ین منگل کے روز دباؤ کا شکار رہے، جبکہ سرمایہ کار نسبتاً زیادہ خطرے والی کرنسیوں کی خریداری کی طرف متوجہ نظر آئے۔ مارکیٹ میں یہ امید بھی پائی جا رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ خلیجی خطے میں بحری تجارت کو دوبارہ کھول سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی ہے، کیونکہ جنگ بندی کی مدت اس ہفتے ختم ہو رہی ہے اور تہران نے ابھی تک سفارتی عمل سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ دونوں فریق معاہدے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ مذاکرات نسبتاً تیزی سے جاری ہیں اور ان کے نتیجے میں پہلے معاہدوں سے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1782 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.35225 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، دونوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ آسٹریلوی ڈالر بھی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 0.7171 ڈالر پر آ گیا۔ ڈالر انڈیکس 98.087 پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی اسٹریٹجسٹ کیرول کانگ کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں امریکہ ایران مذاکرات مارکیٹ کے لیے اہم ڈرائیور ہوں گے اور سرمایہ کار فی الحال انتظار کی پالیسی پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی ین 158.955 فی ڈالر کے قریب مستحکم رہا، جو 160 کی اہم حد کے قریب ہے جسے مارکیٹ میں ممکنہ حکومتی مداخلت کی سطح سمجھا جاتا ہے۔ توقع ہے کہ بینک آف جاپان اگلے ہفتے شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوزی لینڈ ڈالر 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 0.59085 ڈالر پر پہنچ گیا، جہاں مہنگائی کی شرح 3.1 فیصد پر برقرار رہی جو مرکزی بینک کے ہدف سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں فیڈرل ریزرو کے ممکنہ سربراہ کیون وارش سینیٹ کی سماعت میں یہ مؤقف پیش کریں گے کہ مانیٹری پالیسی کو مکمل طور پر آزاد رکھا جانا ضروری ہے۔ آج امریکی ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار بھی جاری ہوں گے جن میں 1.4 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈالر اور جاپانی ین منگل کے روز دباؤ کا شکار رہے، جبکہ سرمایہ کار نسبتاً زیادہ خطرے والی کرنسیوں کی خریداری کی طرف متوجہ نظر آئے۔ مارکیٹ میں یہ امید بھی پائی جا رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ خلیجی خطے میں بحری تجارت کو دوبارہ کھول سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی ہے، کیونکہ جنگ بندی کی مدت اس ہفتے ختم ہو رہی ہے اور تہران نے ابھی تک سفارتی عمل سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ دونوں فریق معاہدے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ مذاکرات نسبتاً تیزی سے جاری ہیں اور ان کے نتیجے میں پہلے معاہدوں سے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔</p>
<p>کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1782 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.35225 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، دونوں میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ آسٹریلوی ڈالر بھی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 0.7171 ڈالر پر آ گیا۔ ڈالر انڈیکس 98.087 پر مستحکم رہا۔</p>
<p>کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی اسٹریٹجسٹ کیرول کانگ کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں امریکہ ایران مذاکرات مارکیٹ کے لیے اہم ڈرائیور ہوں گے اور سرمایہ کار فی الحال انتظار کی پالیسی پر ہیں۔</p>
<p>جاپانی ین 158.955 فی ڈالر کے قریب مستحکم رہا، جو 160 کی اہم حد کے قریب ہے جسے مارکیٹ میں ممکنہ حکومتی مداخلت کی سطح سمجھا جاتا ہے۔ توقع ہے کہ بینک آف جاپان اگلے ہفتے شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا۔</p>
<p>نیوزی لینڈ ڈالر 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 0.59085 ڈالر پر پہنچ گیا، جہاں مہنگائی کی شرح 3.1 فیصد پر برقرار رہی جو مرکزی بینک کے ہدف سے زیادہ ہے۔</p>
<p>امریکہ میں فیڈرل ریزرو کے ممکنہ سربراہ کیون وارش سینیٹ کی سماعت میں یہ مؤقف پیش کریں گے کہ مانیٹری پالیسی کو مکمل طور پر آزاد رکھا جانا ضروری ہے۔ آج امریکی ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار بھی جاری ہوں گے جن میں 1.4 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40285314</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:44:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/210942560da8297.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/210942560da8297.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
